eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں
Authors: محمد مسعود عبدہ
ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ خواہ وعلم یا غیر علم اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کا فارسی ترجمہ’’ خدا ‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ’’ اللہ ‘‘ ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے ’’ اللہ ‘‘ ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے ’’ خدا ‘‘کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں؟‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے خاوند مولانا محمد مسعود عبدہ صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ ’’ خدا ‘‘ پر لغوی بحث فرمائی ہے۔محترم محمد مسعود عبدہ تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ) ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ خواہ وعلم یا غیر علم اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کا فارسی ترجمہ’’ خدا ‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ’’ اللہ ‘‘ ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے ’’ اللہ ‘‘ ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے ’’ خدا ‘‘کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں؟‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے خاوند مولانا محمد مسعود عبدہ صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ ’’ خدا ‘‘ پر لغوی بحث فرمائی ہے۔محترم محمد مسعود عبدہ تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
بولتی سوچیں
Authors: محمد مسعود عبدہ
In Knowledge
’’بولتی سوچیں‘‘ مولانا محمد مسعود عبدہ کی لکھی ہوئی وہ تحریریں ہیں جو مختلف اوقات میں ڈائریوں پر قلم برداشتہ لکھی گئیں ، اچانک کچھ ذہن میں آیا اور لکھ دیا ۔ان تحریروں کو پڑھنے والے کچھ حاصل کر سکیں گے ؟یہ تو وہی جان سکتے ہیں، البتہ ’’ علیم و خبیر کے نام خطوط ‘‘یا ’’ خطوط مسعود‘‘ جن لوگوں کی نظر سے گزر چلی ہیں وہ ان تحریروں سے روحانی فائدہ ضرور حاصل کر سکیں گے۔ زیر تبصرہ تحریروں کے مرتب ٹکڑے’’ بولتی سوچیں‘‘ معروف مبلغہ داعیہ ، مصلحہ ، مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ رحمھا اللہ کے خاوندمحترم مولانا محمد مسعود عبدہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے سب سے بڑی سچائی ،سیرت امن وسلامتی،ربیع الاول،خواہش نعت ،اعتراف واقرار،آمد رمضان مبارک ،صراط مستقیم ،عوام؟،اصحاب کہف،خالق اور مخلوق ،زندگی ایک سفر ہے اور میں تنہا ہوں جیسے موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں لکھا ہے۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
مدینہ منورہ (اسماء، فضائل، مساجد)
Authors: محمد مسعود عبدہ
اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی ﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی مقامات , اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے.اس شہر مقدس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن زید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سیدناابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی, میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم نے مکہ حرم قرار دیا, میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم نے مکہ کے لئے دعاکی.(بخاری)مدینہ منورہ کی فضیلت پر مبنی متعدد صحیح روایات موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مدینہ منورہ اسماء ،فضائل ،مساجد"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے زوج محترم مولانا محمد مسعود عبدہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں مدینہ منورہ کے فضائل،اسماء اور اس میں موجود مساجد پر گفتگو کی ہے۔یہ کتاب در اصل چھ مختلف مقالات پر مبنی ہے جو مختلف اوقات میں لکھے گئے تھے اور بعد میں انہیں ایک جگہ جمع کر کے کتابی شکل میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
شہادت گہ الفت میں
Authors: محمد مسعود عبدہ
اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدیقیت کے بعد) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا، جنھوں نے اللہ رَبّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہٴ اِسلام کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔ شہادت سے ایک ایسی پائیدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدہٴ عالم پر ثبت رہتا ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دُھندلا سکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی معاشرے میں رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش باقی نہیں رہتی۔ زیر تبصرہ کتاب " شہادت گہ الفت میں"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے زوج محترم مولانا محمد مسعود عبدہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں صحابہ کرام کے مقام شہادت اور ایمان افروز شہادتوں کے تذکروں کو جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب در اصل ایک چھوٹا سا مقالہ تھا،جس میں ان کی اہلیہ نے بہت زیادہ حصہ ڈالا اور اسے ایک کتاب کی شکل دے دی۔اس میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مولانا محمد عبدہ کی نسبت محترمہ ام عبد منیب کا حصہ زیادہ ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
قرآن وحدیث کی روشنی میں نام اور القاب
Authors: محمد مسعود عبدہ
ناموں کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اسی علم کی بنا پر حضرت انسان نے فرشتوں پر فوقیت پائی تھی اور اسی کی وجہ سے انسان مسجود ملائک بنا ۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ انسان کی شخصیت میں اس کے نام کی بہت تاثیر ہوتی ہے ۔ اگر نام اچھا ہو گا تو یعنی اس کا معنی اچھا ہو گا تو انسان کے اوپر اس کا اثر بھی اچھا ہی پڑے گا اور اگر نام برا ہو گا تو اس کا اثر بھی برا ہی پڑے گا ۔ پھر یہ ہے کہ نام ہمیشہ ایسا ہونا چاہیے جو اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہو یا جس کے بارے میں اسلام نے ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا ہو ۔ بلکہ ہمیشہ ایسا نام رکھنا چاہیے جو اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہو ۔ نام ہی وہ واحد مظہر ہے جو بتاتا ہے موسوم کیا ہے؟ کون ہے؟ کیسا ہے؟ نام حواس کے لئے کسی چیز کی ماہیت دریافت کرنے کا سب سے پہلا ذریعہ ہے ۔ نام رابطے ، محبت اور حسن سلوک میں زینے کا کام دیتا ہے ۔ نام اگر خوبصورت چیز سے وابستہ ہو تو سن کر دل و نگاہ عقیدت سے جھک جاتے ہیں ۔ نام اگر محبوب سے تعلق رکھتا ہو تو سن کر آتش شوق بھڑک اٹھتی ہے ۔ زیرنظر کتاب میں تفصیلی طور پر اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ نام کونسے رکھنے چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ناموں کی ایک تفصیل بھی دی ہے ۔(ع۔ح)
آسمانی شریعتوں کے مشترکہ احکام
Authors: محمد فاروق رفیع
امورِ فطرت سے مراد وہ تمام امور ہیں جو تمام تر نبیوں کی ہمیشہ سے سنّت رہی ہے ، اور اِن کاموں کا کرنا تمام شریعتوں میں مُقرر رہا ہے ، گویا کہ یہ ایسے کام ہیں جو اِنسان کی جبلت (فِطرت ،گُھٹی )میں ہیں۔نبی ﷺ نے اپنی امت کو جن فطری امور پر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی ہے ان میں سنن فطرت بھی شامل ہیں۔امور فطرت کی تعداد کے متعلق روایات میں مختلف عدد کا بیان ہے، صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں ایک، دوسری میں تین اور تیسری میں پانچ سنن کا تذکرہ موجود ہے، اسی طرح صحیح مسلم میں بھی ایک روایت میں پانچ اور دوسری میں دس کا تذکرہ ہے۔ تو یہ مختلف رویات میں مختلف عدد کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر امام ابن العربی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ تمام روایات کہ اکٹھا کرنے سے ان سنن فطرت کی تعداد تیس تک جا پہنچتی ہے۔ زیرنظر کتاب ’’آسمانی شریعتوں کے مشترکہ احکام‘‘ مولانا محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں انہوں نے امور فطرت کے موافق امتوں کے مشترکہ احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہے ،ہر حکم کے بارے میں منقول دلائل کی شرح و بسط سے وضاحت کی گئی ہے اور ان امور کے بارے میں ثابت وغیر ثابت دلائل کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کے علاوہ درجن کے قریب علمی و تحقیقی کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالیٰ فاضل مرتب کی تمام تحقیقی و تصنیفی اور تبلیغی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)
طہارت کے فقہی احکام
Authors: محمد فاروق رفیع
In Fiqha
اسلامی نظام حیات میں طہارت وپاکیزگی کے عنصر کوجس شدو مد سے اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اس طرح سے کسی اور مذہب میں نہیں کی گئی ۔پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّهور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ،اورپاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراھیم اور اسماعیل ؑ کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں۔" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ طہارت کے فقہی احکام ‘‘محترم جناب مولانا د فاروق رفیع﷾(استاد الحدیث والفقہ، جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کے مستند دلائل پر مبنی سلسلہ فقہی احکام کی پہلی کتاب ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتا ب میں ہر مسئلہ کے ثبوت کے لیے کتاب اللہ اور احادیث نبویہ کو بنیادبنایا ہے ۔ نیز اس کے ساتھ فقہاء ومحدثین کی آراء اور جید علمائے کرام کے فتاویٰ جات اور شارحین کی تعبیرات سے مسائل کی تفصیل بیان کی ہے اور فقہی مذاہب کو دلائل کے ساتھ بیان کر کے راجح اور مرجوح موقف کی نشاندہی کی ہے ۔طلباء واساتذہ کرام او رعام قارئین کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔ موصوف تصنیف وتالیف ،تخریج وتحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا نصف درجن سے زائد کتب کے مصنف ، اچھے مدرس اور واعظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل او ر زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) ( م۔ا)
داڑھی اور خضاب حقیقت کیا افسانہ کیا ؟
Authors: محمد فاروق رفیع
شریعت ِاسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے کو جائز قرار دیا گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: '' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ۔ تابعین اور بعد کے مشاہیر میں ابن سیرینؒ، ابو بردہؒ، محمد بن اسحاقؒ صاحب المغازی، ابن ابی عاصمؒ اور ابن الجوزی بھی کالا خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، ٥/٣٥٥، علامہ مبارک پوری نے اور بھی بہت سے تابعین و مشاہیر کے نام تحریر کیے ہیں۔ ٥/ ٣٥٧۔ ٣٥٨)زیر نظر کتاب ’’خضاب کی شرعی حیثیت ،کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں خضاب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے۔(راسخ)
گھریلو زندگی خوشی اور سکون کے ساتھ
Authors: محمد فاروق رفیع
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔ اگرمسلمانانِ عالم اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دیں تو یقیناً ان کی زندگیاں امن وسکون کاگہوارہ بن سکتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ گھریلوزندگی ‘‘مولانا فاروق رفیع ﷾ (مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ) کی تصنیف ہے موصوف تصنیف وتالیف ،تخریج وتحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا نصف درجن کتب کے مصنف ، اچھے مدرس اور واعظ ہیں۔ اللہ تعالی ٰان کےعلم وعمل او ر زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) اس کتاب میں مصنف نے رشتہ نکاح کی اہمیت ،انتخاب نکاح میں شرعی نصیحتوں کا بیان ، شادی کے بعد میاں بیوی کےمشترک ومنفرد حقوق ،زوجین کی حقوق میں کوتاہی کےانجام کار اور رشتہ نکاح کی بحالی کی ہرممکن کوشش کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔شادی شدہ جوڑے کےاستحکام کے لیے کتاب وسنت میں جو مفید چیزیں اوردلائل میسر تھے وہ اس کتاب میں جمع کردیے ہیں ،جو عادات اوطوار شادہ شدہ جوڑے کے لیےنقصان کا باعث ہیں ان نقصانات او رنتائج سےآگاہ کردیا ہے ۔ میکے اور سسرال والوں کے مثبت ومنفی کردار کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ نکاح کے رشتہ سےمتعلق بھی لوگ اپنا مثبت کردار ادا کر کے اس رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کریں اور سبھی لوگ خوشحال اور پرسکون زندگی بسر کریں۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں شامل ہر موضوع کو کتاب وسنت کے دلائل سے آراستہ کیا ہے او راس میں درج شدہ احادیث کی بڑی عرق ریزی سے تحقیق وتخریج کی ہے ۔ یہ کتاب گھرکے افراد کی اصلاح و تربیت کا مرقع او رگھرکو پرامن وپرسکون بنانے او راہل خانہ کی شرعی تعلیمات سےآراستہ کرنےکا خوبصورت گلدستہ ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش او ر مصنف کے والدین ،اساتذہ ، او ر ہل خانہ کےلیے ذریعہ نجات بنائے (آمین) (م۔ا)