دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ نبی کریم ﷺنےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں بھی آپﷺ نے مسجد نبوی کے ایک جانب ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں ’’اصحاب صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام،ترویج دین اور تعلیماتِ اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر نظر کتاب’’مدارس اسلامیہ کی اہمیت وضرورت اور مقاصد‘‘ مولانا سیدابو الحسن علی ندوی کی تقریروں اور قدیم تحریروں سے مرتب شدہ ہے ۔جناب عبدالہادی اعظمی ندوی صاحب اس کے مرتب ہیں۔یہ کتاب مدارسِ اسلامیہ کامقام ومرتبہ، معاشرہ میں اس کی اہمیت وافادیت،اس کے خلاف ریشہ دوانیوں کے دفاع کی تدابیر، اس کی جانب منسوب افراد کی کوتاہیاں اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ایک جامع مرقعہ ہے ۔ (م۔ا)