سندھ و ہند کی قدیم شخصیات ترجمہ اردو رجال السند و الہند


By Al Noor Softs
Posted on Jan 3, 2025
In Category Knowledge
Authors قاضی اطہر مبارکپوری
Published By ناشر : مکتبہ خدیجۃ الکبری کراچی
In Year 2019
Key Word اس سے بڑی خوشی ہوئی۔۔۔عروس البلاد بمبئی میں
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 401
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
مورخ اسلام قاضی اطہر مبارکپوری (1916ء - 1996ء) قصبہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا مولانا احمد حسین رسولپوری نےآپ کا نام عبد الحفیظ رکھا۔ مگر قاضی اطہر سے مشہور ہوئے۔ اطہر آپ کا تخلص ہے، جوانی میں کچھ دنوں خوب شاعری کی، برجستہ اشعار کہتے تھے، پھر شاعری چھوڑ دی۔ قاضی اس لیے کہے جاتے ہیں کہ آپ کے خاندان میں ایک عرصہ تک نیابت قضا کا عہد قائم رہا۔آپ کے ہاں ابتدا میں بہت تنگی تھی۔ گزر اوقات بہت مشکل تھی۔ اس لیے زمانۂ طالب علمی میں ہی جلد سازی کا کام کرنے لگے۔ جلد سازی کے لوازمات اعظم گڑھ جا کر لاتے تھے۔ اس میں کئی گھنٹے صرف ہوتے تھے۔ لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے تعلیم ترک نہ کی۔ کتابوں سے بہت محبت تھی۔ اس لیے پیسہ پیسہ جمع کرتے۔ جب اتنے پیسے جمع ہو جاتے کہ کوئی کتاب خرید لی جائے تو کتاب خرید لیتے۔ زندگی کا بڑا حصہ تنگی و ترشی میں گزرا۔ لیکن اخیر عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر رزق کے دروازے کشادہ کر دیے۔ حتیٰ کہ آپ کا شمار مبارکپور کے امرا میں ہونے لگا۔ بچپن سے ہی آنکھیں کمزور تھیں۔ لیکن ضعفِ بصارت کی وجہ سے کثرتِ مطالعہ سے نہیں رکے۔ اور نہ ہی اس چیز نے کثرت تصنیف و تالیف سے روکا۔ ےآپ نے اپنے شہر مبارکپور میں ایک ادارہ ’’دائرہ حلبیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا۔آپ کئی کتب کے مصنف ہیں تاریخ آپ کا خاص موضوع ہے بالخصوص ہندوستان کی اسلامی تاریخ ۔ پاکستانی علما کے پاس آپ کی شخصیت اور تحقیقات کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اسلامی تہذیب و تاریخ پر آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے علماء نے آپ کو ’’محسنِ ہند‘‘ کا لقب دیا۔آپ کی تصنیفات میں ایک اہم کتاب ’’ رجال السند الہند‘‘ عربی زبان میں ہے زیر نظر کتاب’’سندھ وہند کی قدیم شخصیات‘‘ قاضی اظہر مبارکپوری کی معروف کتاب’’رجال السند والہند ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ قاضی صاحب نے اس کتاب میں پہلی صدی سے ساتویں صدی ہجری سے پہلے تک کی یکصد سے زائد ایسی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے علم وفضل، تحقیق ومطالعہ، تدریس وتعلیم، صلاح وورع، اصلاح وتزکیہ، سیاست وحکومت اور طب وجغرافیہ، نحو وہئیت یا دیگر میدانوں میں قابل قدر خدمات نجام دیں۔قاضی مرحوم نے اصل کتاب سے پہلے مقدمۂ کتاب کے طور پرسندھ و ہند کے بعض مشہور تاریخی مقامات اور شہروں کا تعارف کرایا ہے جو قابل مطالعہ اور لائق تحسین ہے ۔پھر حروف تہجی کی ترتیب پر اعلام وشخصیات کا تذکرہ شامل کتاب ہے۔کتاب کے آخر میں ’’باب الآباء اور’’باب الابناء‘‘ کے عنواں سے ان اعلام کا تذکرہ ہے جو اپنے والد اوبیٹوں کی جانب نسبت وکنیت سے شہرت یافتہ ہیں ۔صاحب کتاب نے کتاب کا اختتام ’’ باب المجاهيل ‘‘ پر کیا ہے یعنی جن کے نام وغیرہ کی بابت تصریح دست یاب نہ ہوسکی اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کا تعلق سندھ وہند کے کس علاقے سے تھا۔ہمیں یہ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں موصول ہوئی کتاب وسنت سائٹ کے قارئین کے لیے اسے سائٹ پر پبلش کیا کیا ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   80   17
 
 

مورخ اسلام قاضی اطہر مبارکپوری (1916ء - 1996ء) قصبہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا مولانا احمد حسین رسولپوری نےآپ کا نام  عبد الحفیظ رکھا۔ مگر قاضی اطہر سے مشہور ہوئے۔ اطہر آپ کا تخلص ہے، جوانی میں کچھ دنوں خوب شاعری کی، برجستہ اشعار کہتے تھے، پھر شاعری چھوڑ دی۔ قاضی اس لیے کہے جاتے ہیں کہ آپ کے خاندان میں ایک عرصہ تک نیابت قضا کا عہد قائم رہا۔آپ کے ہاں ابتدا میں بہت تنگی تھی۔ گزر اوقات بہت مشکل تھی۔ اس لیے زمانۂ طالب علمی میں ہی جلد سازی کا کام کرنے لگے۔ جلد سازی کے لوازمات اعظم گڑھ جا کر لاتے تھے۔ اس میں کئی گھنٹے صرف ہوتے تھے۔ لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے تعلیم ترک نہ کی۔ کتابوں سے بہت محبت تھی۔ اس لیے پیسہ پیسہ جمع کرتے۔ جب اتنے پیسے جمع ہو جاتے کہ کوئی کتاب خرید لی جائے تو کتاب خرید لیتے۔ زندگی کا بڑا حصہ تنگی و ترشی میں گزرا۔ لیکن اخیر عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر رزق کے دروازے کشادہ کر دیے۔ حتیٰ کہ آپ کا شمار مبارکپور کے امرا میں ہونے لگا۔ بچپن سے ہی آنکھیں کمزور تھیں۔ لیکن ضعفِ بصارت کی وجہ سے کثرتِ مطالعہ سے نہیں رکے۔ اور نہ ہی اس چیز نے کثرت تصنیف و تالیف سے روکا۔ ےآپ  نے اپنے شہر مبارکپور میں ایک ادارہ ’’دائرہ حلبیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا۔آپ کئی کتب کے مصنف ہیں  تاریخ آپ کا خاص موضوع ہے بالخصوص ہندوستان کی اسلامی تاریخ ۔ پاکستانی علما کے پاس آپ کی شخصیت اور تحقیقات کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اسلامی تہذیب و تاریخ پر آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے علماء نے آپ کو  ’’محسنِ ہند‘‘ کا لقب دیا۔آپ کی تصنیفات میں ایک اہم کتاب ’’ رجال السند الہند‘‘   عربی زبان میں ہے زیر نظر کتاب’’سندھ وہند کی قدیم شخصیات‘‘ قاضی اظہر مبارکپوری کی  معروف کتاب’’رجال السند والہند ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ قاضی صاحب نے اس  کتاب میں   پہلی صدی سے  ساتویں صدی ہجری  سے پہلے تک  کی  یکصد سے زائد ایسی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے  علم وفضل، تحقیق ومطالعہ، تدریس وتعلیم، صلاح وورع، اصلاح وتزکیہ، سیاست وحکومت اور طب وجغرافیہ، نحو وہئیت یا دیگر میدانوں میں قابل قدر خدمات نجام دیں۔قاضی  مرحوم نے اصل کتاب سے پہلے مقدمۂ کتاب کے طور پرسندھ و ہند کے بعض مشہور تاریخی مقامات اور شہروں کا تعارف کرایا ہے  جو  قابل مطالعہ اور لائق تحسین ہے ۔پھر حروف تہجی کی ترتیب پر اعلام وشخصیات کا تذکرہ شامل کتاب ہے۔کتاب کے آخر میں  ’’باب الآباء اور’’باب الابناء‘‘ کے عنواں سے ان اعلام کا تذکرہ ہے جو اپنے والد اوبیٹوں کی جانب نسبت وکنیت سے شہرت یافتہ ہیں ۔صاحب کتاب نے  کتاب کا اختتام ’’ باب المجاهيل ‘‘ پر کیا ہے یعنی جن کے نام وغیرہ کی بابت تصریح دست یاب نہ ہوسکی اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کا تعلق سندھ وہند کے کس علاقے سے تھا۔ہمیں یہ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں  موصول ہوئی کتاب وسنت سائٹ کے قارئین کے لیے اسے سائٹ پر پبلش کیا کیا ہے ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks