مقالات محدث مباکپوری


By Al Noor Softs
Posted on Sep 14, 2024
In Category Biography
Authors عبد الرحمن مبارکپوری
Published By ادارۃ العلوم الاثریہ، فیصل آباد
In Year 2015
Key Word مختصر حالات حضرت محد ث رحمتہ اللہ علیہ مبار کپوری..تحفہ الاحوذی شر ح سنن التر مذی
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 512
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
مولانا محمد عبدالرحمٰن مبارکپوری ﷫ شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے چند مامور شاگردوں میں سے ایک ہیں ۔آپ اپنے وقت کےبہت بڑے محدث،مفسر، محقق، مدرس ، مفتی،ادیب اور نقاد تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کی غیر معمولی بصیرت وبصارت،نظر وفکرکی گہرائی ،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اور ژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی ۔زہد وتقوی ،اخلاص وللّٰہیت،حسن عمل اور حسن اخلاق کے پیکر تھے۔یہ ایک حقیقت ہےکہ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ کی تاریخ تب تلک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں مولانا عبدالرحمٰن محدث مبارکپوری ﷫ کی خدمات اور ان کا تذکرہ نہ ہو۔جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی ان ہی کی تصنیف ہے۔ اس شرح سے ان کو برصغیر کے علاوہ عالم ِاسلام میں شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔ حدیث اور تعلیقات حدیث پر ان کو عبور کامل تھا۔ تدریس میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ تصنیف وتالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے۔اس شرح کے علاوہ بھی دو درجن سے زائد مختلف عناوین پر ان کی تحقیقی کاوشیں صحیفۂ قرطاس پر مرتسم ہیں ۔مولانا حبیب الرحمن قاسمی (حنفی) فرماتے ہیں کہ ’’مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری کو اللہ تعالیٰ نے علم وعمل سے بھر پور نوازا تھا۔ دقت نظر‘ حدت ذہن‘ ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف وکمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا‘ خاص طور سے علم حدیث میں تبحر وامامت کا درجہ رکھتے تھے۔ روایت کے ساتھ درایت کے مالک اور جملہ علوم آلیہ وعالیہ سے یگانہ روزگار تھے۔ قوت حافظہ بھی خدا داد تھی۔ بینائی سے محروم ہو جانے کے بعد بھی درسی کتابوں کی عبارتیں زبانی پڑھا کرتے تھے اور ہر قسم کے فتاویٰ لکھوایا کرتے تھے۔ مولانا اپنی تصانیف میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ فقہاء خاص طور سے احناف کے بارے میں نہایت شدید رویہ رکھتے تھے اور بڑی شد ومد سے ان کا رد کرتے تھے۔ مگر یہ معاملہ صرف تصنیف تک محدود تھا جو سراسر علمی وتحقیقی تھا۔‘‘ (تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۱۴۵) زیر تبصرہ کتاب’’مقالات محدث مبارکپوری﷫ ‘‘ مولانا محمد عبد الرحمٰن مبارکپوری﷫ کی نایاب تصانیف کا مجموعہ ہے ۔اس میں مولانامبارکپوری مرحوم کی آٹھ تصانیف کے علاوہ ان نادر مکتوبات اور شیخ الھلالی﷫ کا وہ قصیدہ جو انہوں نے حضرت مبارکپوری کےمحامد ومناقب میں لکھا شامل اشاعت ہے۔ اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارۃالعلوم الاثریہ ،فیصل کے ریسرچ سکالر مولانا حافظ خبیب احمد ﷾ نےکی ہے او ر اور مقدور بھرحوالہ جات کا تقابل بھی کیا ہے۔اور آیات مبارکہ اوراحادیث وآثار کی مختصر تخریج بھی کردی ہے۔ ان مقالات کو اس قدر عمدہ طریقے سےشائع کرنے سعادت محقق دور اں مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس عمدہ کاوش اور ان کی تمام تحقیقی وعلمی، تصنیفی وتدریسی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آمین) (م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   276   52
 
 

مولانا محمد عبدالرحمٰن مبارکپوری ﷫ شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے چند مامور شاگردوں میں سے ایک ہیں ۔آپ اپنے وقت کےبہت بڑے محدث،مفسر، محقق، مدرس ، مفتی،ادیب اور نقاد تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کی غیر معمولی بصیرت وبصارت،نظر وفکرکی گہرائی ،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اور ژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی ۔زہد وتقوی ،اخلاص وللّٰہیت،حسن عمل اور حسن اخلاق کے پیکر تھے۔یہ ایک حقیقت ہےکہ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ کی تاریخ تب تلک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں مولانا عبدالرحمٰن محدث مبارکپوری ﷫ کی خدمات اور ان کا تذکرہ نہ ہو۔جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی ان ہی کی تصنیف ہے۔ اس شرح سے ان کو برصغیر کے علاوہ عالم ِاسلام میں شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔ حدیث اور تعلیقات حدیث پر ان کو عبور کامل تھا۔ تدریس میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ تصنیف وتالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے۔اس شرح کے علاوہ بھی دو درجن سے زائد مختلف عناوین پر ان کی تحقیقی کاوشیں صحیفۂ قرطاس پر مرتسم ہیں ۔مولانا حبیب الرحمن قاسمی (حنفی) فرماتے ہیں کہ ’’مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری کو اللہ تعالیٰ نے علم وعمل سے بھر پور نوازا تھا۔ دقت نظر‘ حدت ذہن‘ ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف وکمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا‘ خاص طور سے علم حدیث میں تبحر وامامت کا درجہ رکھتے تھے۔ روایت کے ساتھ درایت کے مالک اور جملہ علوم آلیہ وعالیہ سے یگانہ روزگار تھے۔ قوت حافظہ بھی خدا داد تھی۔ بینائی سے محروم ہو جانے کے بعد بھی درسی کتابوں کی عبارتیں زبانی پڑھا کرتے تھے اور ہر قسم کے فتاویٰ لکھوایا کرتے تھے۔ مولانا اپنی تصانیف میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ فقہاء خاص طور سے احناف کے بارے میں نہایت شدید رویہ رکھتے تھے اور بڑی شد ومد سے ان کا رد کرتے تھے۔ مگر یہ معاملہ صرف تصنیف تک محدود تھا جو سراسر علمی وتحقیقی تھا۔‘‘ (تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۱۴۵) زیر تبصرہ کتاب’’مقالات محدث مبارکپوری﷫ ‘‘ مولانا محمد عبد الرحمٰن مبارکپوری﷫ کی نایاب تصانیف کا مجموعہ ہے ۔اس میں مولانامبارکپوری مرحوم کی آٹھ تصانیف کے علاوہ ان نادر مکتوبات اور شیخ الھلالی﷫ کا وہ قصیدہ جو انہوں نے حضرت مبارکپوری کےمحامد ومناقب میں لکھا   شامل اشاعت ہے۔ اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارۃالعلوم الاثریہ ،فیصل کے ریسرچ سکالر مولانا حافظ خبیب احمد ﷾ نےکی ہے او ر اور مقدور بھرحوالہ جات کا تقابل بھی کیا ہے۔اور آیات مبارکہ اوراحادیث وآثار کی مختصر تخریج بھی کردی ہے۔ ان مقالات کو اس قدر عمدہ طریقے سےشائع کرنے سعادت محقق دور اں مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس عمدہ کاوش اور ان کی تمام تحقیقی وعلمی، تصنیفی وتدریسی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آمین) (م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks