eBooks

2,841 Results Found
سقوط کابل وبغدادپس پردہ حقائق

Authors: سیف اللہ خالد

In History

By Al Noor Softs

حدیث نبوی ہے کہ عنقریب تم پرہرطرف سے قومیں ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھاناکھانے والے دسترخواں پرٹوٹ پڑتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی تعدادکم نہیں ہوگی لیکن ان کاعالم یہ ہوگاکہ سمندرکی جھاگ کی طرح ہوں گے ۔مسلمانوں کارعب دشمنوں کے دل سے نکل جائے گا۔اوران کےدلوںمیں وہن یعنی زندگی سے محبت اورموت سے نفرت پیداہوجائے گی ۔سقوط کابل وبغدادرسول کریم ﷺ کی اسی پیش گوئی کی منہ بولتی تصویرہے ۔ڈیڑھ ارب مسلم آبادی کی موجودگی میں دومسلم ریاستوں کوکفرکی اتحادی افواج نے جس طرح تہس نہس کیاہے ،یہ محض مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کانتیجہ ہے ۔زیرنظرکتاب افغان اورعراق جنگ کے دوران شائع ہونے والے ان مضامین کامجموعہ ہے جن میں کفرکی یلغارکے نتیجہ میں امت مسلمہ کے عروج وزوال کی داستان کتاب وسنت کاتاریخ اورحالات حاضرہ سے دلائل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اورساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی مددکب کرتاہے اورکب مسلمان اللہ کی مددسے محروم ہوتے ہیں۔

نبیوں کے قصے اردو ترجمہ قصص النبیین

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In History

By Al Noor Softs

ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء علیہم السلام ہیں۔ جن کا مقام عام انسانوں سے بلند ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انہیں مختلف علاقوں اور قوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔ اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اور اشاعتِ توحید کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ نبیوں کے قصے (اردو ترجمہ قصص النبیین حصہ اول تا چہارم) ‘‘عالمی شہرت یافتہ اسلامی سکالر اور عالم دین ، مؤرخ و ادیب سید ابوالحسن علی الندوی رحمہ اللہ کی بچوں کی تعلیم و تربیت اور ذہنی نشوونما کے متعلق تصنیف شدہ عربی تصنیف ’’ قصص النبین‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس میں نہایت عمدہ اور دلچسپ انداز میں نبیوں کے قصے بیان کیے گیے ہیں ۔ اردو ترجمہ کی سعادت پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر حفظہ اللہ نے حاصل کی ہے ۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ جناب مولانا محمود احمد غضنفر رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے جسے مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ہے ۔ (م۔ا)

مدارس اسلامیہ اہمیت و ضرورت اور مقاصد

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ نبی کریم ﷺنےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں بھی آپﷺ نے مسجد نبوی کے ایک جانب ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں ’’اصحاب صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام،ترویج دین اور تعلیماتِ اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر نظر کتاب’’مدارس اسلامیہ کی اہمیت وضرورت اور مقاصد‘‘ مولانا سیدابو الحسن علی ندوی﷫ کی تقریروں اور قدیم تحریروں سے مرتب شدہ ہے ۔جناب عبدالہادی اعظمی ندوی صاحب اس کے مرتب ہیں۔یہ کتاب مدارسِ اسلامیہ کامقام ومرتبہ، معاشرہ میں اس کی اہمیت وافادیت،اس کے خلاف ریشہ دوانیوں کے دفاع کی تدابیر، اس کی جانب منسوب افراد کی کوتاہیاں اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ایک جامع مرقعہ ہے ۔ (م۔ا)

اسلام کے قلعے ( مدارس دینیہ عربیہ ) اور علماء ربانی کی ذمہ داریاں

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

دینی مدارس کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ نبی کریم ﷺنےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح وشام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں بھی آپﷺ نے مسجد نبوی کے ایک جانب ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی وبیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں ’’اصحاب صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام،ترویج دین اور تعلیماتِ اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر نظر کتاب’’اسلام کے قلعےمدارس دینیہ اورعلماء ربانی کی ذمہ داریاں‘‘سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے تین مضامین(اسلام کےقلعے،عربی مدارس،علماء ربانی کی ذمہ داریاں) کا مجموعہ ہے۔اولاً یہ تینوںمضمون ندوۃ العلماء کےترجمان رسالہ’’ الندوۃ‘‘ میں جنوری 1940ء اور دسمبر1942ء میں شائع ہوئے تھے۔بعد ا زاں 1990ء میں ان تینوں مضامین کو یکجا کر کے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے یہ مضامین مدارس دینیہ عربیہ کے ذمہ دراوں اور کارکنوں کے دلوں میں نیااعتماد اور اطمینان اوران کے اندر فرائض منصبی کےادا کرنے کا نیا جذبہ وتحریک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ متشککین معترضین کو حقیقت پسندی اور زیادہ سنجیدگی وگہرائی کے ساتھ مدارس کی ہرزمانہ میں ضرورت وافادیت پر غور کرنے اور حقائق کااعتراف کرنے پر آمادہ کرنے والے ہیں ۔(م۔ا)

کاروان زندگی

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Biography

By Al Noor Softs

سیدابو الحسن علی حسنی ندوی 24 مشہور بہ علی میاں ؍نومبر 1914ء کو رائے بریلی،بھارت میں ایک علمی خاندان میں پیدہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی ۔ علی میاں نے عربی اور اردو میں پچاس سے زائد متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین مقالات اورتقاریر بھی موجود ہیں۔علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف’’ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ‘‘ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ’’ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی تصانیف میں ایک ضخیم تصنیف ’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ موصوف بھر پورعلمی زندگی گزار کر 31؍1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات پر پاک وہند کے کئی رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات کےمتعلق مضامین شائع ہوئے اور متعدد مجلات نےان کی حیات وخدمات پر مشتمل ضخیم خاص نمبر بھی شائع کیے اور کئی اصحاب قلم نے ان کی سیرت وسوانح ، خدمات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کاروانِ زندگی ‘‘مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی خودنوشت سرگزشت ِ حیا ت ہے۔ اس میں سیدابو الحسن ندوی کی ذاتی زندگی کےمشاہدات وتجربات، احساسات، وتاثرات اور ہندوستان اور عالم ِاسلام کے واقعات وحوادث اور تحریکات وشخصیات کے مطالعہ کا ماحصل اس طرح گھل مل گیا ہے کہ وہ ایک دلچسپ وسبق آموز آپ بیتی او رایک مؤرخانہ وحقیقت پسندانہ جگ بیتی بن گئی ہےجس میں چودھویں صدی ہجری اوربیسویں صدی عیسوی کی تاریخ وسرگزشت کا ایک اہم باب محفوظ ہوگیا ہے جس سے مؤرخین اور دینی وعلمی کام کرنے والے حضرات رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب کے پیش لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے اپنی وفات سے سولہ سال قبل 1983ء سے میں مکمل کرلی تھی۔(م۔ا)

قصص الانبیاء

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت ڈاکٹر کرنل فیوض الرحمٰن نے کی ہے ۔موصوف نے اس کتاب کا نہایت ہی سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اسلوب عام فہم ہے، آیات واحادیث کی مکمل تخریج وتحقیق اوراکثر مقامات سے ضعیف اورموضوع روایات کو خارج کیاہے ۔مترجم موصوف نے اس کتاب کی اصل ترتیب کوبھی درست کیا ہے ،ایک ہی واقعہ میں روایات کے تکرار کو ختم کیا ہے، قارئین کی سہولت کے لیے بہت سے مقامات پر نئے عنوانات بھی قائم کیے ہیں جو کہ امام ابن کثیر نے قائم نہیں کیے تھے ۔ او رکتاب کے آخر میں انبیاء﷩ کے واقعات سےجو نتائج وفوائد فوائد سامنے آتے ہیں ان کابھی اضافہ کردیا ہے۔مذکورہ خوبیاں کے باعث یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب بن گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ عوام کواس کتاب سے مستفید فرمائے ۔(آمین) (رفیق الرحمن)

سیرت رسول اکرم ﷺ

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In History

By Al Noor Softs

سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت رسول اکرم ﷺ ‘‘ مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ہے۔ اس کتاب میں نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور آپ کی حیات اقدس کی تعبیر و تصویر ہیں۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

مذہب و تمدن

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

زیرِ تبصرہ کتاب’’مذہب وتمدن‘‘میں ایک اہم عنوان’’ تہذیب وتمدّن‘‘جو کہ ایک اچھوتا مضمون ہے اور یہ حالاتِ حاضرہ کی ایک اہم ضرورت بھی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہر جگہ کی تہذیب پروان چڑھتی رہتی ہے ۔اسی لیے اس مضمون پر لکھنے والے حضرات کی تعداد کثیر ہے جن میں سے ایک ’’ابو الحسن علی ندوی‘‘ بھی ہیں۔ اور اس مضمون پر مصنف نے پہلے ایک مختصر مضمون لکھا تھا جو کہ ’’مذہب وتمدن‘‘کے نام سے شائع ہوا اور 1942ء میں ایک علمی مجلس میں پڑھا گیا اور پسند کیا گیا اس لیے اس مضمون کو مکمل تفصیل کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کتاب تصنیف کی گئی ہے اور نئے علمی طبقہ میں یہ مضمون دلچسپی اور سنجیدگی کےساتھ پڑھا جائے گا جو مذہب اور زندگی کے متعلق سعی وجستجو رکھتا ہے‘اور سنجیدگی کے ساتھ یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ مذہب زندگی کی کیا رہنمائی کرتا ہے‘ اور تمدن ومعاشرے کو کیا بنیادیں اور کیا رہنما اصول فراہم کرتا ہے‘اور کس اندازومزاج کی زندگی اور سوسائٹی وجود میں لاتا ہے اور اس کے بغیر زندگی اور تمدن کو کیا خطرات در پیش ہیں؟اور اس کتاب میں اہل نظر کو ایسے حقائق اور اشارے ملیں گے جو مذہب وتمدن کی بہت سی ضخیم کتابوں میں آسانی سے نہیں ملتے اور اس لئے اس موضوع پر غور فکر کرنے والوں‘لکھنے اور گفتگو کرنے والوں کو صالح ذہنی غذا اور صحیح رہنمائی حاصل ہوگی۔مزید اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کائنات‘خالقِ کائنات اور مقصدِ حیات کے بارے میں صحیح عقیدہ اور صحیح علم ہی پر ایک استوار معاشرہ اور صالح تہذیب وتمدّن کی عمارت قائم ہوتی ہے دنیا اب تک جن تہذیبی ادوار سے گزر چکی ہے وہ کن عقائد ونظریات کی پیداوار تھیں اور اسلام کس طرح ایک صالح اور صحت مند تمدّن کا وجود ہوتا ہے؟اور اس کتاب میں تین حصے یا تین فصلیں بیان ہوئی ہیں ۔ سب سے پہلے مذہب‘فلسفہ اور تمدن کے مشترک سوالات کا ذکر کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں‘دوسرے حصے میں دنیاوی اہم تمدن کا تذکرہ اور خالق کائنات اور کائنات کے بارے میں ذکر ہے‘اور تیسرے حصے میں دوسری زندگی یعنی دنیاوی زندگی کے بعد والی زندگی کے بارے میں کچھ بیان کیا گیا ہے۔اس کتاب کے مصنف ’’ابو الحسن علی حسنی ندوی‘‘ (24 نومبر 1914–31 دسمبر 1999ء)(مشہور بہ علی میاں)ایک بھارتی عالم دین، مشہور کتاب انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر کے مصنف نیز متعدد زبانوں میں پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

امام غزالی 

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Biography

By Al Noor Softs

مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام غزالی بھی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں امام غزالی کے حالات زندگی‘ ان کی خدمات اور تصانیف کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور ان کی مشہور ابحاث کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔اس میں حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور اہم باتیں جو کہ رہ گئی ہوں انہیں فٹ