eBooks

2,841 Results Found
خوشبوئے خطابت

Authors: عبد المنان راسخ

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خطابت دعوت دین کا اہم ذریعہ اور عوام الناس کو دین کا پابند بنانے کا بہترین محرک ہے۔لہذا داعی کےلیے لازم ہے کہ وہ اوصاف خطابت سے کما حقہ بہرہ ور ہو اور لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کا خاص ملکہ رکھتا ہو۔ماضی وحال میں جتنے بھی اچھے خطیب ہوئے ہیں ان کا اچھا خاصہ حلقہ اثر بھی ہے اور باعمل وباکردار خطبا کے عوام پر اچھے اثرات بھی قائم ہیں۔سو منبر ومحراب کی ذمہ داری کو ماحذ عوام پر خطابت کی دھاک بٹھانے ،فنے خطابت سے لوگوں کو اپنا درویدہ بنانے اور معاش کا ذریعہ بنانا ہی مقصود نہ ہو۔بلکہ زور خطابت سے دین کی اشاعت جاہل عوام تک اسلام کا پیغام پہنچانا ،مستشرقین کے باطل نظریات کا توڑ کرنا اور کتاب وسنت سے مدلل دلائل کے ذریعے اسلام کی حقانیت ثابت کرنا مقصود ہو۔جمعہ اور درس کی تیاری کے لیے خود ساختہ واقعات کے انتخاب اور لوگوں کی خوشنودی اور واہ واہ حاصل کرنے کے بجائے آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے مواد لیا جائے۔اور خوب تیاری کر کے منتخب موضوع کا حق ادا کیا جائے۔ان چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے ممدوح فضیلت الشیخ عبدالمنان راسخ حفظہ اللہ کا یہ مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے ۔جو فن خطابت کا حسین شاہکار اور خطبا کے لیے روشن مثال ہے ۔(ف۔ر)

سیرت فاطمۃ الزہرا ؓ ( جدید ایڈیشن )

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Knowledge

By Al Noor Softs

سید البشرحضرت محمد رسول اللہ ﷺکی چا ربیٹیاں تھیں،سیدہ فاطمہ ؓ سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم ﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت فاطمہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں،چال ڈھال اور نشست وبرخاست میں ہوبہو اپنے والد محمد مصطفیٰﷺکی تصویر تھیں۔ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آٖج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفر کی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا ؓ میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خادنہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت فاطمہ ؓ عنہا‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے جگر گوشۂ رسول سیدہ بتول حضرت فاطمۃ الزاہراء کی سیرت کردار اوراخلاق وگفتار کو بڑے آسان فہم انداز میں واضح کردیا ہے۔موجودہ ایڈیشن سے قبل اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس ایڈیشن کو مسلم پبلی کیشنز ،لاہورکے مدیر جناب محمد نعمان فاروقی ﷾ نے نئےانداز میں تخریج کےساتھ شائع کیا ہےجس اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

سیرت فاطمۃ الزہراء

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

سید البشرحضرت محمد رسول اللہ ﷺکی چا ربیٹیاں تھیں، سیدہ فاطمہ ؓ سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم ﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت فاطمہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں،چال ڈھال اور نشست وبرخاست میں ہوبہو اپنے والد محمد مصطفیٰﷺکی تصویر تھیں۔ ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آٖج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفر کی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا ؓ میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خادنہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت فاطمہ ؓ عنہا‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے جگر گوشۂ رسول سیدہ بتول حضرت فاطمۃ الزاہراء کی سیرت کردار اوراخلاق وگفتار کو بڑے آسان فہم انداز میں واضح کردیا ہے۔موجودہ ایڈیشن سے قبل اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس ایڈیشن کو مسلم پبلی کیشنز، لاہورکے مدیر جناب محمد نعمان فاروقی﷾ نے نئےانداز میں تخریج کےساتھ شائع کیا ہے جس اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کتاب کا موجودہ ایڈیشن اولاً مسلم پبلی کیشنز لاہور کی طرف سے تقریبا دس سال قبل شائع ہوا بعد ازاں اسی کتاب کا عکس مکتبہ الفہیم ،انڈیا نے جو ن 2014ء میں شائع کیا۔ (م۔ا)

نقوش ابو الکلام و مقالات آزاد

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔آپ ایک سنی المسلک انسان تھے ۔آپ کا قادیانیت یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔لیکن اس کا باوجود بعض لوگوں نے آپ پر مرزا قادیانی کا جنازہ پڑھنے کا بہتان لگا کر آپ کو قادیانیت کی طرف میلان رکھنے والا ظاہر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نقوش ابو الکلام ومقالات آزاد "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا عبد المجید سوہدروی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا آزاد کے مسلک اور عقیدے پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

رہبر کامل (عبد المجید سوہدروی)

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے ۔اور ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے۔ جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رہبر کامل‘‘مولانا عبدالمجید سوہدروی﷫کی سیرت النبی ﷺ پر مختلف پہلوؤں کےاعتبار سےمنفرد کتاب ہے۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے آپ ﷺ کی نادرشخصیت کے19 دلآ ویز پہلو ؤں کا شاندار تذکرہ اس انداز سے کیا ہے کہ کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی کےاحوال سامنے آجاتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف کے پوتے مولانا محمد ادریس فاروقی﷫ نےبھی گرانقدر اضافے کیے ہیں۔ مولانا فاروقی مرحوم نے اس کتاب کا 14 واں ایڈیشن سپرد اشاعت کیا تھا کہ وہ خود جوارِرحمت میں جاپہنچے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی وعلمی خدمات قبول فرمائے۔ زیر نظر ایڈیشن اس کتاب کا اٹھارواں ایڈیشن ہے اس ایڈیشن کو محترم نعمان فاروقی صاحب نے پہلے سےبھی زیادہ دلکش اورعمدہ بنانے کی کوشش کی ہے مزید حوالے لگائےہیں اور جہاں ضرورت تھی وہاں حواشی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ہر شخص کےلیے لائق مطالعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف اور ناشر کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اور وز قیامت نبی کریم ﷺ کے جھنڈے تلے سب کو جمع فرمائے (آمین)(م۔ا)

استاد پنجاب

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Knowledge

By Al Noor Softs

علماء علوم نبوت کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ہماری اسلامی درسگاہیں انہی علوم ِنبوت کی درس وتدریس ،تعلیم وتعلم اوراس حوالے سے تزکیۂ نفوس کےادارے ہیں۔برصغیر میں اسلامی درسگاہوں کی ایک مستقل اورمسلسل روایت رہی ہے۔ اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ کےخاندان نے اس روایت کا سب سےروشن مرکز تشکیل دیا۔ اس خاندان کےایک چشم وچراغ شاہ محمداسحاق دہلوی سے سید نذیر حسین محدث دہلوی نے تیرہ سال تک تعلیم حاصل کی ۔شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی نے کامل 63 سال تک درس وتدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ برصغیر میں علم حدیث کی تدریس کا سب سے مضبوط مرکز اورقلعہ انہیں کی قائم کردہ درسگاہ تھی ۔جس میں شبہ قارہ کے ہر حصے سےطلبہ استفادے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ایسے ہی تلامذہ میں ایک تلمیذ الرشید حافظ عبد المنان وزیرآبادی ہیں۔بیسویں صدی میں علوم حدیث کی روایت کومستحکم کرنے میں حافظ عبد المنان وزیر آبادی نےپنجاب میں سب سے زیاد فیض رسانی کےاسباب پیدا کیے ۔ حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی اپنےعہد میں پنجاب میں حدیث کے سب سےممتاز استاد تھےجن کےتلامذہ پنجاب کےہر حصے میں بالعموم اوراس علمی اور سلفی روایت کے چراغ روشن کرتے رہے۔مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی ﷫ کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظاہری آنکھوں سے محروم کردیا تھا مگر ان کی دل کی آنکھیں روشن فرمادی تھیں۔ آپ کا شمار ممتاز محدثین میں ہوتا ہے شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محددہلوی ﷫ نےاپنے اس شاگرد کو جوعمامہ عطا فرمایا تھا اس عظیم شاگرد نے اس عمامے کاحق ادا فرمادیا۔پوری زندگی درس حدیث دیا ۔ مسند حدیث پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی میں 100 مرتبہ درس بخاری دیا۔ ایسی مثالیں اسلامی تاریخ میں نظر نہیں آتیں۔ پیش نظر کتاب ’’استاد پنجاب‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی کی تصنیف ہے یہ کتاب حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کی وفات کےچھ سال بعد 1922 میں شائع ہوئی ۔کتاب ہذا اسی طبع کا جدید ایڈیشن ہے۔اس کتاب میں مصنف نے استاد پنجاب کے ابتدائی حالات، حصول تعلیم کےلیے روانگی،استاد پنجاب کا حدیث سے والہانہ شوق،پنجاب اور وزیرآباد کےحالات، مولانا کی اولاد ،اساتذہ، معاصرین اور آپ کے چند تلامذہ کا تذکر ہ بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔مولانا وزیر آبادی کے حالات واقعات اور اور ان کے سوانح حیات پر مشمتل جامع اور مستند کتاب ہے۔مولانا محمد ادریس فاروقی کی تزئین وترتیب سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

شرح اربعین نووی 40 احادیث ) عبد المجید سوہدروی )

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکی ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’شرح اربعین نووی‘‘ مولانا حکیم عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی ہے۔انہوں نے کتبِ احادیث کا ترجمہ کرنے کا آغاز اربعین نووی سے ہی کیا اور ساتھ ہی بڑی آسان ، معاشرتی اوراخلاقی پہلوؤں پر مشتمل اور بہت سے نکات کی حامل شرح لکھی۔ جو پہلی بار 1955ء میں شائع ہوئی۔اس کےبعد اب جناب مولانا محمد نعمان فاروقی صاحب (مدیر مسلم پبلی کیشنز )نےاسے بڑی عمدہ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔اپنی افادیت کےباعث یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے خواتین کےمدارس میں عمومی طور پر اور بچوں کے مدارس کی ابتدائی کلاسوں میں اور دینی سکولوں کےنصاب میں شامل کیا جائے ۔جن احباب نےبھی کتاب کوطباعت کےلیےتیار کرنےمیں حصہ لیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

دولت مند صحابہ ؓ

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال رائج ہو رہا ہے کہ دنیا اور دنیا کی دولت بہت بری چیز ہے۔اور اسلام حصول دولت اور سیم وزر جمع کرنے کے بہت خلاف ہے اور فقر وفاقہ ہی کی تعلیم دیتا ہے،چنانچہ اکثر ملا اور واعظ بھی اپنے وعظوں میں اسی قسم کی ذہنیت پیدا کرنے اور اسی کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان دن بدن کمزور اور نادار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔افلاس اس کے سروں پر مسلط ہو رہا ہے،قرض بڑھتا جا رہا ہے ،اور اغیار سونے چاندی میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔مسلمانوں کا وہ طبقہ جو دیندار یا روحانیت کا علمبردار کہلاتا ہے وہ تو یہی کہتا ہے کہ مسلمان دنیوی ترقی نہیں کر سکتے نہ ہی کرنی چاہئے۔ زیر تبصرہ کتاب " دولت مند صحابہ " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حکیم عبد المجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بطور نمونہ دولت مند صحابہ کرام ،صحابیات کرام اور تابعین عظام ﷭کے ایمان افروز تذکرے جمع فرما کر مسلمانوں کو یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ وہ دولت کمانا،بچانا اور پھر اسے صحیح جگہ پر لگانا سیکھیں۔جن تک وہ کوتاہ ہمت ،کم کوش اور کام چور رہیں گے ان کی اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ اقوام عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

انگریز اور وہابی

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Arguments

By Al Noor Softs

اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے- اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد" قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے- اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔لیکن بعض لوگوں نے بطور اعتراض انہیں وہابی کہنا شروع کر دیا اور ان کی نسبت عالم عرب کے معروف مبلغ محمد بن عبد الوھاب﷫ کی طرف کرنے لگے۔ زیر تبصرہ کتاب " انگریز اور وہابی "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا عبد المجید سوہدروی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے دلائل وشواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ لفظ "وہابی"انگریز کی ایجاد ہے۔یہ لفظ اس نے ان سرگرم مسلمان نوجوانوں کے لئے ایجاد کیا جو اس کے خلاف شمشیر بکف اور صف آراء تھے۔حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن حاملین کتاب وسنت کو "وہابی"کے لقب سے یا د کیا جاتا ہے،وہ نہ محمد بن عبد الوھاب﷫ کے معتقد ہیں نہ پیروکار ،نہ ہی اس کے مقلد اور نہ ہی اس کے طرف اپنی نسبت کرتے ہیں۔ہاں البتہ اسے عالم عر ب کا ایک پرجوش مصللح ،پر تاثیر مبلغ اور کھرا مسلمان ضرور سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)