Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
اہل السنۃ و الجماعۃ ( سید سلیمان ندوی )

Authors: سید سلیمان ندوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

مسلمانوں میں ہر دور میں سینکڑوں فرقے پیدا ہوئے، لیکن وہ نقش بر آب تھے۔ابھرے اور مٹ گئے، لیکن جو فرقہ عموم اور کثرت کے ساتھ باقی ہے اور آج مسلمان آبادی کا کثیر حصہ بن کر اکناف عالم میں پھیلا ہوا ہے وہ فرقہ "اہل سنت والجماعت"ہے۔عام طور پر ہندوستا ن میں اہل سنت کے معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ جو شیعہ نہ ہو، لیکن یہ کافی نہیں ہے، یہ اس کا اثباتی پہلو نہیں ہے، یہ تو اس کا منفی پہلو ہے، ضرورت ہے کہ اس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھا جائے۔اس لئے ہم کو اہل السنہ والجماعہ کے ایک ایک لفظ کے معنی پر غور کرنا ہو گا۔ زیر تبصرہ کتاب اہل السنۃ والجماعۃ ""محترم مولانا سید سلیمان ندوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جو پہلے معارف رسالے میں مضمون کی شکل میں قسط وار شائع ہوتی رہی، پھر احباب کے اصرار پر اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا۔کتاب کے بعض جملوں سے عدم اتفاق کے باوجود ایک علمی وتحقیقی تحریر ہونے کے باعث قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

تاریخ ارض القرآن کامل

Authors: سید سلیمان ندوی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

ارض قرآن سے مراد وہ سرزمیں مبارکہ ہے جس میں سید الانبیاء امام الانبیاء سیدنا محمد ﷺ پیدا ہوئے اور جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوا۔اور قرآن مجید نے جسے وادی غیر ذی زرع کا خطاب دیا ہے لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہےکہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کاکوئی سرسبز قطعہ موجود ہے تو وہ اسی کشتِ زاد الٰہی کے آخری کسان کی تخم ریزی وآب سیری کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ ارض القرآن ‘‘ برصغیر کے مشہور ومعروف مؤرخ وادیب ، سیر ت نگار مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب دو جلدوں میں یکجا شائع ہوئی ہے ۔جلداول قرآن مجید کی تاریخی آیات کی تفسیر، سرزمیں قرآن (عرب) کاجغرافیہ، اور قرآن میں جن عرب اقوام وقبائل کا ذکر ہے ان کی تاریخی اور اثری تحقیق اور جلد دوم بنو ابراہم کی تاریخ اور عربوں کی قبل اسلام تجارت زبان اورمذہب پر حسب بیان قرآن مجید وتطبیق آثار وتوراۃ وتاریخ یونان وروم کی تحقیقات ومباحث پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

عرب و ہند کے تعلقات

Authors: سید سلیمان ندوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

بعثتِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) مزید اسحق بھٹی اپنی مذکورہ کتاب میں فرماتے ہیں: ”کتب تاریخ و جغرافیہ سے واضح ہوتا ہے کہ جاٹ برصغیر سے ایران گئے اور وہاں کے مختلف بلاد و قصبات میں آ باد ہوئے اور پھر ایران سے عرب پہنچے اور عرب کے کئی علاقوں میں سکونت اختیار کرلی“نیز تاریخ میں ان قبائل کا۔ بزمانہٴ خلافت شیخین (حضرت ابوبکر وعمر ؓ) حضرت ابوموسیٰ اشعری﷜ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ قبائل عرب کے ساتھ گھل مل گئے ان قبائل میں سے بعضوں کے بہت سے رشتہ دار تھانہ، بھڑوچ اور اس نواح کے مختلف مقامات میں (جوبحرہند کے ساحل پر تھے) آباد تھے۔بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عرب وہند کے تعلقات‘‘ علامہ سید سلیمان ندوی﷫ 1929ء میں ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد میں دئیے گئے خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں تعلقات کا آغاز اور عرب سیاح۔ باب د وم میں تجارتی تعلقات۔ باب سوم میں علمی تعلقات، باب چہارم میں مذہبی تعلقات۔ باب پنجم میں ہندوستان مسلمانوں کی فتوحات سے پہلے کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)

رحمت عالم ﷺ مع اضافات جدیدہ

Authors: سید سلیمان ندوی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

محمد ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کا پیغام اللہ جل جلالہ کی انسانیت بلکہ جن و انس پر رحمت عظمیٰ ہے جیسا کہ سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ رحمت عالمﷺ ‘‘علامہ سید سلیمان ندوی کی ہے جس میں محمد عاصم شکیل نے جدید اضافے کر کے شان رسالت میں گل ہائے عقیدت نچھاور کیے ہیں۔ قرآن مجید و احادیث نبویہ اور دیگر کتب کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں اسلام اور پیغمبر اسلام کےجامع پیغام کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مزید اس کتاب میں تین موضوعات : سنت کی اہمیت، مقام مصطفیٰ اور حسن معاشرت کو ایک منفرد ترتیب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ان موضوعات کا مطالعہ ہر ایک قاری کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے، تا کہ نبی ﷺ کا رول ماڈل ان کی نظروں کے سامنے رہے۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک قلمی کاوش کو علامہ سیدسلیمان ندوی اور محمد عاصم کے لیے خیر و فلاح کا باعث بنائے۔ آمین۔( رفیق الرحمن)

علامہ سید سلیمان ندوی کے چند نادر خطبات و رسائل کا مجموعہ

Authors: سید سلیمان ندوی

In Arguments

By Al Noor Softs

برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔سید سلیمان ندوی نے مستقل تصانیف کے علاوہ مذہبی،علمی وتحقیقی اور ادبی مختلف موضوعات پر سیکڑوں مضامین تحریر کیے جو علوم ومعارف کا گنجینہ ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ علامہ سید سلیمان ندوی کے چند نادر خطبات وورسائل کا مجموعہ ‘‘ سید سلیمان ندوی کے صاحبزادےڈاکٹر سید سلمان ندوی کی مرتب شدہ ہے اس کتا میں انہوں نے اپنے والد ماجد رحمہ اللہ کے چند منتخب مقالات،خطبات ومضامین ( اشتراکیت اور اسلام ،رسول وحدت،ایمان ،خدا کا آخری پیغام ،سنت ،عرب وامریکہ، سفرگجرات ، تقریر مشرقی پاکستان )کو اس میں کتاب میں یکجا کر دیا ہے ۔یہ مضامین پہلے دار المصنفین اعظم گڑھ کے مجلہ معارف میں شائع ہوئے تھے ۔(م۔ا)

خوشبوئے جنت سے محروم لوگ

Authors: حافظ عبد الرزاق اظہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوشبوئے جنت سے محروم لوگ ‘‘ محترم جناب حافظ حافظ عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآ ن وحدیث کے واضح اور مضبوط دلائل سے ان معاشرتی برائیوں اور کبیرہ گناہوں اوراخلاقی پستیوں کو بڑے عمدہ پیرائے میں یکجا کردیا ہے جو حقیقت میں بندوں کو جنت کی اس خوشبو جو چالیس برس کی مسافت سے آنا شروع جائے گی سے محرومی کا باعث ہیں۔(م۔ا)

شیطان سے بچاؤ کے اسباب

Authors: حافظ عبد الرزاق اظہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید جو انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ارشاد باری تعالی ’’ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ‘‘( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی زیادہ اجر کالالچ دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی سے بے نیاز کر کے دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔شیطان سے انسان کی دشمنی آدم ﷤کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی ہے اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک کے لیے زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالیٰ کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم ﷤ کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم نے شیطان کو جواب دیا کہ تو لاکھ کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے او رتیرے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے محفوظ رہنے کےلیے علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان از امام ابن قیم الجوزیہ ﷭ اور اسی طرح اردو زبان میں بھی متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ شیطان سے بچاؤ کےاسباب‘‘ مولانا عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تصنیف ہے ۔موصوف نے اس کتاب میں ان تمام اسباب کااحاطہ کرنے کی بڑی عمدہ کوشش کی ہے جن کے ذریعے سے شیطانی مکروفریب سے بچا جاسکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

رحمۃ للعالمین غصے میں کیوں ؟

Authors: حافظ عبد الرزاق اظہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

غصہ اطمینان اور رضامندی کی نقیض اور ضد ہے ۔غصہ اور جارحیت انسان کا فطری ،انسانی اور صحت مندغیر اخیتاری فعل ہے ۔غصہ انسان کو تباہی کے کنارے اورہلاکت کی وادیوں میں پھینک دیتا ہے اس لیے اس کے نقصانات اور ہلاکت خیزیوں سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے شر سے بچا جاسکے۔ نبی کریم ﷺ تو ایسے شخص کوبڑا پہلوان قرار دیتے ہیں جو غصے میں اپنے اوپر قابورکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی پر ظلم اورزیاتی نہیں کرتا۔لیکن بسا اوقات غصہ انسان کی عزت نفس اور دینی غیرت وحیمت اور اللہ کی رضا کا بہت بڑا ذریعہ بھی بن جاتا ہے کہ جب یہ غصہ اللہ کی خاطر اور اس کی خوشنودی کے لیے ہو۔ زیر نظر کتاب ’’رحمۃ للعالمین غصے میں کیوں؟‘‘ محترم جناب حافظ عبد الرزاق اظہر﷾ کی کاوش ہےجسے انہوں نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک جامع ونافع کتاب ہے ۔ فاضل مصنف نے اس میں تقریباً ان تمام امور کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنہیں دیکھ کر یا سن کر نبی کریمﷺ نے غصے کا اظہار فرمایا تاکہ عام و خاص ان خاص ان امور کی نزاکت اور شدت کا احساس کرکے ان سےاپنا دامن آلودہ ہونے سے بچاسکیں۔مصنف نے کتاب کے شروع میں غصے کی تعریف،اس کے اسباب اور اس کا علاج جیسی گرانقدر معلومات کو بھی کتاب کاحصہ بنادیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف، وناشرین کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو عوام وخواص کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

خطبات شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ

Authors: حافظ عبد الرزاق اظہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ(1920ء-2001ء) بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے سرفہرست اُستاذ الاساتذہ مولانا حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ ان سے آپ نے مشکوٰة المصابیح، موطأ امام مالک، ہدایہ، شرح وقایہ، مسلم الثبوت، شرح جامی، اشارات، کافیہ اور صحیح بخاری پڑھیں۔آپ کے دوسرے نامور استاد شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ہیں جن سے آپ نے جامع ترمذی، سنن نسائی، ابوداود اور صحیح مسلم کے علاوہ مختصر المعانی اور مطوّل وغیرہ کا علم حاصل کیا۔ ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً مدرسہٴ محمدیہ چوک اہلحدیث،گوجرانوالہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات (۱۹۶۸ء)کے بعد گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔مولانا محمد اسماعيل سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد مولانا عبد اللہ جامعہ محمد یہ چوک نیائیں میں اپنے ایمان افروز خطبات جمہ سے لوگوں کو مستفید کرتے رہے۔آپ کے خطبات میں میں دینی مسائل اور شرعی احکام میں قرآن وحدیث سے استدلال نیزملک کی سیاسی صورت حال اور پیش آمدہ واقعات پر جامع تبصرہ بھی ہوا کرتا تھا۔موصوف تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔۲۸؍اپریل ۲۰۰۱ء کو صبح چھ بجے گوجرانوالہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ سہ پہرساڑھے پانچ بجے شیرانوالہ باغ میں پڑھی گئی جو گوجرانوالہ شہر کی تاریخی نماز جنازہ تھی۔ جس میں بلا امتیاز ہر مکتب ِفکر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔زیر نظر کتاب’’ خطبات شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ ‘‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث،پاکستان کے سابق سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔اس مجموعۂ خطبات میں اتباع قرآن وسنت اور اس کا نفاذ، عقیدۂ توحید، شرک کی مذمت اہل حدیث کی دعوت ،فکرآخرت، اہل حدیث کی دینی وعلمی خدمات اورمسئلہ کشمیر ایسے اہم موضوع شامل ہیں۔اس مجموعۂ خطبات کو مولانا عبد الرزاق اظہر صاحب (مدرس امام بخاری یونیورسٹی،سیالکوٹ) نے صاحب خطبات شیح الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادہ جناب حافظ محمد عمران عریف حفظہ اللہ کی مشاورت سے بڑے خوبصورت انداز میں مرتب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ رحمہ اللہ کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے ۔اور اس کتاب کے مرتب وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے علماء ، طلباء ، خطباء کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)