میراث کا تعلق حقوق العباد سے ہے جو شخص کسی کی میراث ہڑپ کر ے گا، قیامت کے روز اسے ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ اور میراث واحد علم ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں میراث کی تفصیلات بتلانے کے بعد اس پر عمل کرنے کی صورت میں جنت کی بشارت دی ہے اور ان سے روگردانی کی صورت میں جہنم کی وعید سنائی ہے۔اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہم کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی اہمیت کے پش نظراس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تفہیم الفرائض‘‘انڈیا کے معروف عالم دین ابو لفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کی کاو ش ہے انہوں نےاس کتاب کو ایک مقدمہ اور چھ حصوں( وارثین، وارثین کے حصے ،تاصیل وتصحیح، مسائل فرائض کی قسمیں،تقسیم ترکہ) میں تقسیم کر کے اس میں علم میراث کو آسان بناکر پیش کیا ہے اور مسائل میراث کو رٹانے کی بجائے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تبلیغی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)