خطبات شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ


By Al Noor Softs
Posted on Jan 3, 2025
In Category Worship and matters
Authors حافظ عبد الرزاق اظہر
Published By ناشر : دار الخلود کامونکی
In Year 2020
Key Word اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محبت الہی کے حصول کاذریعہ ہے۔۔محبت الہی کاعجیب طریقہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 427
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ(1920ء-2001ء) بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے سرفہرست اُستاذ الاساتذہ مولانا حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ ان سے آپ نے مشکوٰة المصابیح، موطأ امام مالک، ہدایہ، شرح وقایہ، مسلم الثبوت، شرح جامی، اشارات، کافیہ اور صحیح بخاری پڑھیں۔آپ کے دوسرے نامور استاد شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ہیں جن سے آپ نے جامع ترمذی، سنن نسائی، ابوداود اور صحیح مسلم کے علاوہ مختصر المعانی اور مطوّل وغیرہ کا علم حاصل کیا۔ ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً مدرسہٴ محمدیہ چوک اہلحدیث،گوجرانوالہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات (۱۹۶۸ء)کے بعد گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔مولانا محمد اسماعيل سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد مولانا عبد اللہ جامعہ محمد یہ چوک نیائیں میں اپنے ایمان افروز خطبات جمہ سے لوگوں کو مستفید کرتے رہے۔آپ کے خطبات میں میں دینی مسائل اور شرعی احکام میں قرآن وحدیث سے استدلال نیزملک کی سیاسی صورت حال اور پیش آمدہ واقعات پر جامع تبصرہ بھی ہوا کرتا تھا۔موصوف تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔۲۸؍اپریل ۲۰۰۱ء کو صبح چھ بجے گوجرانوالہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ سہ پہرساڑھے پانچ بجے شیرانوالہ باغ میں پڑھی گئی جو گوجرانوالہ شہر کی تاریخی نماز جنازہ تھی۔ جس میں بلا امتیاز ہر مکتب ِفکر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔زیر نظر کتاب’’ خطبات شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ ‘‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث،پاکستان کے سابق سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔اس مجموعۂ خطبات میں اتباع قرآن وسنت اور اس کا نفاذ، عقیدۂ توحید، شرک کی مذمت اہل حدیث کی دعوت ،فکرآخرت، اہل حدیث کی دینی وعلمی خدمات اورمسئلہ کشمیر ایسے اہم موضوع شامل ہیں۔اس مجموعۂ خطبات کو مولانا عبد الرزاق اظہر صاحب (مدرس امام بخاری یونیورسٹی،سیالکوٹ) نے صاحب خطبات شیح الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادہ جناب حافظ محمد عمران عریف حفظہ اللہ کی مشاورت سے بڑے خوبصورت انداز میں مرتب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ رحمہ اللہ کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے ۔اور اس کتاب کے مرتب وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے علماء ، طلباء ، خطباء کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   78   23
 
 

شیخ الحدیث  مولانا محمد عبد اللہ رحمہ  اللہ(1920ء-2001ء) بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے سرفہرست اُستاذ الاساتذہ مولانا حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ ان سے آپ نے مشکوٰة المصابیح، موطأ امام مالک، ہدایہ، شرح وقایہ، مسلم الثبوت، شرح جامی، اشارات، کافیہ اور صحیح بخاری پڑھیں۔آپ کے دوسرے نامور استاد شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ہیں جن سے آپ نے جامع ترمذی، سنن نسائی، ابوداود اور صحیح مسلم کے علاوہ مختصر المعانی اور مطوّل وغیرہ کا علم حاصل کیا۔ ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً مدرسہٴ محمدیہ چوک اہلحدیث،گوجرانوالہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات (۱۹۶۸ء)کے بعد گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔مولانا   محمد اسماعيل سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد  مولانا عبد اللہ  جامعہ محمد یہ چوک نیائیں میں اپنے ایمان افروز خطبات جمہ  سے لوگوں کو مستفید کرتے رہے۔آپ کے خطبات میں میں دینی مسائل اور شرعی احکام میں قرآن وحدیث سے استدلال نیزملک کی سیاسی صورت حال اور پیش آمدہ واقعات پر جامع تبصرہ  بھی ہوا  کرتا تھا۔موصوف تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔۲۸؍اپریل ۲۰۰۱ء کو صبح چھ بجے گوجرانوالہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ سہ پہرساڑھے پانچ بجے شیرانوالہ باغ میں پڑھی گئی جو گوجرانوالہ شہر کی تاریخی نماز جنازہ تھی۔ جس میں بلا امتیاز ہر مکتب ِفکر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔زیر نظر کتاب’’ خطبات شیخ الحدیث  مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ ‘‘  مرکزی  جمعیت  اہل حدیث،پاکستان  کے سابق سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ  رحمہ اللہ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔اس مجموعۂ خطبات میں  اتباع قرآن وسنت اور اس کا نفاذ، عقیدۂ توحید، شرک کی مذمت اہل حدیث کی دعوت ،فکرآخرت، اہل حدیث کی دینی وعلمی خدمات اورمسئلہ کشمیر ایسے اہم موضوع شامل ہیں۔اس مجموعۂ خطبات کو  مولانا عبد الرزاق اظہر صاحب (مدرس امام بخاری یونیورسٹی،سیالکوٹ)  نے  صاحب خطبات  شیح الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے  صاحبزادہ  جناب حافظ محمد عمران عریف حفظہ اللہ کی مشاورت سے  بڑے خوبصورت انداز میں مرتب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث  مولانا  عبد اللہ رحمہ اللہ  کی مرقد پر اپنی رحمت  کی برکھا برسائے  اور انہیں جنت الفردوس  میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے ۔اور اس کتاب کے  مرتب وناشرین کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  علماء ، طلباء  ، خطباء کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)  (م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks