اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں انسانوں کےلیے اور تمام کائنات کےلیے اصول وضوابط مقرر کردیئے ہیں۔ دینا میں بھی قرآن حکیم کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق فیصلہ ہوگا اور آخرت میں بھی انہی اصولوں کو سامنے رکھ کر حساب ہوگا۔ جو ان اصولوں کی پابندی کرے گا۔ بلاشک وشبہ وہ جنتی ہے اور جو ان کے خلاف ورزی کرے گا اس سے معاملہ سخت ہوگا۔ تمام نسل انسانی کےلیے قرآنی حکیم ایک رول کتاب ہے۔اس کے اصولوں پر چلنا نیکی ہے اور اس کے اصولوں کے خلاف ورزی کرنا بدی ہے۔ نیکی اور بدی اگرچہ ایسا مادی وجود تو نہیں رکھتیں کہ جنہیں آنکھوں سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھو کے محسوس کیا جاسکتا ہو۔ ہاں اس کے اثرات کو ضرور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ گناہوں کا انسان سے سرزد ہوجانا کوئی بعید امر نہیں ۔ ہاں رب تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کی زبان سے کچھ ایسے اعمال امت مسلمہ کےلیے بیان فرمادیے ہیں جن میں گناہوں کو دھونے کی مخصوص قوت وتاثیر رکھی گئی ہے۔ نبی ﷺ کی زبان سے بکھرنے والے ان خوشبو بھرے پھولوں کو چن کر ایک مہکتا گلدستہ بنانے کا اس کتاب میں التزام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(ک۔ح)