یورپ پر اسلام کے احسان


By Al Noor Softs
Posted on Dec 6, 2024
In Category Quran and Quranic Sciences
Authors ڈاکٹر غلام جیلانی برق
Published By ناشر : شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لاہور ، حیدرآباد ، کراچی
In Year 2019
Key Word قرون وسطی میں یورپ کی سیاسی ہیئت..غربی ورمہ کے بادشاہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 322
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
یورپ دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔آج جن کتابوں کا ایک بے پناہ طوفان مغرب سے اٹھ کر مشرق کو لپیٹ میں لے رہا ہے ان میں سے کوئی یہ نہیں بتاتی کہ وہ راجر بیکن جسے انگلستان میں بابائے سائنس سمجھا جاتا ہے عربوں کا شاگرد تھا اور وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ صحیح علم حاصل کرنا ہے تو عربی پڑھو۔ مؤرخین مغرب یونانیوں کو علم کا سرچمشہ بتاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان کی کتابیں چھ سو برس تک اسکندریہ،ایتھنز اور قسطنطنیہ میں مقفّل پڑی رہیں عربوں نے انہیں نکالا عربی ترجمہ کیااور یہی تراجم مسلمانوں کے ساتھ یورپ میں پہنچے ۔جناب ڈاکٹرغلام جیلانی برق نے زیر نظر کتاب ’’ یورپ پر اسلام کے احسانات‘‘ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ گلیلیو، کپلر ، برونو ، راجر بیکن عربوں کےہی نقال تھے او رجو عربی تہذیب نے یورپ پر اثرات مرتب کیے ان کوبھی واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ امریکہ کو دریافت کرنے والے کولمبس نےبحر پیمائی کی تعلیم اسلامی درسگاہو میں حاصل کی تھی اس کےپاس رہنمائی کے لیے جو کمپاس تھا اسے عربوں نےایجاد کی تھا اور افریقہ جانے والوں کےپاس جو نقشے تھے وہ عرب بحیرہ روم ، بحیرہ قلزم ، بحر ہند اوربحر الکاہل کے سفر میں صدیوں سے استعمال کرر ہے تھے ۔ الغرض ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اس کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ہمارے جلیل وعظیم اسلاف کےعلمی کارنامے کیا تھے ؟ وہ کیسے یورپ میں پہنچے اور وہاں کے وحشیوں کو کس طرح انسان بنایا۔یورپ جہالت وحشت ،بربریت اور فلاکت کی دلدلوں میں ڈوبا ہوا تھا ہمارے اسلاف نے اسے ان غلاظتوں سے نکالا اور علوم وفنون سے روشناس کیا تہذیب وتمدّن کا سبق دیا اور عروج وعظمت کی راہوں پر ڈالا۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   155   22
 
 

یورپ  دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔آج جن کتابوں کا ایک بے پناہ طوفان مغرب سے اٹھ کر مشرق کو لپیٹ میں لے رہا ہے ان میں سے کوئی یہ نہیں بتاتی کہ وہ  راجر بیکن جسے انگلستان میں بابائے سائنس سمجھا جاتا ہے عربوں کا  شاگرد تھا اور وہ  اپنے شاگردوں  سے کہا کرتا تھا کہ صحیح علم حاصل  کرنا ہے تو عربی پڑھو۔ مؤرخین مغرب یونانیوں کو علم کا  سرچمشہ بتاتے ہیں   لیکن یہ نہیں بتاتے  کہ  ان کی کتابیں چھ سو برس تک  اسکندریہ،ایتھنز اور قسطنطنیہ میں مقفّل پڑی رہیں عربوں نے  انہیں نکالا عربی ترجمہ کیااور یہی تراجم مسلمانوں کے ساتھ یورپ میں پہنچے ۔جناب ڈاکٹرغلام جیلانی برق  نے زیر نظر کتاب ’’ یورپ پر اسلام کے احسانات‘‘ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ گلیلیو، کپلر ، برونو ، راجر بیکن عربوں  کےہی نقال تھے  او رجو عربی تہذیب نے یورپ پر اثرات مرتب کیے ان کوبھی واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ امریکہ کو دریافت کرنے   والے  کولمبس نےبحر پیمائی کی تعلیم اسلامی درسگاہو میں حاصل کی  تھی اس کےپاس  رہنمائی کے لیے جو کمپاس تھا   اسے عربوں نےایجاد کی تھا اور افریقہ جانے والوں کےپاس جو نقشے تھے  وہ عرب بحیرہ روم ، بحیرہ قلزم ، بحر ہند اوربحر  الکاہل کے سفر میں صدیوں سے استعمال کرر ہے تھے ۔ الغرض ڈاکٹر  غلام جیلانی برق نے   اس کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ہمارے جلیل وعظیم اسلاف کےعلمی کارنامے کیا تھے ؟ وہ کیسے یورپ میں پہنچے  اور وہاں کے وحشیوں کو کس طرح انسان بنایا۔یورپ جہالت وحشت ،بربریت اور فلاکت کی دلدلوں میں ڈوبا ہوا تھا  ہمارے اسلاف نے  اسے ان غلاظتوں سے نکالا  اور علوم وفنون سے روشناس کیا تہذیب وتمدّن کا سبق دیا اور عروج وعظمت کی راہوں  پر ڈالا۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks