شادی ایک سماجی تقریب ہے جو دنیا کے ہر مذہب ہر خطے اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے ہے جسے چھوڑ دینے سے نسلِ انسانی ہی منقطع ہوکررہ جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر میں طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا اہل معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے مالی اور جسمانی تکلف اور تکلیف کاباعث ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی کوایک اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت حاصل ہے ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے موجودہ معاشرے میں اسے ایک مشکل ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی ہیں جن میں مال خرچ بھی ہوتا ہے اور متعلقین کوبھی بار بار مال اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک طائرانہ نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے اکثر کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی شامل کر لیے گیے ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’شادی کی رسومات ‘‘ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں شادی بیاہ کا مسنون طریقہ بیان کرنے کے بعد اس موقع پر ناجائز رسومات اور ہندوانہ رسوم ورواج اور خرافات کو عام فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو اہل اسلام کےلیے فائد مند بنائے (آمین) (م۔ا)
There are no reviews for this eBook.
0
0 out of 5
(0 User reviews )