Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
السیاسۃ الشرعیۃ۔ حکمران بیورو کریسی اور عوام
Authors: امام ابن تیمیہ
In Biography
دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حکمران بیورو کریسی اور عوام‘‘ امام ابن تیمیہ کی معروف کتاب ’’السیاسیۃ الشرعیہ‘‘ کا اردو رترجمہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے، اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری و لازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی حکومتوں کے ایوانوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ (م۔ا)
العقیدۃ الواسطیۃ اردو
Authors: امام ابن تیمیہ
عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے جہاں نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نے بھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ رسالہ آپ نے مقام واسط کے قاضی شیخ رضی الدین واسطی شافعی کی فرمائش پر تحریر کیا اور اسے اپنے عقیدہ کی بنیاد قرار دیا جس وجہ اس مختصر رسالہ کی امام صاحب کی عقیدہ کے متعلق تصنیف کردہ دوسری کتب سے اہمیت زیادہ ہے۔ امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس، الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں۔ عقیدہ واسطیہ اپنی افادیت وجامعیت کی وجہ سے کئی عرب یونیورسٹیوں اور پاک و ہند کے عربی اسلامی مدارس میں شامل نصاب ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’عقیدہ واسطیہ‘‘ کے متن کا ترجمہ ہے یہ ترجمہ شیخ صفی احمد مدنی نے کیا ہے۔ تاکہ مدارس کے طلباء وطالبات اور دیگر بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ (م۔ا)
اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا
Authors: امام ابن تیمیہ
In Arguments
امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔ نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی پر عمل کرنے میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان اور حضرت علی نےبھی اپنے عہد میں اس نظام کو مضبوط بنایا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ الرئاسة العامة لهئية الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے نام سے بڑا موثر کردار کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی سعودی عرب میں اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اچھائی حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کے ایک مختصر عربی رسالہ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر کا ترجمہ ہے شیخ موصوف نے اس کتابچہ میں قرآن اور سنت کی روشنی میں اس موضوع پر اسلا م کا نقطہ نظر بیان کیا ہے ۔ جونہایت ہی قابل قدر عمل ہے ۔ محترم رانا خالد مدنی ﷾ نےاسی لیے اس کتابچہ کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے كہ عوام الناس بھی اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ (م۔ا)
اتباع الرسول بصریح المعقول
Authors: امام ابن تیمیہ
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اصلاحی وتجدیدی زندگی کا واحد مشن یہ تھا کہ اسلام فکر وعمل کی جن بدعات کا شکار ہوگیا ہے اور اس کے صاف ستھرے عقائد وتصورات میں آلائش اور بگاڑ کی جو صورتیں ابھر آئی ہیں ان کو دور کیا جائے اور بتایا جائے کہ اصلی اور حقیقی اسلام کا ان مزخرفا سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے۔آپ کی ساری عمر اسلام کے رخ زیبا کو سنوارنے اور جلا بخشنے میں بسر ہوئی ہے۔آپ کی تگ ودو، تحریر وتقریر اور غور وتعمق کا موضوع ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس سر چشمہ حیات کو کیوں کر اس انداز سے پیش کیا جائے کہ پیاسی اور تشنہ روحیں پھر سے تسلین حاصل کر سکیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جس اخلاص، جس زور اور بلند آہنگی کے ساتھ امام ابن تیمیہ نے تجدیدواصلاح کے اس فریضے کو انجام دیا، اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اتباع الرسول بصریح المعقول " میں بھی امام ابن تیمیہ نے اسلام کی روشن تعلیمات کو اجاگر کیا ہے۔کتاب کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن عزیز صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مسنون ذکر الہی دعائیں
Authors: امام ابن تیمیہ
ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا ،یاد تازہ کرنا ،کسی شئے کو بار بار ذہن میں لانا ،کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ذکر الہٰی یادِ الہٰی سے عبارت ہے ذکر الہٰی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں۔ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبود حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔ ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت الہٰی ہے اور تمام عبادات کا مقصودِ اصلی یادِ الہٰی ہے ۔کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد سے خالی نہیں۔مردِ مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضائے الہٰی کا حصول ہو ۔یوں ذکرِ الہٰی رضائے الہٰی کا زینہ قرار پاتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جابجا ذکر الہٰی کی تاکید کی گئی ہے۔ کثرت ذکر محبت الہٰی کا اولین تقاضا ہے :انسانی فطرت ہے کہ وہ اس چیز کو ہمیشہ یاد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا لگاؤ کی حدتک گہرا تعلق ہو ۔وہ کسی صورت میں بھی اسے بھلانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسنون ذکر الٰہی دعائیں ‘‘ مولانا محمد منیر قمر کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں فضائل ِ ذکر اور کلماتِ ذکر اور اقسام ذکر بیان کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین(رفیق الرحمن)
خلاف الامۃ فی العبادات
Authors: امام ابن تیمیہ
امت میں اختلاف کا ہونا ناگزیر ہے، ہر دور میں ہوتا آیاہے اور ہوتا رہے گا، حقیقت میں یہ بھی اللہ کی قدرت کا مظاہرہ ہے اس کو کوئی مٹانے کے درپے ہوتو بھی مٹ نہیں سکتا، یہ الگ بات ہے کہ ہر اختلاف نہ تو مذموم ہے اور نہ ہی ہر اختلاف محمود ہوسکتا، وہ اختلاف جس کا منشاء وسبب قبیح ہو وہ اختلاف یقینا مذموم ہے، اختلاف خواہ مذموم ہو یا محمود اس کے حدود سے تجاوز کرنا اور مخالفین کے ساتھ اعتدال سے ہٹ کر افراط وتفریط کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ فقہی مباحث میں جو کچھ اختلاف پایا جاتا ہے اس کا اکثر حصہ افضلیت و اولیت پر مبنی ہےایک نوع فروعی واجتہادی اختلاف کی ہے، یہ اختلاف محمود ہے۔ جس طرح انبیاء کی شریعتیں الگ الگ رہی ہیں، فروعی مسائل میں ہر مجتہد کی آراء مختلف ہوئی ہیں، کسی کو باطل نہیں کہا جاسکتا، اس قسم کا اختلاف امت کی آسانی کے لیے ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’خلاف الامۃ فی العبادات‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا ایک اہم رسالہ ہے ۔امام موصوف نے اس میں اختلافات امت کے اسباب وعلل پر نہایت گراں قدر تحریری سرمایہ محفوظ کردیا ہے ۔ جونہایت جامع بھی ہے اور انتہائی موثر بھی ۔ اور بالخصوص اپنی دینی معاملات کی رہمائی کے لیے جس سبیل ہدایت کی ضرروت ہے اس میں ا س کی نشاندہی کردی گئی ہے۔علمی حلقوں کی معروف شخصیت مولانا عبد الرحیم پشاوری ﷾ نےاس کتابچہ کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔مترجم موصوف نے اس کے علاوہ بھی امام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم کی کئی کتب کے اردو ترجمے کیے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مساعی حسنہ کا قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)
کیا ذبح کے لیے عقیدہ کا صحیح ہونا ضروری ہے ؟
Authors: امام ابن تیمیہ
ہر جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے، خواہ وہ قربانی کا جانور ہو یا عام جانور۔ذبح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائیں پہلو (کروٹ)پرقبلہ رخ لٹاکر’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئےتیزدھار چھری سے اس طرح ذبح کریں کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی کٹ جائے، ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائےحضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم ﷺنے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ،اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ ، اللہ اکبر پڑھا ،اور ان کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔‘‘( صحيح مسلم: 1556)جانور ذبح کرنے سے متعلق ایک یہ مسئلہ کہ کیا ذبح کےلیے عقیدہ کا صحیح ہونا ضروری ہے؟مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسینگ ،پاکستان نے علماء سلف( شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز،سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم رحمہم اللہ ) کے فتاویٰ جات کی روشنی میں زیر نظر کتابچہ بعنوان’’ کیا ذبح کےلیے عقیدہ کا صحیح ہونا ضروری ہے؟ ‘‘ مرتب کیا ہے۔ اس کتابچہ کامواد فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ سے ماخوذ ہے۔اور یہ اس کتابچہ کا آن لائن ایڈیشن ہے۔(م۔ا)
قبروں کی زیارت اوران محفلوں میں شریک ہونا ...
Authors: امام ابن تیمیہ
عبرت حاصل کرنے اور آخرت کو یاد رکھنے کے لیے قبروں کی زیارت کرنا شرعی عمل ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ قبروں کی زیارت کرتے وقت زیارت کرنے والاایسے کلمات نہ کہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنے، مثلاً: اللہ تعالی کو چھوڑ کر قبر میں دفن شدہ سے مانگنا اور اسے پکارنا، اس سے مدد طلب کرنا، یا اس کی شان میں قصیدے پڑھنا ، اور اسے یقیناً جنتی قرار دینا۔مُردوں کے لیے دعا اور نصیحت کی غرض سے قبروں کی زیارت کرنا مسنون بھی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ پس تم زیارت کرو بے شک وہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی ‘‘(صحیح مسلم ) زیر نظر کتابچہ ’’ قبروں کی زیارت اور ان محفلوں میں شریک ہوناجن کےبارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہاں اولیاء کی روحیں حاضر ہوتی ہیں ..‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ایک فتویٰ بعنوان زيارة القبوروشهود مناسبة يزعمون فيهاحضور أرواح الأولياء کا اردو ترجمہ ہے۔جناب عزیز الرحمن ضیاء اللہ سنابلی صاحب نے ’’اسلام سوال وجواب سائٹ ‘‘ سے حاصل کرکےاس کی مراجعت کی ہے ۔یہ کتابچہ امام ابن تیمیہ کی معروف کتاب’’مجموع فتاویٰ ‘‘ کی جلد 27ص72۔75 سے ماخوذ ہے۔ (م۔)
رسائل امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ
Authors: امام ابن تیمیہ
In Biography
شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیااورمتکلمین، فلاسفہ اور منطقیین کا خوب ردّ کیا ۔ زیر نظر کتاب’’رسائل امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے چند رسائل کے اردو تراجم کا مجموعہ ہے ۔اس میں درج ذیل رسائل شامل ہیں زیارۃ القبور؛شرک کیا ہے؛گانا بجانا سننا اور قوالی ؛روزے کی حقیقت ؛زیارت بیت المقدس؛قضاءوقدر؛النیۃ فی العبادات؛مسائل نیت؛ہجرجمیل ، صفح جمیل،صبر جمیل؛قولی واعتقادی لغزشیں ؛ فقر وتصوف ؛الوصیۃ الصغری ٰ؛درجات الیقین اور آخر میں امام ابن قیم رحمہ اللہ کی كتاب روضةالمحبین ونزهةالمشتاقين کے آخری باب کا ترجمہ بھی اس میں شامل ہے۔(م۔ا)