حفظ حیا اور محرم رشتہ دار


By Al Noor Softs
Posted on Jan 9, 2025
In Category Knowledge
Authors ام عبد منیب
Published By ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
In Year 2014
Key Word محرم کون ہیں حفظ ستر
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 75
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی شخص میں جتنی زیادہ ہوگی اس کو وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے حیاان میں سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؓ واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ حیا خواتین کی سیرت کا لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر مرد اور عورت میں حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے ۔لیکن آج دور ِحاضر میں حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رشتہ دار ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں اہم کاوش ہے جس میں انہوں نے حیا کی تعریف اور اس سلسلے معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں سے اگاہ کرتے ہوئے محرم مرد اور عورتوں کی ذمہ داریوں کو بڑے احسن اندا ز میں شرعی دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   70   21
 
 

حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی  شخص میں جتنی  زیادہ ہوگی  اس کو  وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی  ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے  حیاان میں  سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے  میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی  سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسیٰ  ؓ   واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ  حیا خواتین کی سیرت کا  لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر  مرد اور عورت میں  حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے   ۔لیکن آج دور ِحاضر میں  حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو  مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں  جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رشتہ دار ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی اصلاح معاشرہ  کے سلسلے میں  اہم کاوش  ہے جس میں انہوں نے  حیا کی تعریف اور اس سلسلے  معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں سے اگاہ کرتے ہوئے محرم  مرد اور عورتوں کی ذمہ داریوں  کو بڑے احسن اندا ز میں   شرعی دلائل کی روشنی میں واضح  کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ اسے  عوام الناس کےلیے  نفع بخش  بنائے (آمین)(م۔ا)

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks