دین اسلام کے بنیادی اور اہم ترین اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں سے بالعموم اور اپنےمسلمان بھائیوں کےساتھ بالخصوص ،خیر خواہی ،ہمدردی او ربھلائی کامعاملہ کیا جائے سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کو لوگو ں کو صراط مستقیم کی رہنمائی کی جائے برائیوں اور معصیتوں سے خبردار کیا جائے اسی کا دوسرا نام ''فريضہ تبلیغ دین'' یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے عصر حاضر میں جو حضرات خدمت دین کا فريضہ سر انجام دے رہے ہیں ان میں ایک دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمدسرفراز صاحب ہیں جو ماشاء اللہ دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے حلقہ میں ان کی تصانیف کو خوب پذیرائی حاصل ہے لیکن چونکہ وہ تمام مسائل کو اپنے مخصوص زاویہ نظر وفکر میں پیش کرتے ہیں اس لیے اکثروبیشتر اس کے تحفظ میں حد اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں اپنے او ردوسرے مکتب فکر کے حضرات کےلیے عدل وانصاف کےپیمانے بھی ان کے ہاں مختلف ہیں جواصول اپنے دفاع میں ایک جگہ بڑی محنت وکاوش سے منتخب کرتے ہیں وہی اصول مخالف سمت میں آئے تواسکی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیتے ہیں اس طرح کی بہت سی ناانصافیاں ان کی تصانیف میں نظر آتی ہیں جیسا کہ انشاء اللہ العزیز اس رسالہ سے عیاں ہوگابلاشبہ انسان غلطی وخطا کاپتلا ہے ہمارا یہاں مقصور الدین النصیحۃ کے ارشادنبوی ﷺ کےتحت ان باتوں سے محض خبردار کرنا ہے حضرت مولانا صاحب کےحلقہ ارادت سے بالخصوص اور عام مسلمانوں سے بالعموم عرض کرناہے کہ وہ حضرت مولانا صاحب کےمزاج اور ان کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ ''خذ ماصفا ودع ماکدر'' پر عمل کریں۔ مولانا سرفراز صاحب تو اس دارفانی سے رخصت ہو چکے اب ان کے جانشین احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ بھی ہمار ی یہ گذارشات درست او رحقیقت پر مبنی سمجھیں تو للہ ان کی تصانیف کے آئندہ ایڈیشنوں میں ان کی اصلاح کریں کیونکہ اس قسم کی بھول بھلیاں ایک صاحب علم وفضل پر بدنما داغ ہیں-
There are no reviews for this eBook.
0
0 out of 5
(0 User reviews )