Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
مجلہ’’ المنار‘‘ (شمارہ نمبر 39)جامعہ سلفیہ، بنارس
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے ۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے ۔اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام ،ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی دارالحدیث رحمانیہ ، دہلی ، جامعہ سلفیہ ،بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد ، جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور،جامعہ اہل حدیث ،لاہور ،جامعہ ستاریہ اسلامیہ،جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں ۔ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب طلباء جامعہ سلفیہ ،بنارس کے علمی وفکری ترجمان مجلہ’’ المنار جامعہ سلفیہ، بنارس‘‘ کاشمارہ نمبر 39 ہے ۔ یہ مجلہ جامعہ سلفیہ (مرکزی دار العلوم) بنارس میں ندوۃ الطلباء کا سالانہ میگزین ہے ۔طلباء جامعہ اپنے اساتذہ کرام کی زیر نگرانی ہندوستان میں رائج مختلف زبانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے مضامین مختلف زبانوں میں پیش کرتے ہیں ۔ سالانہ میگزین ہونے کی وجہ سے اس میں طلباء جامعہ کی سال بھر کی سرگرمیوں کی رپوتاز بھی اس میں شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ ادارے کو مزید ترقیوں سے ہمکنار کرے اور طلباء واساتذہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔( آمین)(م۔ا)رسائل وجرائد دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے ۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے ۔اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام ،ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی دارالحدیث رحمانیہ ، دہلی ، جامعہ سلفیہ ،بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد ، جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور،جامعہ اہل حدیث ،لاہور ،جامعہ ستاریہ اسلامیہ،جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں ۔ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب طلباء جامعہ سلفیہ ،بنارس کے علمی وفکری ترجمان مجلہ’’ المنار جامعہ سلفیہ، بنارس‘‘ کاشمارہ نمبر 39 ہے ۔ یہ مجلہ جامعہ سلفیہ (مرکزی دار العلوم) بنارس میں ندوۃ الطلباء کا سالانہ میگزین ہے ۔طلباء جامعہ اپنے اساتذہ کرام کی زیر نگرانی ہندوستان میں رائج مختلف زبانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے مضامین مختلف زبانوں میں پیش کرتے ہیں ۔ سالانہ میگزین ہونے کی وجہ سے اس میں طلباء جامعہ کی سال بھر کی سرگرمیوں کی رپوتاز بھی اس میں شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ ادارے کو مزید ترقیوں سے ہمکنار کرے اور طلباء واساتذہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔( آمین)(م۔ا)رسائل وجرائد دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے ۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے ۔اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام ،ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی دارالحدیث رحمانیہ ، دہلی ، جامعہ سلفیہ ،بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد ، جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور،جامعہ اہل حدیث ،لاہور ،جامعہ ستاریہ اسلامیہ،جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں ۔ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب طلباء جامعہ سلفیہ ،بنارس کے علمی وفکری ترجمان مجلہ’’ المنار جامعہ سلفیہ، بنارس‘‘ کاشمارہ نمبر 39 ہے ۔ یہ مجلہ جامعہ سلفیہ (مرکزی دار العلوم) بنارس میں ندوۃ الطلباء کا سالانہ میگزین ہے ۔طلباء جامعہ اپنے اساتذہ کرام کی زیر نگرانی ہندوستان میں رائج مختلف زبانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے مضامین مختلف زبانوں میں پیش کرتے ہیں ۔ سالانہ میگزین ہونے کی وجہ سے اس میں طلباء جامعہ کی سال بھر کی سرگرمیوں کی رپوتاز بھی اس میں شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ ادارے کو مزید ترقیوں سے ہمکنار کرے اور طلباء واساتذہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔( آمین)(م۔ا)
عصر حاضر میں اسلامی قانون کی معنویت
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
ساری کائنات کا خالق ،مالک اور رازق اللہ تعالی ہے۔وہی اقتدار اعلی کا بلا شرکت غیرے مالک اور انسانوں کا رب رحیم وکریم ہے۔انسانوں کے لئے قوانین حیات مقرر کرنا اسی کا اختیار کلی ہے۔اس کا قانون عدل بے گناہ افراد میں اطمینان خاطر پیدا کرتا ہے اور بڑے جرائم پر اس کی مقرر کردہ سخت سزائیں مجرموں کو ارتکاب جرم سے روکنے ،انہیں کیفر کردار تک پہنچانے اور دوسرے افراد کے لئے عبرت وموعظت کا سامان مہیا کرنے کا باعث ہیں۔اسلامی قانون عدل وانصاف کی ضمانت فراہم کرتا ہے،معاشرتی حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور عزت وحرمت کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔انسانوں اور رب کے باہمی تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں زندگی میں وہ راحت،آرام اور آسائشیں پیدا ہوں جن کا قرآن حکیم میں بار بار وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد معاشرے سے فیڈ بیک ملتی ہے وہ کسی طرح حوصلہ افزاء نہیں ہے۔اس لئے اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا معاذ اللہ خدائی قوانین اپنی تاثیر کھو چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " عصر حاضر میں اسلامی قانون کی معنویت " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےدو روزہ قومی سیمینار مؤرخہ28 ،29مئی 2011ء منعقدہ انڈین لا انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی اسلامی قانون کی عصر حاضر میں اہمیت ومعنوی کے موضوع پرپیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مختصر سیرت خلفائے راشدین ( مختلف علمائے کرام کے کلام سے )
Authors: مختلف اہل علم
اسلام کی ابتدائی تاریخ کے خلفاء اربعہ کو’’خلفائے راشدین ‘‘ کہا جاتا ہے ۔یہ خلفاء کرام عہد نبوت میں ہی ہر لحاظ سے دیگر صحابہ کرام کےمقابلے میں ایک امتیازی شان و مقام رکھتےتھے ۔تمام صحابہ کرام کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی بے چوں وچراں پیروی کی اور آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ وعمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدینکے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرامکے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ زیر نظرکتابچہ’’مختصر سیرت خلفائے راشدین‘‘جناب طارق علی بروہی﷾ کا مرتب کردہ ہے ۔فاضل مرتب نے مختلف علماء کرام کے بیانات اور تحریروں سے مختصراً خلفاء راشدین(سیدنا ابو صدیق،سیدعمرفاروق،سیدنا عثمان غنی،سید علی ) کے فضائل ومناقب اورسیرت کے متعلق مواد کو اخذ کر کے مرتب کیا اور افادۂ عام کے لیے اسکا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ان کےمیزانِ حسنات میں اضافہ کا ذریعہ بنائے اور ہمیں خلفائے راشدین کی سیرت کو اختیار کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)
صحیح اسلامی عقیدہ حصہ 1
Authors: مختلف اہل علم
اسلام کی فلک بوس عمارت عقیدہ کی اسا س پر قائم ہے ۔ اگر اس بنیاد میں ضعف یا کجی پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عقائد کی تصحیح اخروی فوزو فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی جانے والی برگزیدہ شخصیات سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ معظمہ میں تیرا سال کا طویل عرصہ صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم سامنے آئے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے زیر نظر کتاب ’’ صحیح اسلامی عقیدہ‘‘ مدینہ یونیورسٹی اور جامعۃالامام محمد بن سعود ،الریاض کے اساتذہ کی ٹیم کی تیار کردہ کتاب کا اردو ترجمہ ہے جوکہ چھ حصوں پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب جامعہ سلفیہ ،بنارس اور ہندوستان کے کئی سلفی مدارس میں شامل نصاب ہے۔یہ کتاب اسلامی عقیدہ سیکھنے اور مسلمانوں کےحالات کی اصلاح کے لیے بہترین کتاب ہے ۔مصنفین نے اس کتاب میں شامل تمام موضوعات کو عمدہ اور ایسے سادہ عبارت واسلوب میں بیان کیا ہے کہ جن سے عقائد کے مسئلہ میں پڑھنے والے کو پوری تشفی حاصل ہوجاتی ہے ۔ صحیح عقیدہ کی تعلیم واشاعت کے سلسلہ میں مصنفین کےاخلاص کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ کتاب کی تیاری کے بعد انہوں نے اسےبراعظم افریقہ کے بعض مدارس اور وہاں منعقد ہونے والے تدریبی دوروں میں پڑھانے کاانتطام کراکر اس بات کا اطمینان حاصل کیا ہےکہ کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مصنفین ،مترجم وناشرین کی اس عمدہ کاوش کوقبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)
رہبر خطابت
Authors: مختلف اہل علم
دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے ۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے ۔شریعت اور اس کے مسائل سےآگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام وخرافات کی جڑیں کٹتی ہیں۔دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد کے بہت سے وسائل واسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے ۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر نظر کتاب’’ رہبر خطابت‘‘ دس افراد کی مشترکہ کاوش ہے ۔ یہ کتاب 61 مختلف موضوعات پر مشتمل خطبات کا مجموعہ ہے۔ یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب حق ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا علمی مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ خطبات علماء وخطباء اور اہل علم کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی تحفہ اورآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے۔کتاب کے وسیع مقدمہ میں خطبہ کے سنن وواجبات، شروط وارکان اوراحکام ومسائل کے علاوہ ایک کامیاب خطیب کےاچھے اوصاف کو اچھے انداز میں پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتبین وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔((آمین)(م۔ا)
الانتقاد اشاعت خاص امام ابو الطیب شمس الحق عظیم آبادی
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
علامہ شمس الحق عظیم آبادی( 1273ھ ؍ 1857ء -1911ء ؍ 1329ھ) عالم اسلام کے مشہور عالم، مجتہد و محدث تھے۔ وہ عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار سید نذیر حسین محدث دہلوی اور شیخ حسین بن محسن یمانی کے خاص تلامذہ میں ہوتا ہے۔ وہ اہل حدیث مسلک کے اکابر علما میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ ان کی تصانیف حدیث سے پورے عالم اسلام نے استفادہ کیا اور حدیث کا کوئی طالب علم ان کی خدمات سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پٹنہ کے اطراف میں واقع ایک بستی ڈیانواں میں گزرا اسی لیے انہیں ’’ محدث ڈیانوی ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور وہ ڈیانوی کی صفت نسبتی سے بھی معروف ہیں ۔ موصوف کی مشہور تصانیف میں ’’ غایۃ المقصود شرح سنن ابی دادو ‘‘، ’’ عون المعبود علی سنن ابی داود ‘‘، ’’ التعلیق المغنی شرح سنن الدارقطنی ‘‘، ’’ رفع الالتباس عن بعض الناس ‘‘، ’’ اعلام اھل العصر باحکام رکعتی الفجر ‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کا انتقال مارچ 1911ء / 1329ھ کو ڈیانواں میں ہوا۔کئی اہل علم سوانح نگاروں نے علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی حیات وخدمات کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الانتقاد ‘‘ مولانا محمد تنزیل الصدیقی الحسینی صاحب (مدیر مجلہ الواقعہ ،کراچی ) کےکتابی سلسلے ’’ الانتقاد ‘‘ کا پہلا شمارہ اگست 2010ء ہے جو کہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی حیات وخدمات پ مشتمل ہے۔ تنزیل الصدیقی صاحب نے اس اشاعت خاص میں محدث عظیم آبادی کی زندگی کےایسے کئی گوشے جمع کردئیے ہیں جو پہلی بار یکجا قرطاس ِابیض پر منتقل کیے گئے ہیں ان کی زندگی کےمختلف گوشے،ان کی تصانیف کی تعداد، ان کےتلامذۂ کرام كا تذکرہ اس اشاعت خاص میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ محدث ڈیانوی کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔آمین (م۔ا)
ہفت روزہ اہلحدیث ( شیخ الحدیث نمبر )
Authors: مختلف اہل علم
In History
شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ(1920ء-2001ء) بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے سرفہرست اُستاذ الاساتذہ مولانا حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ ان سے آپ نے مشکوٰة المصابیح، موطأ امام مالک، ہدایہ، شرح وقایہ، مسلم الثبوت، شرح جامی، اشارات، کافیہ اور صحیح بخاری پڑھیں۔آپ کے دوسرے نامور استاد شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ہیں جن سے آپ نے جامع ترمذی، سنن نسائی، ابوداود اور صحیح مسلم کے علاوہ مختصر المعانی اور مطوّل وغیرہ کا علم حاصل کیا۔ ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً مدرسہٴ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغازتدریس آغاز کیا۔ مولانا اسماعیل سلفی کی وفات (۱۹۶۸ء)کے بعد گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔۲۸؍اپریل ۲۰۰۱ء کو صبح چھ بجے گوجرانوالہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ سہ پہرساڑھے پانچ بجے شیرانوالہ باغ میں پڑھی گئی جو گوجرانوالہ شہر کی تاریخی نماز جنازہ تھی۔ جس میں بلا امتیاز ہر مکتب ِفکر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی .مولانا مرحوم کی حیات وخدمات سےمختلف اہل قلم نے متعدد مضامین تحریر کیے جو مختلف جماعتی رسائل میں طبع ہوئے ۔ زیر نظر ’’ شیخ الحدیث نمبر‘‘ مرکز ی جمعیت اہل حدیث کے ترجمان رسالہ ہفت روزہ اہل حدیث کی مولانا شیخ الحدیث محمد عبد اللہ کی مجاہدانہ خدمات، حلالت علمی اور مساعی جمیلہ سے متعلق د وصفحات پر مشتمل اشاعت خاص ہے۔اس اشاعت خاص میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ کی زمانہ طالب علمی، تدریسی سفر، آغاز خطابت، اتباع کتاب وسنت، حق گوئی وبےباکی، امانت ودیانت، مناظرانہ گرفت،جماعت میں مثالی اورسیاست میں قائدانہ کردار۔قوت استدلال، جذبہ ایثاررووفا،حالات حاضرہ پر گہری نظر، علمی وجاہت، خود اعتمادی اور غیر ملکی تبلیغی اسفار جیسے دیگر بیسیوں موضوع اس خصوصی اشاعت میں سمیٹ دئیے گئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔(م۔ا)
ماہنامہ الاتحاد ممبئی عظمت صحابہ نمبر
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
صحابہ کرام کی عظمت سے کون انکار کرسکتاہے۔یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔لیکن اس پر فتن دور میں بعض بدبخت لوگ ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوکر اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کودعوت دیتے ہیں ۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے، سوانح حیا ت، عظمت ودفاع سے متعلق ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں۔زیر نظر مجلہ ’’ماہنامہ الاتحاد ممبئی کا عظمت صحابہ نمبر ہے۔یہ مذکورہ ررسالے کا اکتوبر ؍نومبر 2019ء کا شمارہ ہے جو کہ 188 صفحات پر مشتمل ہے۔ مدیر مجلہ ہذا جناب بلال ہدایت سے نے صحابہ کرام کی عظمت ورفعت سےمتعلق مختلف اہل قلم کے تقریبا چالیس مضامین کو بڑے احسن اندازمیں مرتب کردیا ہے۔ان مضامین میں صحابہ کرام کے حوالے سے اہل سنت والجماعت کے موقف کوواضح کیا ہے اور قرآن واحادیث کےناقلین کی عظمت ورفعت کوعیا ں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس خاص نمبر کو مرتب وشائع کرنے والے جملہ احباب کی مساعی کو قبول فرمائے ۔ اور ہمیں صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کوسمجھنے اوران کی مبارک زندگیوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین) (م۔)
سرمایہ داری کا مستقبل
Authors: مختلف اہل علم
زیر نظر کتاب’’سرمایہ دارِی کا مستقبل‘‘ پانچ مغربی مصنفین(عمانویل الرسٹائن، رنڈل کولنز، مائیکل مین، جارجی درلوگاں کریگ کلہون) کی مشترکہ تصنیفDoes Capitalism Have a Future? کا اردو ترجمہ ہے ۔تفہیم مغرب کے سلسلہ میں جناب صابر علی صاحب نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے افادۂ عام کے لیے پیش کیا ہے۔اس کتاب میں مذکورہ پانچ ماہرین سماجیات تاریخ عالم کے اپنے اپنے علم کی بنیاد پر اپنے اپنے انداز میں بحث کرتے ہیں کہ آنے والے دور میں کیا چیلنج اور مواقع پیدا ہوں گے ۔ کتاب ہذا میں حسب ِذیل عنوانات قائم کر کے (سرمایہ داروں کے لیے سرمایہ دار منافع بخش کیوں رہے گی۔مڈل کلاس کا خاتمہ ،خاتمہ قریب ہو سکتا ہے لیکن کن کےلیے ؟کمیونزم کیاتھا؟اب سرمایہ داری کو کیا خطرات ہیں؟) سرمایہ داری کے مستقبل کو پیش کیا گیا۔ (م۔ا)