لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں


By Al Noor Softs
Posted on Dec 28, 2024
In Category Worship and matters
Authors محمد مسعود عبدہ
Published By ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
In Year 2015
Key Word اسم اللہ لغت کے آئینے میں...بے مثال اسم مفرد
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 50
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ خواہ وعلم یا غیر علم اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کا فارسی ترجمہ’’ خدا ‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ’’ اللہ ‘‘ ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے ’’ اللہ ‘‘ ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے ’’ خدا ‘‘کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں؟‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے خاوند مولانا محمد مسعود عبدہ صاحب﷫ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ ’’ خدا ‘‘ پر لغوی بحث فرمائی ہے۔محترم محمد مسعود عبدہ ﷫ تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ) ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ خواہ وعلم یا غیر علم اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کا فارسی ترجمہ’’ خدا ‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ’’ اللہ ‘‘ ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے ’’ اللہ ‘‘ ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے ’’ خدا ‘‘کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لفظ اللہ کا ترجمہ خدا کیوں؟‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کے خاوند مولانا محمد مسعود عبدہ صاحب﷫ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ ’’ خدا ‘‘ پر لغوی بحث فرمائی ہے۔محترم محمد مسعود عبدہ ﷫ تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
Ratings Read Downloads
(٠)   90   15
 
 

ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ  خواہ وعلم یا غیر علم اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ  ’’ اللہ ‘‘  کا فارسی ترجمہ’’  خدا ‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ’’ اللہ ‘‘  ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی  بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے ’’ اللہ ‘‘  ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی  اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور  نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے ’’ خدا ‘‘کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘  میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لفظ اللہ کا ترجمہ  خدا کیوں؟‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کے خاوند مولانا محمد مسعود عبدہ صاحب﷫ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے لفظ جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ ’’ خدا ‘‘ پر لغوی بحث فرمائی ہے۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫  تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks