امورِ فطرت سے مراد وہ تمام امور ہیں جو تمام تر نبیوں کی ہمیشہ سے سنّت رہی ہے ، اور اِن کاموں کا کرنا تمام شریعتوں میں مُقرر رہا ہے ، گویا کہ یہ ایسے کام ہیں جو اِنسان کی جبلت (فِطرت ،گُھٹی )میں ہیں۔نبی ﷺ نے اپنی امت کو جن فطری امور پر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی ہے ان میں سنن فطرت بھی شامل ہیں۔امور فطرت کی تعداد کے متعلق روایات میں مختلف عدد کا بیان ہے، صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں ایک، دوسری میں تین اور تیسری میں پانچ سنن کا تذکرہ موجود ہے، اسی طرح صحیح مسلم میں بھی ایک روایت میں پانچ اور دوسری میں دس کا تذکرہ ہے۔ تو یہ مختلف رویات میں مختلف عدد کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر امام ابن العربی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ تمام روایات کہ اکٹھا کرنے سے ان سنن فطرت کی تعداد تیس تک جا پہنچتی ہے۔ زیرنظر کتاب ’’آسمانی شریعتوں کے مشترکہ احکام‘‘ مولانا محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں انہوں نے امور فطرت کے موافق امتوں کے مشترکہ احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہے ،ہر حکم کے بارے میں منقول دلائل کی شرح و بسط سے وضاحت کی گئی ہے اور ان امور کے بارے میں ثابت وغیر ثابت دلائل کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کے علاوہ درجن کے قریب علمی و تحقیقی کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالیٰ فاضل مرتب کی تمام تحقیقی و تصنیفی اور تبلیغی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)