رسول اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں


By Al Noor Softs
Posted on Jan 4, 2025
In Category Worship and matters
Authors ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی
Published By ناشر : مکتبہ قاسم العلوم، لاہور
In Year 2017
Key Word حضرت ثوبیہ کی رضاعت نبوی کی مدت....رضاعی فرزندان ثوبیہ کاخاندانی نسب
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 170
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلام انسانیت کے عمومی مفاد کے لئے معاشرے کو اکٹھا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں میں ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام رشتوں کو حتیٰ کہ ان دودھ پلانے والی عورتوں تک بھی پھیلا دیتا ہے کہ جو شیر خوار بچوں کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر حقیقی ماں کے علاوہ کوئی اور عورت کسی بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے تو وہ ایک اضافی ماں کا سا درجہ حاصل کر لیتی ہے جسے اُم رِداہ یا رضائی ماں یا دودھ پلانے والی ماں کہتے ہیں۔اس عورت کے شوہر کو بھی بچے کے باپ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی ان میں سے کسی سے شادی نہیں ہو سکتی۔اس طرح، ایک عورت جس نے کسی بچے کے دو برس کے ہونے سے پہلے اسے کم از کم پانچ بار دودھ پلایا ہو، اسلامی قانون کے دئیے ہوئے خصوصی حقوق کے تحت، وہ اپنے دودھ کے رشتے سے اس بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ دودھ پینے والا بچہ رضائی ماں کے دوسرے بچوں کا مکمل طور پر بہن یا بھائی سمجھا جاتا ہے، یعنی کہ ایسا لڑکا اپنی رضائی بہن اور ایسی لڑکی اپنے رضائی بھائی کی محرم ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا مذہب کسی دودھ پلانے والی ماں کو ایسا رُتبہ نہیں دیتا۔جب آپ ﷺ ابھی شیر خوار تھے توعلاقے کی روایت کے مطابق، کھلے صحرائی ماحول میں نومولود بچوں کو لے جانے کے لئے خواتین کا ایک گروہ مکہ آیا۔قبیلہ بنو سعد کی حضرت حلیمہ سعدیہ، وہ خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے رضائی ماں کے طور پر حضرت محمد ﷺوسلم کو گود لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر صرف آٹھ روز تھی۔حضرت حلیمہ سعدیہ کےعلاوہ حضرت ثوبیہ نےآپ ﷺ کودودھ پلا یا جنہیں آپ ﷺ کی رضائی مائیں کہا جاتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ رسول اللہ کی رضائی مائیں‘‘ ڈاکٹر پروفیسریٰسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے علاوہ آپ ﷺ کو دودھ پلانے والی خوش نصیب خواتین حضرت ثوبیہ، حضرت حلیمہ سعدیہ کا بڑی دلنشیں انداز میں تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور ان کے مقام ومرتبہ کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   92   17
 
 

اسلام انسانیت کے عمومی مفاد کے لئے معاشرے کو اکٹھا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں میں ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام رشتوں کو حتیٰ کہ ان دودھ پلانے والی عورتوں تک بھی پھیلا دیتا ہے کہ جو شیر خوار بچوں کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر حقیقی ماں کے علاوہ کوئی اور عورت کسی بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے تو وہ ایک اضافی ماں کا سا درجہ حاصل کر لیتی ہے جسے اُم رِداہ یا رضائی ماں یا دودھ پلانے والی ماں کہتے ہیں۔اس عورت کے شوہر کو بھی بچے کے باپ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی ان میں سے کسی سے شادی نہیں ہو سکتی۔اس طرح، ایک عورت جس نے کسی بچے کے دو برس کے ہونے سے پہلے اسے کم از کم پانچ بار دودھ پلایا ہو، اسلامی قانون کے دئیے ہوئے خصوصی حقوق کے تحت، وہ اپنے دودھ کے رشتے سے اس بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ دودھ پینے والا بچہ رضائی ماں کے دوسرے بچوں کا مکمل طور پر بہن یا بھائی سمجھا جاتا ہے، یعنی کہ ایسا لڑکا اپنی رضائی بہن اور ایسی لڑکی اپنے رضائی بھائی کی محرم ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا مذہب کسی دودھ پلانے والی ماں کو ایسا رُتبہ نہیں دیتا۔جب آپ ﷺ ابھی شیر خوار تھے توعلاقے کی روایت کے مطابق، کھلے صحرائی ماحول میں نومولود بچوں کو لے جانے کے لئے خواتین کا ایک گروہ مکہ آیا۔قبیلہ بنو سعد کی حضرت حلیمہ سعدیہ، وہ خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے رضائی ماں کے طور پر حضرت محمد ﷺوسلم کو گود لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر صرف آٹھ روز تھی۔حضرت حلیمہ سعدیہ کےعلاوہ حضرت ثوبیہ نےآپ ﷺ کودودھ پلا یا جنہیں آپ ﷺ کی رضائی مائیں کہا جاتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ رسول اللہ کی رضائی مائیں‘‘ ڈاکٹر پروفیسریٰسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے علاوہ آپ ﷺ کو دودھ پلانے والی خوش نصیب خواتین حضرت ثوبیہ، حضرت حلیمہ سعدیہ کا بڑی دلنشیں انداز میں تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور ان کے مقام ومرتبہ کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks