Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا آپ ﷺ سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اور آپ ﷺ نے وہ صحابہ کرام کو سکھلایا ہو۔درود لکھی ،درود تنجینا،درود ہزاری اور درود تاج جیسےآج کل کے من گھڑت درودوں کی اللہ تعالی ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ یہ اس کے حبیب سے ثابت نہیں ہیں۔علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب بعنوان’’ ذکر مصطفیٰ ﷺ ‘‘ میں درود کے فضائل اور احکام ومسائل قلم بند کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
وسیلہ کی شرعی حیثیت
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ تلاش کرنے کا کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘(المائدہ) غیر اللہ سے وسیلہ واستعانت حاصل کرنا خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔ زیر نظر کتاب’’وسیلہ کی شرعی حیثیت‘‘ علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں وسیلہ کا مفہوم ،وسیلے کی اقسام، وسیلہ اور قرآن کریم ، وسیلہ صحیح احادیث اور فہم سلف کی روشنی میں ،مختلف مکاتبِ فکر اوروسیلہ،ناجائز وسیلہ پر دلائل کا جائزہ،سیدنا آدم علیہ السلام، کا وسیلہ،آپ اگر نہ ہوتے...!، نمازِ غوثیہ جیسے عنوانات قائم کر کے متعلقہ موضوع پر سیر حاصل علمی وتحقیقی بحث پیش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
بدعات سنت کے میزان میں
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
شریعت کی اصطلاع میں ہر وہ کام جسے ثواب یا برکت کاباعث یا نیکی سمجھ کر کیا جائے اور اس کا شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو بدعت کہلاتا ہے۔ یعنی نہ تویہ کام خود رسول اللہﷺ نے کیا ہواور نہ ہی کسی کو کرنےکا حکم دیا ،نہ ہی اسے کرنے کی کسی کواجازت دی ۔ بدعت کورواج دینا صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بدعات وخرافات کرنے والے کل قیامت کو حوض کوثر سے محروم کردیئےجائیں گے ۔ جس کی وضاحت فرمان ِنبوی میں موجو د ہے ۔ علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب بعنوان’’ بدعات سنت کے میزان میں ‘‘ میں تقریبا دو درجن بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کے محققانہ جائزہ بھی لیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
خلیفہ بلا فصل
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
اہلِ سنت والجماعت کا اتفاقی واجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے برحق خلیفہ اور امیر المومنین ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ومناقب ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے محبت عین ایمان اور آپ سے بغض نفاق ہے ۔ اس کے برعکس بعض لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلافصل کہتے ہیں ۔علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب بعنوان’’ خلیفہ بلافصل‘‘ میں محققانہ انداز میں اس بات کو ثابت کیا ہےکہ سیدنا ابو صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
صف بندی کے احکام ومسائل
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
مسنون نماز کے بعض مسائل پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ خصوصیت سے مستحق تھے ۔ انہی مسائل میں سے ایک صفوں کی درستی’’ تصویۃ الصفوف‘‘ بھی ہے ۔ نماز کے لیے صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے اہم مسائل میں سے ایک ہے جس کے ساتھ اجتماعی زندگی کی بہت سی اقدار وابستہ ہیں۔ احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کا فرض ہےکہ نماز شروع کرنے سے قبل مقتدیوں کی صف بندی کا جائزہ لے او راس کی درستگی کےلیے تمام امکانی وسائل استعمال کرے۔ امام تکبیر سےقبل صفوں کوبرابر اور سیدھا کرنے کا حکم دے ۔ جب پہلی صف مکمل ہوجائے اور اس میں کسی فرد کے لیے جگہ حاصل کرنے کا امکان نہ ہو تو پھر دوسری صف کا آغاز کیا جائے۔ زیرتبصرہ کتاب’’صف بندی کے احکام ومسائل ‘‘ محقق دوراں علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے علامہ امن پوری حفظہ اللہ نے اس کتاب میں تسویۃ الصفوف کے جملہ احکام ومسائل اور صف بندی کی اہمیت وضرورت کو احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)
غنیۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
In Fiqha
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺکے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضور ﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدنا علی نے سب سے پہلے لبیک کہا اور ایمان لے آئے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ما سوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے ۔ زير نظر كتاب ’’ غنیۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب رضی اللہ ‘‘محقق دوراں علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی مرتب کردہ ہے ۔ موصوف نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں کتب حدیث سے صحیح احادیث کا انتخاب کر کے اس کتاب میں تحقیق و تخریج کے ساتھ جمع کر دی ۔ (م۔ا)
الحق المبین فی الجھر بالتامین
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے، علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ سرّی اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی۔ جن نمازوں میں بالجہر (بلند آواز) سے قراءت کی جاتی ہے، (جیسے مغرب، عشاء، فجر) ان میں سورہ فاتحہ ختم ہوتے ہی امام و مقتدی دونوں کا با آواز بلند آمین کہنا مشروع و مسنون ہے، اس کا ثبوت احادیث مرفوعہ صحیحہ صریحہ اورآثار صحابہ کرام اور اجماع صحابہ سے ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب امام "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" کہے تو تم آمین کہو کیوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ بعنوان ’’الحق المبین فی الجهر بالتأمین‘‘ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس رسالہ میں محققانہ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جہری نمازوں میں امام اور مقتدی دونوں کے لیے اونچی آواز سے آمین کہنا سنت ہے۔ جس کے ثبوت کے لیے متواتر احادیث، آثار صحابہ اور ائمہ محدثین کی تصریحات شاہد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی دعوتی و تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی اور تدریسی جہود کو قبول فرمائے ۔آمین (م ۔ا)
مسئلہ رفع الیدین
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے عقیدہ توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم ترین رکن نماز پنجگانہ ہے۔ جس کو مسنون طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ، لہٰذا نماز کے بارے میں آپ ﷺ کا واضح فرمان ہے: ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘(صحیح بخاری)۔ نماز میں رفع الیدین کرنا رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید کسی اور حدیث کو اس قدر صحابہ نے روایت کیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے کہ: رفع الیدین کی حدیث کو انیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اثبات رفع الیدین پر امام بخاری رحمہ اللہ کی جزء رفع الیدین کے علاوہ کئی کتابیں موجود ہیں، تقریبا20 کتابیں کتاب و سنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مسئلہ رفع الیدین‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس کتاب میں مسئلہ رفع الیدین کے دلائل اور اس مسئلہ پر پیش کیے جانے والے شبہات کا محققانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ (م ۔ا)
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانے کا ہے۔ بہت سارے مسلمان ہر سال 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ اور جشن میلاد مناتے ہیں۔ لیکن اگر قرآن و حدیث اور قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قرآن و حدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا اور نہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اور نہ ہی وہ جشن مناتے تھے۔ اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کے ہاں بھی نہ اس عید کا کوئی تصور تھا، نہ وہ اسے مناتے تھے اور نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا۔ عید میلاد النبی جشن میلاد کی حقیقت کو جاننے کے لیے اہل علم نے بیسیوں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ عید میلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کے بارے میں اسلاف امت کے طرز عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی کا یوم ولادت بطور عید منایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ پھر محققانہ انداز میں مذکورہ سوال کا جواب ڈھونڈ کر نوک قلم سے گزار دیا ہے اور رحمت الٰہی کے زیر سایہ منہج سلف کی نشاندہی کر دی ہے۔ ( م۔ا)