Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
تحریک جہاد جماعت اہلحدیث اور علمائے احناف
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
In Fiqha
دار العلوم دیو بند اور اس کے فیض یافتگان کی علمی ودینی خدمات برصغیر پاک وہند کی تاریخ کا ایک اہم باب ہےاور ان دوائر میں اپنے مخصوص فقہی نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے جو کام کئے ہیں،اختلاف کے باوجود ان سے مجال انکار نہیں ہے۔لیکن تعلیمی ،تدریسی،تبلیغی اور تصنیفی خدمات کا دائرہ قومی وسیاسی خدمات سے مختلف ہے۔ضروری نہیں کہ تعلیم وتدریس اور تبلیغ سے شغف اور وابستگی رکھنے والا سیاست کا مرد میدان بھی ہو۔افسوسناک بات یہ ہے کہ وابستگان دیو بند نے اپنے اکابر کی سوانح وخدمات بیان کرنے میں اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جن تک وہ اپنے اکابر کو میدان سیاست کا رستم وسہراب ثابت نہ کر دیں ،ان کی علمی عظمت اور تاریخی اہمیت ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔لہذا انہوں نے تاریخ نگاری کی بجائے تاریخ سازی کا راستہ اختیار کیا اور متعدد ایسے فضائل اپنے نام کرنے کی کوشش کی جن کا ان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جہاد ،جماعت اہل حدیث اور علمائے احناف " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، عظیم مفسر قرآن اور انٹر نیشنل مکتبہ دار السلام کے شعبہ تحقیق کے مدیر محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے دیوبندی اہل قلم کے افتراءات والزامات اور ان کی تاریخ سازی کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ تحریک جہاد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اہل حدیث علماء کرام تھے ،جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں اور تختہ دار پر جھول گئے۔(راسخ)
اسلامی خلفاء و ملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
In History
ایک نکتہ داں شخص نے کسی قدر سچ کہا ہے کہ "ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کر لیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر یورپ کے مردوں نے فتح پا لی ہے۔"ہر موقع اور ہر محل پر جب شجاعت،ہمت،غیرت،علم وفن الغرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کی بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم سے قومی حمیت کا مادہ بالکل جاتا رہا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ےعلیم میں ابتداء سے انتہاء تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لئے جب خصائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا نام زبان پر آجاتا ہےجن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ" جماعت اہل حدیث کے معروف اور نامورمفسر مولف محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں "اسلامی ریاست کے تصور" کو اجاگر کرنے اور اسلامی کے نامور حکمرانوں اور مشاہیر کی سوانح حیات کو قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے نمونے کو اپنانے کی جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
مولانا امین احسن اصلاحی(1904ء۔1947ء) اعظم گڑھ کے ایک گاؤں موضع بمہور میں پیداہوئے۔موصوف مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور ان کے افکار ونظریات کے ارتقا کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔مولانا امین احسن اصلاحی کی ابتدائی تعلیم وتربیت گاؤں کے دو مکتبوں میں ہوئی سرکاری مکتب میں مولوی بشیر احمد جبکہ دینی مکتب میں مولوی فصیح احمد ان کے استاد تھے یہاں سے آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔دس سال کی عمر میں مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل ہوئے یہاں آٹھ سال تعلیم حاصل کی ۔اس عرصے میں آپ نے عربی زبان،قرآن، حدیث،فقہ اور کلامی علوم کی تحصیل کی ،اردو ،فارسی ،انگریزی اور بالخصوص عربی میں اس قدر دسترس حاصل کی کہ آئندہ کے تحقیق وتدبر کی راہیں خود طے کرسکیں مولانا امین احسن اصلاحی دوران تعلیم ایک ذہین اور قابل طالب علم کی حیثیت سے نمایاں رہے۔مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی صحافت سے منسلک ہوگئے۔1925ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ استاد کے طریقہ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی ،عربی شاعری کی مشکلات میں ان سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور فلسفہ کی بعض کتب بھی ان سے پڑھیں۔مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے’’تدبر قرآن ‘‘ کےنام سے ایک ایسی تفسیر لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غماز ہے،مولانا اصلاحی صاحب نےاپنے استاد فراہی صاحب سے متأثر ہوکر انکار حدیث کے نظریے کو اختیار کیا۔مولانا فکری تضاد اور انتشار کا شکار تھے ان کی تصانیف اس پر شاہد ہیں۔مولانااصلاحی نے فکرفراہی کواپنی تفسیرتدبرقرآن اور دیگر کتب کے واسطے سے انہیں عامۃ الناس میں پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ۔بہت سے جید علماء نے مولانا اصلاحی کےتفسیری تفردات اور ان کی فکری گمراہیوں کو واضح کیا ہےجن میں عصر حاضر کی نامور شخصیت مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب سرفہرست ہیں ۔زیر نظر کتاب’’مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں ‘‘مفسر قرآن مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے اور المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر،کراچی کے دفاع حدیث انسائیکلوپیڈیا کی پہلی جلد ہے۔اس کتاب میں حافظ صاحب نے مولانا اصلاحی کےافکار کابھر پور علمی انداز میں تعاقب کیا ہے ،مولانا اصلاحی نےاپنا قلم کس بے رحمی سے استعمال کیا ہے، مقدس ہستیوں خصوصاً صحابہ اور راویانِ حدیث پر کس انداز سے قلم چلایا ہےیہ سب ناقابل بیان اور دل آزار ہے وہ سب کتاب ہذاکے مطالعہ سے واضح ہوگا اور اس حوالے سے مولانا اصلاحی کے چہرے پر پڑا دبیز پردہ ہٹ جائے گا اور اصل چہرہ سامنے آجائے گا۔حافظ صاحب نے مولانا اصلاحی صاحب کی شرح’’ صحیح بخاری‘‘ اور تفسیر’’ تدبر قرآن‘‘ میں موجودمیں اصلاحی صاحب کی تمام انحرافات اور گمراہیوں کااس کتاب میں تفصیل سے اور مدلل انداز میں جائزہ لیا ہے۔مولانا اصلاحی کےجمہور علماء امت سے مختلف حدیثی وتفسیری نظریات اور گمراہ کن اثرات سے واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حدمفید ہے ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں صحت وتندروستی والی زندگی دے ۔(آمین)(م۔ا)
اہل سنت اور محرم الحرام اہل سنت کے غور وفکر کے لیے چند اہم باتیں
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
In Fiqha
اہل سنت والجماعت او ر اہل تشیع کے مابین کئی ایک اختلافی مسائل میں سے ایک معرکۃ الآراہ اختلاف ’’عقیدۂ امامت ‘‘ہے ۔عقیدۂ امامت اہل تشیع کا بنیادی عقیدہ ہے۔اس عقیدے کو ان کے ہا ں اصول دین میں شمار کیا جاتا ہے ۔جس کےبغیروہ آدمی کا ایمان نا مکمل گردانتےہیں۔اس بنیادی عقیدۂ امامت کی وجہ سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اختلاف اتنا اہم کہ دونوں فریق اس کی وجہ سے فکر منہج کےاعتبار سے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں جیسےآسمان اور زمین ایک دوسرے سے دور ہیں ۔لیکن بد قسمتی سے اہل سنت کے عوام اپنے مسلکِ حقہ سے کما حقہ واقف نہ ہونے کی وجہ سے محرم کےمہینے میں بہت سی ایسی رسومات کا ارتکاب کرتے ہیں یا ایسے تصورات ان کےذہنوں میں راسخ ہیں جواہل سنت کےموقف کےیکسر مخالف ہیں ۔ مفسر قرآن ومصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے زیر نظرکتاب’’اہل سنت اور محرم الحرام اہل سنت کے غوروفکر کےلیے چند اہم باتیں‘‘ میں اہل سنت کےعوام وخواص کو مخاطب کر کےان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہےکہ اہل تشیع اوراہل سنت کےدرمیان تو اتنا عظیم فرق ہے لیکن ماہِ محرام میں ان کا طرز عمل وفکرایسا ہوتا ہےکہ ان کے ڈانڈے شیعیت سے جاملتے ہیں،جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔اہلِ سنت کےعوام و خواص کو ماہِ محرم کی رسومات وتصورات سے دامن بچا کر اپنا امتیاز برقرار رکھنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف مرحوم کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ (م۔ا)
قبر پرستوں کے جال میں
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
In Fiqha
قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ ہے نبی کریم ﷺ نے سختی سے اس سےمنع فرمایا اور اپنی وفات کے وقت کے بھی صحابہ کرام کو اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور پھر ائمہ کرام اور محدثین نے لوگوں کو تقریر وتحریر کے ذریعے اس فتنۂ عباد ت ِقبور سے اگاہ کیا ۔زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر نظر کتاب’’قبرپرستوں کے جال میں ‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف حمہ اللہ(مصنف کتب کثیرہ) کے قلم سے قبرپرستی کے ردّ میں لکھے گئے مختلف رسائل وجرائد میں مطبوعہ مضامین کا مجموعہ ہے ۔ ان مضامین میں حافظ صاحب مرحوم نے ان دلائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے جو قبرپرستی جیسے شرکِ صریح کے جواز میں بالعموم بریلوی علماء یا ان کے ہمنوا اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات اور تاویلات فاسدہ کی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کر کے ان کا خوب بطلان کرتے ہوئے احقاق حق کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ دار الدعوۃ السلفیۃ ،لاہورنے کتاب ہذا کو’’ قبر پرستی کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی اس کاوش کو شرک کی دلدل میں دھنسی امت کےلیے راہنمائی کاباعث بنائے اور حضرت حافظ صاحب مرحوم کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردس عطافرمائے ۔ آمین (م۔ا)
خلافت و ملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت ( اضافہ و تخریج کا اضافہ )
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
خلافت و ملوکیت ابو الاعلیٰ مودودی کی تصنیف ہے جو انہوں نے اکتوبر 1966ءمیں محمود احمد عباسی کی خلافتِ معاویہ و یزید کے جواب میں لکھی تھی۔ کتاب کا موضوع بحث خلافت کا بادشاہت میں تبدیل ہونے کے مراحل کے بارے میں ہے۔مولانا مودودی نے اپنی کتاب میں صحابہ کرام کےبارے میں بہت سی غلط فہمیوں کو پھیلایا اور بالخصوص سیدنا عثمان،سیدنا معاویہ،سیدنا مغیرہ، سیدنا عمروبن العاص اور دیگر بہت سےاصحاب رسول کےکردارکو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی ۔تو کئی سنی علماء نے مولانامودووی کی گمراہ کن کتاب ’’خلافت وملوکیت ‘‘ کے ردّ میں تنقیدی جوابات لکھ کر مودودی صاحب کی کتاب سے جو جو غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیل سکتی تھیں، باحوالہ، نہایت مفصل اور مدلل ردّ کیا ۔مولانامودودی کی مذکورہ کتاب پر نقد کرنے میں مفسر قرآن مصنف کتب کثیرہ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کا نام سرفہرست ہے ۔ زیر نظر کتاب’’خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ حافظ صاحب مرحوم کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس میں انہوں مودودی صاحب کی کتاب سے جو جو غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیل سکتی تھیں، اس کتاب میں ان سب کا باحوالہ، نہایت مفصل اور مدلل ردّ کیا گیا ہے۔یہ کتاب بعض حیثیتوں سے انفرادیت کی حامل ہے۔ ایک تو اس کتاب میں مودودی صاحب کے اس مؤقف کا نہایت تفصیلی رد ّہے۔ حتی کہ کتاب کے آخر میں موجود ضمیمہ کا بھی جواب فاضل مصنف نے دیا ہے۔ دوسرے اکثر مقامات پر مودودی صاحب کا موقف ان کے اپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کا ضعف واضح کیا گیا ہے۔ جس سے طرفین کے دلائل قاری کے سامنے خوب نکھر کر آ جاتے ہیں اور اسے حق بات پہچاننے میں دشواری نہیں ہوتی۔حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1970ء میں مکتبہ سلفیہ،لاہور نے شائع کیا۔موجودہ اضافہ وتخریج شدہ ایڈیشن حافظ صاحب مرحوم کے صاحبزادے حافظ محمد عثمان یوسف (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے2018ء میں شائع کیا۔(م۔ا)
فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات ایک علمی و تحقیقی جائزہ
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
In Biography
زیر نظر کتاب بعنوان ’’ فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات ایک علمی و تحقیقی جائزہ‘‘مفسر قرآن مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے اور المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر،کراچی کے دفاع حدیث انسائیکلوپیڈیا کی دوسری جلد ہے ۔ جلد اول امین احسن اصلاحی کے نظریات کے ردّ میں ہے ۔ کتاب ہذا فکر فراہی کے بانی مولانا حمید الدین فراہی اور اس فکر کے حامل دیگر اہل قلم کے افکار زائغہ اور نظریات باطلہ کے جائزہ پر مشتمل ماضی قریب اور عہد حاضر کے کچھ متجددین غامدی ،عمار خان ناصر بالخصوص فراہی کے گمراہ کن افکار و نظریات کی تردید و تنقید کا شاہکار ہے ۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اس کتاب میں قوی دلائل کی روشنی میں منکرین حدیث کے شبہات کو بے نقاب کر کے ان پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ جس کا جواب نہ ان کے پاس موجود ہے اور نہ آئندہ ہو گا ۔ ( ان شاء اللہ ) (م۔ا)
طلاق خلع اور حلالہ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے تناظر میں تحقیقی جائزہ
Authors: حافظ صلاح الدین یوسف
نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون و اطمینان کے ساتھ بسر نہیں ہو سکتی اور ایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی و بے اطمینانی اور نفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ علیحدگی کا یہ حق دونوں کو دیا گیا ہے۔مرد کے حق علیحدگی کا نام طلاق اور عورت کے حق علیحدگی کا نام خلع ہے اور حلالہ ایک لعنتی عمل ہے۔لیکن فقہائے احناف نے حلالہ جیسے لعنتی عمل کو نہ صرف جائز بلکہ اسے باعث اجر و ثواب قرار دے کر شریعت کے ایک نہایت اہم حکم کی پامالی کا راستہ کھولا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ طلاق ، خلع اور حلالہ‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے چند مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے چار عائلی معاملات طلاق ، خلع ،طلاق تفویض اور حلالہ جیسے مروجہ مسائل کا قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے تناظر میں تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔(م۔ا)
مسلمانوں میں ہندوانہ رسوم و رواج
Authors: حافظ عبد السلام بن محمد
ایمانی محبت دیگر تمام محبتوں پر غالب ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہی تقاضا ہے کہ دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کفر کی رسموں سے شدید بغض ہو۔ افسوس یہ ہے کہ گرد وپیش پر نگاہ ڈالیں تو امت مسلمہ کے مجموعی افعال و کردار کا جائزہ لیں۔ پاک و ہند میں مروجہ رسومات اور ثقافتی پہچان کی تاریخ ملاحظہ فرمائیں، تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آج مسلمان غیر مسلموں کی شباہت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں نہایت مدلل انداز میں مسلمانوں میں رواج پا جانے والی ہندوانہ رسوم و رواج کا بنظر غائر جائزہ لیا گیا ہے۔ اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان سے بچنے کی احسن انداز میں ترغیب دلائی گئی ہے۔