مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں


By Al Noor Softs
Posted on Sep 22, 2024
In Category Hadith & science of hadith
Authors حافظ صلاح الدین یوسف
Published By المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر، کراچی
In Year 2020
Key Word مقدمہ ازفضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ..تمہیدی مباحث :مسلّمات اسلامیہ سے انکاروانحراف کی راہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 632
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
مولانا امین احسن اصلاحی(1904ء۔1947ء) اعظم گڑھ کے ایک گاؤں موضع بمہور میں پیداہوئے۔موصوف مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور ان کے افکار ونظریات کے ارتقا کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔مولانا امین احسن اصلاحی کی ابتدائی تعلیم وتربیت گاؤں کے دو مکتبوں میں ہوئی سرکاری مکتب میں مولوی بشیر احمد جبکہ دینی مکتب میں مولوی فصیح احمد ان کے استاد تھے یہاں سے آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔دس سال کی عمر میں مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل ہوئے یہاں آٹھ سال تعلیم حاصل کی ۔اس عرصے میں آپ نے عربی زبان،قرآن، حدیث،فقہ اور کلامی علوم کی تحصیل کی ،اردو ،فارسی ،انگریزی اور بالخصوص عربی میں اس قدر دسترس حاصل کی کہ آئندہ کے تحقیق وتدبر کی راہیں خود طے کرسکیں مولانا امین احسن اصلاحی دوران تعلیم ایک ذہین اور قابل طالب علم کی حیثیت سے نمایاں رہے۔مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی صحافت سے منسلک ہوگئے۔1925ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ استاد کے طریقہ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی ،عربی شاعری کی مشکلات میں ان سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور فلسفہ کی بعض کتب بھی ان سے پڑھیں۔مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے’’تدبر قرآن ‘‘ کےنام سے ایک ایسی تفسیر لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غماز ہے،مولانا اصلاحی صاحب نےاپنے استاد فراہی صاحب سے متأثر ہوکر انکار حدیث کے نظریے کو اختیار کیا۔مولانا فکری تضاد اور انتشار کا شکار تھے ان کی تصانیف اس پر شاہد ہیں۔مولانااصلاحی نے فکرفراہی کواپنی تفسیرتدبرقرآن اور دیگر کتب کے واسطے سے انہیں عامۃ الناس میں پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ۔بہت سے جید علماء نے مولانا اصلاحی کےتفسیری تفردات اور ان کی فکری گمراہیوں کو واضح کیا ہےجن میں عصر حاضر کی نامور شخصیت مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب سرفہرست ہیں ۔زیر نظر کتاب’’مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں ‘‘مفسر قرآن مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے اور المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر،کراچی کے دفاع حدیث انسائیکلوپیڈیا کی پہلی جلد ہے۔اس کتاب میں حافظ صاحب نے مولانا اصلاحی کےافکار کابھر پور علمی انداز میں تعاقب کیا ہے ،مولانا اصلاحی نےاپنا قلم کس بے رحمی سے استعمال کیا ہے، مقدس ہستیوں خصوصاً صحابہ اور راویانِ حدیث پر کس انداز سے قلم چلایا ہےیہ سب ناقابل بیان اور دل آزار ہے وہ سب کتاب ہذاکے مطالعہ سے واضح ہوگا اور اس حوالے سے مولانا اصلاحی کے چہرے پر پڑا دبیز پردہ ہٹ جائے گا اور اصل چہرہ سامنے آجائے گا۔حافظ صاحب نے مولانا اصلاحی صاحب کی شرح’’ صحیح بخاری‘‘ اور تفسیر’’ تدبر قرآن‘‘ میں موجودمیں اصلاحی صاحب کی تمام انحرافات اور گمراہیوں کااس کتاب میں تفصیل سے اور مدلل انداز میں جائزہ لیا ہے۔مولانا اصلاحی کےجمہور علماء امت سے مختلف حدیثی وتفسیری نظریات اور گمراہ کن اثرات سے واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حدمفید ہے ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں صحت وتندروستی والی زندگی دے ۔(آمین)(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   176   50
 
 

مولانا امین احسن اصلاحی(1904ء۔1947ء)  اعظم گڑھ کے ایک گاؤں موضع بمہور میں پیداہوئے۔موصوف مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور ان کے افکار ونظریات کے ارتقا کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔مولانا امین احسن اصلاحی کی ابتدائی تعلیم وتربیت گاؤں کے دو مکتبوں میں ہوئی سرکاری مکتب میں مولوی بشیر احمد جبکہ دینی مکتب میں مولوی فصیح احمد ان کے استاد تھے یہاں سے آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔دس سال کی عمر میں  مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل ہوئے یہاں آٹھ سال تعلیم حاصل کی  ۔اس عرصے میں آپ نے عربی زبان،قرآن، حدیث،فقہ اور کلامی علوم کی تحصیل کی ،اردو ،فارسی ،انگریزی اور بالخصوص عربی میں اس قدر دسترس حاصل کی کہ آئندہ کے تحقیق وتدبر کی راہیں خود طے کرسکیں مولانا امین احسن اصلاحی دوران تعلیم ایک ذہین اور قابل طالب علم کی حیثیت سے نمایاں رہے۔مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی صحافت سے منسلک ہوگئے۔1925ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ استاد کے طریقہ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی ،عربی شاعری کی مشکلات میں ان سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور فلسفہ کی بعض کتب بھی ان سے پڑھیں۔مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے’’تدبر قرآن ‘‘ کےنام سے  ایک ایسی تفسیر لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غماز ہے،مولانا  اصلاحی صاحب نےاپنے استاد فراہی صاحب سے متأثر ہوکر انکار حدیث کے نظریے کو اختیار کیا۔مولانا فکری تضاد اور انتشار کا شکار تھے ان کی تصانیف اس پر شاہد ہیں۔مولانااصلاحی نے فکرفراہی کواپنی تفسیرتدبرقرآن اور دیگر کتب کے واسطے سے انہیں عامۃ الناس میں پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ۔بہت سے جید علماء نے  مولانا اصلاحی  کےتفسیری تفردات اور ان کی فکری گمراہیوں کو واضح کیا  ہےجن میں عصر حاضر کی نامور شخصیت مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب سرفہرست ہیں ۔زیر نظر کتاب’’مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں ‘‘مفسر قرآن  مصنف کتب  کثیرہ   حافظ صلاح الدین یوسف  ﷾ کی  تصنیف ہے اور المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر،کراچی کے دفاع حدیث  انسائیکلوپیڈیا کی پہلی  جلد ہے۔اس کتاب میں حافظ صاحب نے مولانا اصلاحی کےافکار کابھر پور علمی انداز میں تعاقب کیا ہے  ،مولانا اصلاحی نےاپنا قلم کس بے رحمی سے استعمال کیا ہے، مقدس ہستیوں خصوصاً صحابہ اور راویانِ حدیث پر کس انداز سے قلم چلایا ہےیہ سب ناقابل بیان اور دل آزار ہے وہ سب کتاب ہذاکے مطالعہ سے واضح ہوگا اور اس حوالے سے مولانا اصلاحی کے چہرے پر پڑا دبیز پردہ ہٹ جائے گا اور اصل چہرہ سامنے آجائے گا۔حافظ صاحب  نے مولانا اصلاحی صاحب کی شرح’’ صحیح بخاری‘‘  اور تفسیر’’ تدبر قرآن‘‘ میں موجودمیں اصلاحی صاحب کی تمام انحرافات اور گمراہیوں کااس کتاب میں  تفصیل سے اور مدلل انداز میں جائزہ لیا ہے۔مولانا اصلاحی کےجمہور علماء امت سے مختلف  حدیثی وتفسیری  نظریات اور گمراہ کن اثرات سے واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حدمفید ہے ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی  اور صحافتی خدمات کو  قبول فرمائے اور انہیں صحت وتندروستی والی زندگی دے ۔(آمین)(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks