اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کی تربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں شیخ موصوف نے مستقبل کےمعمار امت کی امیدوں کےمرکز اور حسین خوابوں کی تعبیر ،نونہالان ملت کی تعلیم وتربیت کو موضوع بنایا ہے اور اس کی قدر واہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔اور تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔مربی اورمعلم خواہ والدین ہوں یا اساتذہ ،وہ بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ اوران میں اسلامی صفات کا شعور کیسے بیدار کریں؟ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ ہے ۔یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے ۔طلبہ ، اساتذہ اور والدین سب کےلیے بہترین اور یکساں افادیت کی حامل ہے ۔ شیخ جمیل زینو ﷾اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے مؤلف ہیں ان میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ ۔ اللہ تعالیٰ اسے مؤلف،مترجم، ناشر اوراس کی طباعت میں معاونت کرنے والوں کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور امت مسلمہ کے بچوں کو حسن اخلاق او رتعلیم اسلام کی دولت سے مالا مال کرے۔(آمین) (م۔ا)