امت میں اختلاف کا ہونا ناگزیر ہے، ہر دور میں ہوتا آیاہے اور ہوتا رہے گا، حقیقت میں یہ بھی اللہ کی قدرت کا مظاہرہ ہے اس کو کوئی مٹانے کے درپے ہوتو بھی مٹ نہیں سکتا، یہ الگ بات ہے کہ ہر اختلاف نہ تو مذموم ہے اور نہ ہی ہر اختلاف محمود ہوسکتا، وہ اختلاف جس کا منشاء وسبب قبیح ہو وہ اختلاف یقینا مذموم ہے، اختلاف خواہ مذموم ہو یا محمود اس کے حدود سے تجاوز کرنا اور مخالفین کے ساتھ اعتدال سے ہٹ کر افراط وتفریط کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ فقہی مباحث میں جو کچھ اختلاف پایا جاتا ہے اس کا اکثر حصہ افضلیت و اولیت پر مبنی ہےایک نوع فروعی واجتہادی اختلاف کی ہے، یہ اختلاف محمود ہے۔ جس طرح انبیاء کی شریعتیں الگ الگ رہی ہیں، فروعی مسائل میں ہر مجتہد کی آراء مختلف ہوئی ہیں، کسی کو باطل نہیں کہا جاسکتا، اس قسم کا اختلاف امت کی آسانی کے لیے ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’خلاف الامۃ فی العبادات‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا ایک اہم رسالہ ہے ۔امام موصوف نے اس میں اختلافات امت کے اسباب وعلل پر نہایت گراں قدر تحریری سرمایہ محفوظ کردیا ہے ۔ جونہایت جامع بھی ہے اور انتہائی موثر بھی ۔ اور بالخصوص اپنی دینی معاملات کی رہمائی کے لیے جس سبیل ہدایت کی ضرروت ہے اس میں ا س کی نشاندہی کردی گئی ہے۔علمی حلقوں کی معروف شخصیت مولانا عبد الرحیم پشاوری ﷾ نےاس کتابچہ کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔مترجم موصوف نے اس کے علاوہ بھی امام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم کی کئی کتب کے اردو ترجمے کیے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مساعی حسنہ کا قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)