Al Noor Softs

( Joined 1 year ago )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر، نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریمﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا: تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں ہے۔ زیر نظر کتاب "انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر" انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے، تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔ کتاب کے شروع میں معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب﷾ کا علمى مقدمہ بھی موجود ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔ (راسخ)

نماز میں سینے پر ہاتھ باندھیں

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں ہے۔زیر نظر کتاب"نماز میں سینے پر ہاتھ باندھیں " انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے ،تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔کتاب کے شروع میں معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب﷾، حافظ صلاح الدین یوسف صاحب﷾،مولانا مبشر احمد ربانی صاحب﷾، حافظ ابتسام الہی ظہیر صاحب﷾، مولانا داود ارشد صاحب﷾، مولانا محمد رفیق طاہر صاحب﷾،مولانا عبد المعید مدنی صاحب﷾، مولانا صلاح الدین مقبول صاحب﷾،مولانا محفوظ الرحمن فیضی صاحب﷾، مولانا عبد السلام سلفی ﷾اور مولانا ابو زید ضمیر صاحب ﷾کی علمى تقریظات بھی موجود ہیں۔ یہ کتاب ہماری ویب سائٹ پر پہلے بھی " انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر" کے نام سے موجود ہے، لیکن اس کا یہ نیا ایڈیشن پاک وھند کے مذکورہ علمائے کرام کی تقریظات کے ساتھ زیادہ مفید بن گیا ہے لہذا اسے دوبارہ اپلوڈ کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

انوار التوضیح لرکعات التراویح مسنون رکعات تراویح اور شبہات کا ازالہ

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’انوار التوضیح لرکعات التراویح؍مسنون رکعاتِ تراویح اور شبہات کا ازالہ ‘‘انڈیا کے جید عالم دین محقق مصنف کتب کثیرہ مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہےموصوف پختہ عالم دین ہیں اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں انہیں مکمل دسترس حا صل ہے متعدد علمی وتحقیقی مسائل میں ان کی تحقیقی کتب موجو د ہیں ۔کتاب ہذا میں انہوں نے رکعاتِ تراویح کے سلسلے میں وارد احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں۔سیدناعمر ﷜ نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔ امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷢سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔نیز صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ سے مروی حدیث پر احناف نے اضطراب کا جو اعتراض کیا ہے اس کا مفصل جواب پہلی بار اس کتاب میں پیش کیاگیا ہے۔اور عہد فاروقی سے متعلق موطا کی روایت پر شذو وغیرہ کے جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ،ان کےمفصل جوابات اس کتاب میں موجود ہیں۔ایک بریلوی عالم احمدیار نعیمی کی ’’ جاء الحق‘‘ نامی کتاب میں بیس رکعات کو سنت ثابت کرنے کےلیے جو مضحکہ خیز استدلالات کیے گئے ہیں مولانا کفایت اللہ صاحب نے اس کتاب میں ان کے تسلی بخش جوابات پیش کیے ہیں۔حرمین میں بیس رکعات کی نوعیت اور ا س کے پسِ منظر پر بھی مفصل گفتگو کی ہے۔بہت سارے علمائے احناف نے اعتراف کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح ہی پڑھی ہیں ۔ان علماءکے اس اعتراف کے اصل کتابوں سے حوالے پیش کیے گئے ہیں ۔میرے علم کے مطابق اپنے موضوع میں تحقیقی نوعیت کی اتنی ضخیم یہ پہلی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کفایت اللہ ﷾ کی تحقیقی وتصنیفی، تدریسی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے ۔یہ کتاب مولانا نےکتاب وسنت سائٹ پر پبلش کرنے کے کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں عنائت کی ہے ۔ (آمین) (م۔ا)

تفہیم الفرائض

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Knowledge

By Al Noor Softs

’علمِ وراثت‘، علمِ فرائض‘ یہ ایک ہی علم کے دو نام ہیں، جس میں انسان کی وفات کے بعد اس کے مال کی تقسیم کے اصول وضوابط کے متعلق گفتگو کی جاتی ہے، وراثت کے مسائل بھی نماز روزہ، نکاح وطلاق جیسے شرعی احکام ہی ہیں، لیکن اہمیت کے پیشِ نظر علما و فقہا نے جن احکام ومسائل میں الگ الگ تصنیفات فرمائی ہیں، ’علمِ وراثت‘ بھی انہیں میں سے ایک ہے، اردو زبان میں بھی اس پر کئی ایک تصنیفات موجود ہیں، لیکن جس طرح نماز وغیرہ کے مسائل پر بہ کثرت تصنیفات پائی جاتی ہیں، وراثت کے متعلق وہ اہتمام نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمارے ہاں برصغیر میں وراثت کے شرعی طریقہ کار کو جاننے میں دلچسپی نسبتا کم ہوتی ہے ، اسی طرح اس فن کو قدرے مشکل بھی سمجھا جاتا ہے، بلکہ سننے میں آیا ہے کہ بعض کبار اور معروف اہلِ علم بھی اس فن میں رائے دینے سے کتراتے ہیں، لیکن شیخ کفایت اللہ ان خوش نصیب علما میں سے ہیں، جنہیں یہ علم انتہائی آسان محسوس ہوتا ہے، بلکہ انہیں اس کے مسائل پر اتنی گرفت ہے کہ وہ اس فن کو دیگر لوگوں کے لیے بھی انتہائی آسان بنا کر پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، جس کی بہترین دلیل ان کی زیر نظر تصنیف ’ تفہیم الفرائض‘ ہے، شیخ سنابلی کا دعوی ہے کہ اس فن کو مشکل سمجھنے کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں تدریس و تصنیف کا قدیم طریقہ اپنایا جاتا ہے، اسی طرح تفہیم کی بجائے رٹے پر زور دینے کی وجہ سے یہ علم مزید عقل وخرد پر بھاری محسوس ہوتا ہے، شیخ سنابلی نے ’ تفہیمِ فرائض‘ کو ممکن و سہل بنانے کے لیے ایک تو جدید اصول وضوابط کا استعمال کیا ہے، دوسرامسائلِ وراثت کی مروجہ تقسیم میں تقدیم و تاخیر کی ہے، اسی طرح اہم اور غیر اہم کا تعین کرکے بھی اس فن کی مشکلات و عوائص کی تیسیر کرنی کی سعی مشکور فرمائی ہے۔ اس فن کی تدریس کرنے والے اساتذہ کرام کے لیے کچھ تجاویز بھی ارشاد فرمائی ہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مصنف، ناشر سب کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اور اس علم کے طلبہ واساتذہ کے لیے نفع مند بنائے۔ شیخ سنابلی نوجوان عالم دین ہیں، اپنی کئی ایک تصنیفات کی وجہ سے علمی حلقوں سے قابل مصنف و محقق کی طرح تعریف و ستائش وصول کرچکے ہیں، البتہ محدث لائبریری اور فورم کے ساتھ ان کا رشتہ و تعلق ان سب چیزوں سے پہلے کا ہے، چہار سو شہرت کے باوجود وہ اپنے اس پہلے تعلق کی لاج آج بھی رکھے ہوئے ہیں، اور اپنی کئی ایک علمی کاوشیں محدث فورم اور محدث لائبریری کے لیے بھیجتے رہتے ہیں، زیر نظر کتاب کی محدث لائبریری پر پیشکش بھی اسی ایمانی محبت ومودت کا ایک نمونہ ہے، اللہ تعالی اس اخوت و رشتے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ (ح۔ خ)

دعائے قربانی إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي... والی حدیث کی تحقیق

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین عمل ہے نبیﷺ کا فرمان ہے : ’’یقینا یوم النحر اللہ تعالیٰ کےہاں بہترین دن ہے۔‘‘ ( سنن ابوداود: 1765 ) اللہ تعالیٰ کےہاں کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی قابل قبول ہوتا ہے کہ جب اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے ۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ تمام اہل اسلام کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے اہم عبادت عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ذبح کرنا ہے اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ جانوروں کو صحیح اسلامی طریقہ سے ذبح نہیں کیا جاتا اور دعائے قربانی پڑھنے میں کتاہی کی جاتی ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ دعائے قربانی إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي... والی حدیث کی تحقیق‘‘ فضیلۃ الشیخ ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا مرتب شدہ ہے۔شیخ موصوف نےاس کتابچہ میں قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت ایک طویل دعا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي کے الفاظ سے وادر حدیث کی استنادی حالت پر بحث کی ہے۔(م-ا)

چار دن قربانی کتاب وسنت کی روشنی میں

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بهيمةالانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہﷺاور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔قربانی کرنے کے دنوں کی تعداد کے حوالے سے فقہاءکے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرنے کے کل ایّام چار ہیں۔ یوم النحر(دس ذو الحجہ) اور ایام تشریق (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔اور یہی مسلک راحج ہے ۔ زیر نظر کتاب’’چار دن قربانی کتاب وسنت کی روشنی میں ‘‘ ہندوستان کے معروف محقق عالم دین مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ )کی تالیف ہے، فاضل مصنف نے اس کتاب میں چار دن قربانی کرنے کی مشروعیت کو قرآنی آیات،احادیث صحیحہ،آثارسلف، اور قیاس ولغت کے مستند دلائل سے ثابت کیا ہے۔نیز اس موقف پر پیش کیے جانے والے اعتراضات کا بھی تفصیلی جواب دیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ تین دن قربانی کا موقف دلائل کے اعتبار سے نہایت کمزور ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)

تفہیم الفرائض ( جدید ایڈیشن )

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Knowledge

By Al Noor Softs

میراث کا تعلق حقوق العباد سے ہے جو شخص کسی کی میراث ہڑپ کر ے گا، قیامت کے روز اسے ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ اور میراث واحد علم ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں میراث کی تفصیلات بتلانے کے بعد اس پر عمل کرنے کی صورت میں جنت کی بشارت دی ہے اور ان سے روگردانی کی صورت میں جہنم کی وعید سنائی ہے۔اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہم کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی اہمیت کے پش نظراس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تفہیم الفرائض‘‘انڈیا کے معروف عالم دین ابو لفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کی کاو ش ہے انہوں نےاس کتاب کو ایک مقدمہ اور چھ حصوں( وارثین، وارثین کے حصے ،تاصیل وتصحیح، مسائل فرائض کی قسمیں،تقسیم ترکہ) میں تقسیم کر کے اس میں علم میراث کو آسان بناکر پیش کیا ہے اور مسائل میراث کو رٹانے کی بجائے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تبلیغی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

صدقۃ الفطر میں نقد و رقم دینے کا حکم

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

فطرانہ ایک زکاۃ یا صدقہ ہے جو رمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پر واجب ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے روزہ کو لغو اور بے ہودگی سے پاک صاف کرنے اور مساکین کی خوراک کے لیے فطرانہ فرض کیا ، لہذا جس نے بھی نماز عید سے قبل ادا کر دیا تو یہ فطرانہ قبول ہو گا ، اور اگر کوئی نماز عید کے بعد ادا کرتا ہے تو اس کے لیے یہ ایک عام صدقہ ہو گا۔ فطرانہ کا مقصد دوران روزہ ہونے والی کمی و کوتاہی کی معافی، بے فائدہ اور فحش کلامی کی تطہیر اور عید کے دن باوقار طریقے سے مساکین کو در بدر ٹھوکریں کھانے سے بچانا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’صدقۃ الفطر میں نقد و رقم دینے کا حکم ‘‘مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا ’’ اہل السنۃ‘‘ کے خصوصی شمارہ میں مطبوع مضمون کی کتابی صورت ہے۔ صاحب مضمون نے اس میں اس بات کو ثابت کیا کہ احادیث میں منصوص اشیاء کے لیے دیگر خوراک یا نقدی و رقم بھی فطرانہ میں دینا جائز ہے بلکہ فطرانہ میں نقد و رقم دینا ائمہ سلف سے بھی ثابت ہے۔ (م۔ا)

قرآنی آیات کا جواب

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرأت قرآن کے وقت اور دوران نماز بعض جگہوں پہ مقتدی قرآن کی بعض آیات کا جواب دیتے ہیں ، اور بعض جگہ یہ عمل نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں یہ بات جاننے کی فکر رہتی ہے کہ صحیح کیا ہے ؟ قرآنی آیات کا جواب دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟ اور احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دوران نماز آیت رحمت پڑھتے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو جہنم سے پناہ مانگتے ، کیا اس حدیث کے پیش نظر سامعین پر ضروری ہے کہ بعض قرآنی آیات کا جواب دیں جیسا کہ ہمارے ہاں نماز با جماعت میں امام جب سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتا ہے تو مقتدی بآواز بلند سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہیں، اسی طرح کچھ دیگر آیات کا بھی مقتدی حضرات جواب دیتے ہیں۔ان تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے زیرنظر کتاب ’’قرآنی آیات کا جواب ، نماز اور غیر نماز میں‘‘ مرتب کی ہے۔اس میں انہوں نے قرآنی آیات کے جواب سے متعلق وارد تمام صحیح روایات یکجا کر کے انہیں دو اقسام میں تقسیم کیا ہے ، پہلی قسم ان روایات کی ہے جن میں عمومی طور پر جواب دینے کی بات ہے۔اور دوسری قسم ان روایات کی ہے جن میں خاص خاص آیات کے جواب میں مخصوص کلمات کہنے کی بات ہے نیز ہر روایت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کس کا تعلق دوران نماز سے ہے اور کس کا تعلق غیر نماز کی حالت سے ہے۔ مقتدی کے لئے جواب دینے کے حکم پر الگ سے مفصل بحث موجود ہے (م۔ا)