eBooks

2,841 Results Found
شاہ ولی اللہ دہلوی  کی قرآنی خدمات

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید لا ریب کتاب ہے ، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔یہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمائی گئی۔پھر اسے تئیس سالوں کے عرصہ میں نبی ﷺپر اتارا گیا۔قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔لہٰذا یہ قرآن ہمیں رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ پر عمل پیرا ہونے سے تم فلاح پاؤ گے، عزت و منزلت اور وقار حاصل کرو گےاور مجھ سے دوری کا نتیجہ اخروی نعمتوں سے محرومی، ابدی نکامی اور بد بختی کے سوا کچھ نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شاہ ولی اللہ دہلوی کی قرآنی خدمات‘‘ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد یٰسین مظہرصدیقی اور پروفیسر ظفر الاسلام کی مشترکہ کاوش ہے۔جس میں شاہ ولی اللہ ﷫ کی قرآن مجید کے حوالے سے تمام خدمات جو کہ مقالات اور سمینار کی صورت میں بیان کی گئی تھی ان سب کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی، شخصیت و حکمت کا ایک تعارف

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی شخصیت وحکمت کا ایک تعارف‘‘ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پرو فیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی صاحب کا مرتب شدہ ہے۔ اس کتابچہ انہوں نے فکر ولی اللّٰہی کےبنیادی اور مستقل پہلووں پر توجہ مرکوز رکھی ہے او ران کے بعض ثانوی افکار اور وقتی کارناموں سے بحث نہیں کی گئی۔ تجزیہ وتحلیل سے ضروری کام لیا ہے اور تنقید وتبصرہ سے عمداً کریز کیا ہے۔ (م۔ا)

رسول اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام انسانیت کے عمومی مفاد کے لئے معاشرے کو اکٹھا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں میں ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام رشتوں کو حتیٰ کہ ان دودھ پلانے والی عورتوں تک بھی پھیلا دیتا ہے کہ جو شیر خوار بچوں کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر حقیقی ماں کے علاوہ کوئی اور عورت کسی بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے تو وہ ایک اضافی ماں کا سا درجہ حاصل کر لیتی ہے جسے اُم رِداہ یا رضائی ماں یا دودھ پلانے والی ماں کہتے ہیں۔اس عورت کے شوہر کو بھی بچے کے باپ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی ان میں سے کسی سے شادی نہیں ہو سکتی۔اس طرح، ایک عورت جس نے کسی بچے کے دو برس کے ہونے سے پہلے اسے کم از کم پانچ بار دودھ پلایا ہو، اسلامی قانون کے دئیے ہوئے خصوصی حقوق کے تحت، وہ اپنے دودھ کے رشتے سے اس بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ دودھ پینے والا بچہ رضائی ماں کے دوسرے بچوں کا مکمل طور پر بہن یا بھائی سمجھا جاتا ہے، یعنی کہ ایسا لڑکا اپنی رضائی بہن اور ایسی لڑکی اپنے رضائی بھائی کی محرم ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا مذہب کسی دودھ پلانے والی ماں کو ایسا رُتبہ نہیں دیتا۔جب آپ ﷺ ابھی شیر خوار تھے توعلاقے کی روایت کے مطابق، کھلے صحرائی ماحول میں نومولود بچوں کو لے جانے کے لئے خواتین کا ایک گروہ مکہ آیا۔قبیلہ بنو سعد کی حضرت حلیمہ سعدیہ، وہ خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے رضائی ماں کے طور پر حضرت محمد ﷺوسلم کو گود لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر صرف آٹھ روز تھی۔حضرت حلیمہ سعدیہ کےعلاوہ حضرت ثوبیہ نےآپ ﷺ کودودھ پلا یا جنہیں آپ ﷺ کی رضائی مائیں کہا جاتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ رسول اللہ کی رضائی مائیں‘‘ ڈاکٹر پروفیسریٰسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے علاوہ آپ ﷺ کو دودھ پلانے والی خوش نصیب خواتین حضرت ثوبیہ، حضرت حلیمہ سعدیہ کا بڑی دلنشیں انداز میں تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور ان کے مقام ومرتبہ کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قریش کے تمام خاندانوں میں سے بنی ہاشم اور بنو امیہ کو عظمت و شہرت اور دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے نمایاں مقام حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قبائلی دور ہونے کی وجہ سے زمانۂ جاہلیت میں کبھی بنو ہاشم سبقت لے جاتے اور کبھی بنو امیہ۔ بنی ہاشم اور بنی امیہ میں مدت تک تولیت کعبہ کی سرداری کے سلسلے میں تنازعہ رہا۔ آخر بااثر لوگوں کی مداخلت سے ان دونوں میں انتظامی مامور تقسیم کردیے گئے ۔اس خاندان کے جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس تھے۔ قریش کا سپہ سالاری کا منصب بنی مخزوم سے اس خاندان میں منتقل ہوگیا۔ زمانۂ جاہلیت میں سپہ سالاری کا عہدہ اس خاندان میں سے حرب بن امیہ اور پھر ابو سفیان کے پاس رہا۔ ابو سفیان نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کرلیا اور ان کے بیٹے امیر معاویہ کے ذریعے بنو امیہ کی حکومت کی بنیاد پڑی۔خلفائے راشدین کے زمانے میں بنو امیہ نے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ عمر فاروق کے دور میں امیر معاویہ دمشق کے گورنر بنے اور عثمان غنی کے دور میں وہ پورے صوبہ شام کے گورنر بنادیے گئے۔ زیر تبصرہ کتاب" بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات" محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہون نے بنو امیہ اور بنو ہاشم کے معاشرتی تعلقات کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیق اولین اور سیدنا علی آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔ خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اوراسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آگئے۔خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ تھا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی، امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں" انڈیا کے معروف عالم دین سابق صدر شعبہ ادارہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ڈاکٹر پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے خلافت راشدہ کے پس منظر میں خلافت اموی کا جائزہ لیا ہے کہ ان دونوں خلافتوں کیا کیا فرق تھا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

عہد نبوی ﷺ کا نظام حکومت

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

جس طرح اسلام عقائد وایمانیات اورعبادات یعنی اللہ تعالیٰ اوراس کے بندوں کے درمیان تعلقات کا نظام پیش کرتاہے اسی طرح دنیاوی معاملات یعنی بندوں کے باہمی تعلقات کا نظام بھی عطا کرتا ہے ۔انسانی معاملات وتعلقات اگرچہ باہم مربوط متحد ہیں تاہم تفہیم وتسہیل کے لیے ان کو سیاسی،سماجی ،اقتصادی اورتہذیبی نظاموں کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ان میں سے ہر ایک نظام کے لیے اسلام نے تمام ضروری اور محکم اصول بیان کردیئے ہیں۔اسوۂ نبوی نے ان کی عملی فروعات بھی تشکیل دے دی ہیں او ر صحابہ کرام اور خلفاء عظام اور ان کے بعد اہل علم نے ان پرعمل کر کے بھی دکھایا ہے ۔زیر نظر کتاب ''عہد نبوی کا نظام حکومت''دراصل پر وفیسر یاسین مظہر صدیقی کی کتاب ''عہد نبوی میں تنظیم حکومت وریاست '' کا اختصار ہے اس میں اصل ضخیم کتاب کے تمام اہم نکات آگئے ہیں ۔کتاب کا آغاز عہد رسالت میں ریاست کے تدریجی ارتقاء سے ہوا ہے پھر فاضل مصنف آپﷺ کے دور ِمبارک کے شہری نظم ونسق،فوجی،نظام ، مالی اور مذہبی نظام جیسے موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب مقبول اوراہم سب کواسوۂ نبوی کاپابند بنائے (آمین)(م۔ا)

نبی اکرم ﷺ اور خواتین ایک سماجی مطالعہ

Authors: ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خاتم النبین ﷺ نے نبوت وبعثت کےتمام تقاضوں اور مقاصد کی انہتائی تعمیر اورکامل ترین تکمیل کردی جس کے بعد کسی اضافہ کی گنجائش نہیں ۔ ان میں سماجی اخلاق کی تکمیل واتمام بھی شامل ہے او ر اس کا ذکر حدیث نبوی ''بعثت لاتمم مكارم الاخلاق '' (میں اخلاق کےتمام مکارم کے اتمام کےلیے مبعوث کیا گیا ہوں) میں ملتا ہے۔سماجی اخلاقیات میں دوسرےابواب سےکہیں زیادہ نازک جہانِ نسواں کا باب ہے او ر اس سے بھی نازک تر مردوزن کےباہمی ارتباط اورتعلق کامعاملہ رسولﷺ نےاپنی اصلاحات واحادیث سے اس کو بھی استوار کردیا جاہلیت نے جو خرابیاں پیداکی تھی ان کو دور کیا اوراسلامی اصول واحکام کے تناظر میں اپنے خالص اسوہ سے اس کا معیار قائم فرمادیا۔ زیر نظر کتاب ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی﷾ کی تالیف ہے جس میں انہوں نے مکی ومدنی دور میں حیات ومعاملات کی خاطر نبی کریمﷺ کے خواتین کے گھروں میں تشریف لے جانے کے واقعات کو بیان کیا ہے۔ او راسی طر ح معاصر خواتین بھی بہت سے مقاصدِ حسنہ کی بنا پر خدمت نبوی میں حاضری دیا کرتی تھیں او رغزوات میں شامل ہوتی رہیں۔فاضل مصنف نے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے صحابہ کرام اور خواتین کے معاشرتی تعلقات اور اختلاط مردوزن کے اصولِ نبوی کو بھی بیان کیا ہے ۔ زیارت باہمی کی اس سنت متواترہ نےبہت سی احادیث شریفہ اور اسلامی احکام کو جنم دیا جس نے حدیث وفقہ میں خواتین کے علم ساز رجحان اور فن خیز روایت کی طرح ڈالی ۔(م۔ا)

فہم دین اور اس کے بنیادی مطالبات

Authors: فاروق احمد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نو ع انسانیت کو پیدا کر کے انہیں زندگی گزارنے کے لیے مکمل نظام حیات عطا فرمایا ہے جسن کو ’’الدین‘‘ کےنام سےموسوم فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَام ’’الله كى نزديك دين صرف اسلام ہے۔‘‘ فہم دین کاتمام دار ومدار قرآن وحدیث پر ہے اور ہر مسلمان مردو عورت کی یہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ اگر رسوخ فی العلم حاصل نہیں کرسکتا تو کم ازکم اتنا فہم دین ضرور حاصل کرے جس سے دین اسلام کے بنیادی عقائد وعبادات اور مسائل سے واقف ہوجائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فہم دین اور اس کے بنیادی مطالبات‘‘ مولانافاروق احمد صاحب کی کاوش ہے جو کہ قرآن مجید کی101 آیات اور ایک سو اکیاسی (181) احادیث کامجموعہ ہے۔ فاضل مصنف نے ان قرآنی آیات اور احادیث کو قارئین کی سہولت کے لیے عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ تاکہ مندرجات کو سمجھنے میں آسانی رہے ۔کتاب کے آغاز میں مصنف نے قرآن مجید کی چار آیات کے ذریعے دین، فہم دین، اقامت دین او رغلبہ دین کی طرف رہنمائی کی ہے۔ نیز چند سورتوں اور آیات کے فضائل، نمازوں میں اور نمازوں کے بعد قرآن مجید کی سورتوں اورآیات کی تلاوت، سونے سے پہلے اورروز مرہ کی بطور ورد و وظائف تلاوت اور فہم قرآن کےحلقات واجتماعات کی فضیلت بھی اس کتاب کے اہم مباحث ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (م۔ا)

تقرب الی اللہ

Authors: فاروق احمد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

آج مسلمانوں کی اکثریت جہاں زندگی کے دیگر معاملات میں افراط و تفریط کا شکار ہے وہیں عبادات کے سلسلے میں بھی وہ اعتدال و توازن سے دور ہے۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عبادات ہی کامل دین ہیں، جس نے نماز ادا کرلی، روزہ رکھ لیا اور مال دارہونے کی صورت میں زکوٰة ادا کردی اور حج کیا اس نے گویا مکمل دین پر عمل کرلیا؛ حالانکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات مقاصد بھی ہیں اور ذرائع بھی، کسی ایک چیز کے مقصداور ذریعہ ہونے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے،بعض حیثیتوں سے ایک چیز مقصود ہوسکتی ہے اور وہی چیز بعض دوسری حیثیتوں سے ذریعہ بن سکتی ہے۔بحیثیت انسان ہم سب خطا کار ہیں اور اچھے خطا کار وہ ہیں جو اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے بلکہ اقرار واستغفار کا راستہ اپناتے ہیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرب خدا وندی حاصل کرنے کے بے شمار طریقے اور ذرائع ہیں اور ایک مومن کو وہ تمام ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تاکہ کسی ذریعہ سے اللہ تعالی کا قرب حاصل ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب"تقرب الی اللہ"محترم جناب فاروق احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تخریج محترم عبد اللہ یوسف ذہبی صاحب نے کی ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے ان اعمال صالحہ کو جمع کر دیا ہے جن سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے اور انسان اپنے خالق کے قریب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)