عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے جہاں نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نے بھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ رسالہ آپ نے مقام واسط کے قاضی شیخ رضی الدین واسطی شافعی کی فرمائش پر تحریر کیا اور اسے اپنے عقیدہ کی بنیاد قرار دیا جس وجہ اس مختصر رسالہ کی امام صاحب کی عقیدہ کے متعلق تصنیف کردہ دوسری کتب سے اہمیت زیادہ ہے۔ امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس، الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں۔ عقیدہ واسطیہ اپنی افادیت وجامعیت کی وجہ سے کئی عرب یونیورسٹیوں اور پاک و ہند کے عربی اسلامی مدارس میں شامل نصاب ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’عقیدہ واسطیہ‘‘ کے متن کا ترجمہ ہے یہ ترجمہ شیخ صفی احمد مدنی نے کیا ہے۔ تاکہ مدارس کے طلباء وطالبات اور دیگر بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ (م۔ا)