Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔ نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی پر عمل کرنے میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان اور حضرت علی نےبھی اپنے عہد میں اس نظام کو مضبوط بنایا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ الرئاسة العامة لهئية الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے نام سے بڑا موثر کردار کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی سعودی عرب میں اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’امربالمروف اور نہی عن المنکر‘‘ معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر اسرار ﷫ کا مرتب کردہ ہے اس میں انہوں نے اختصار کےساتھ نیکی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے کی اہمیت وفضلیت اور ضرورت کو بیان کرنے کے بعد اس فریضے کو ترک کرنے کے نقصانات سے اگاہ کیا ہے ۔(م۔ا)

رسول کامل ﷺ

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔ اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے، جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔ اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں، بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر، ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "رسول کاملﷺ "تنظیم اسلامی پاکستان کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کو بیان فرمایا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان 12 تقاریر پر مشتمل ہے جو محترم ڈاکٹر صاحب نے پاکستان ٹیلی ویژن پر یکم تا 12 ربیع الاول 1401ھ ارشاد فرمائے، جنہیں احباب کے اصرار پر تحریری شکل میں شائع کر دیا گیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

اسلام کا معاشی نظام ( ڈاکٹر اسرار احمد )

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام کا معاشی نظام اور اسلامی ریاست کا نظام محاصل‘‘ تنظم اسلامی پاکستان کے بانی جناب ڈاکٹر اسراراحمد کی اسلام کے معاشی نظام پر کی گئی زرعی یونیورسٹی ،فیصل آبا،اور محکمہ محنت پنجاب کے زیر اہتمام مل مالک اور مزدور لیڈروں کےایک مشترک اجتماع میں کئی گئی دو تقریروں کی کتابی صورت ہے جسے انہوں نےسامعین کےاصرار پر شائع کیا اور اس میں انہو ں اسلام کا نظام محاصل کےعنوان اپناایک مقالہ بھی شامل کیا ہے۔(م۔ا)

اسلام، ایمان اور احسان حدیث جبریلؑ کی روشنی میں

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین ،سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ بعض نے کسی انداز سے تو بعض نے کسی اور انداز سے حدیث نبوی ﷺ کی خدمت کی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام، ایمان اور احسان، حدیث جبریل کی روشنی میں" پاکستان کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے حدیث جبریل کی روشنی میں اسلام، ایمان اور احسان کی تشریح فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

خطبات خلافت

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس اسلامی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے جانشین مقرر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیاگیا اسے خلافت کہتے ہیں۔ پہلے چار خلفاء سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر فاروق ، سید عثمان غنی ،سیدنا علی المرتضیٰ کو عہد خلافت راشدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان نائبین رسول نے قرآن و سنت کے مطابق حکومت کی اور مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی بھی احسن طریقےسے کی۔اور ہر طرح سے یہ خلفاء اللہ تعالیٰ کے بعد اہل اسلام کے سامنے جوابدہ تھے۔ اور ان کا چناؤ مورثی نہیں تھا بلکہ وصیت اکابر صحابہ کی مشاورت سے ان کا انتخاب کیا جاتا رہا۔خلیفہ کی صفات اور شرائط ،خلیفہ کے فرائض منصبی ،خلیفہ کے حقو ق ،خلیفہ کے اختیارات وغیرہ کا بیان کتب حدیث وسیر میں موجود ہے ۔ حتی کہ اس موضو ع پر باقاعدہ اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات خلافت‘‘ پاکستا ن میں نظام ِخلافت کے قیام کے لیے ’’ تحریک خلافت پاکستان ‘‘ کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے خلافت کے موضوع پر چار خطبات کا مجموعہ ہے ۔موصوف نے ستمبر 1999ء میں اس مذکورہ تحریک کا آغاز کیا ۔ڈاکٹر اسرار کےیہ خطبات خلافت کی اصل حقیقت اور اس کا تاریخی پس منظر اور عہد حاضر میں اس کے دستوری وقانونی اور معاشی ومعاشرتی ڈھانچے اور اس کے قیام کے لیے سیرت نبویﷺ سے ماخوذ طریق کار کی تشریح پر مشتمل ہیں ۔(م۔ا)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بعثت اور انقلاب نبوی کا اساسی منہاج

Authors: ڈاکٹر اسرار احمد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

رسول ِ اکرم ﷺ جس وقت دنیا میں مبعوث ہوئے اور نبوت سے سرفراز کئے گئے وہ دور دنیا کا نہایت عجیب اور تاریک ترین دور تھا، ظلم وستم، ناانصافی و حقوق تلفی، جبر وتشدد، خدافراموشی و توحید بیزاری عام تھی، اخلاق وشرافت کا بحران تھا، اور انسان ایک دوسرے کے دشمن بن کر زندگی گزارہے تھے، ہمدردی اور محبت کے جذبات، اخوت و مودت کے احساسات ختم ہوچکے تھے، معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑااور سالہاسال تک جنگ وجدال کا سلسلہ چلتا تھا، ایسے دور میں آپ ﷺ تشریف لائے، اور پھر قرآنی تعلیمات ونبوی ہدایات کے ذریعہ دنیا کو بدلا، عرب وعجم میں انقلاب برپاکیا، عدل وانصاف کو پروان چڑھایا، حقوق کی ادائیگی کے جذبوں کو ابھارا، احترام ِ انسانیت کی تعلیم دی، قتل وغارت گری سے انسانوں کو روکا، عورتوں کومقام ومرتبہ عطاکیا، غلاموں کو عزت سے نوازا، یتیموں پر دست ِ شفقت رکھا، ایثاروقربانی، خلوص ووفاداری کے مزاج کو پیدا کیا، احسانات ِ خداوندی سے آگاہ کیا، مقصد ِ حیات سے باخبر کیا، رب سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑا، جبین ِ عبدیت کو خدا کے سامنے ٹیکنے کا سبق پڑھا یااور توحید کی تعلیمات سے دنیا کو ایک نئی صبح عطا کی، تاریکیوں کے دور کا خاتمہ فرمایا، اسلام کی ضیاپاش کرنوں سے کائنات ِ ارضی کو روشن ومنور کردیا۔ نبی اکرم ﷺ کا یقینا انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ بھی ہے کہ آپ نے بھولی بھٹکی انسانیت کو پھر سے خدا کے در پر پہنچایا اور احساسِ بندگی کوتازہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے یہ حیرت انگیز کارنامہ صرف 23 سالہ مختصر مدت میں انجام دیا۔ 23 سالہ دور میں آپ نے ساری انسانیت کی فلاح وصلاح اور کامیابی کا ایک ایسا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیاکہ ا س کی روشنی میں ہر دور میں انقلاب برپا کیاجاسکتا ہے اور اصلاح وتربیت کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ جن عظیم مقاصد دے کر دنیا میں بھیجا، آپﷺ نے ان مقاصد کو بروئے کارلاکر اپنی حیاتِ مبارکہ میں جدوجہد فرمائی وہ ہمارے لئے ایک رہنمایانہ اصول ہیں۔ اللہ تعالی نے تین مقامات پر قرآن کریم میں بنیادی طور پر بعثت نبوی ﷺ کے چارمقاصد ِ بعثت کوبیان کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’نبی کریم ﷺ کا مقصد بعثت اور انقلاب نبوی کا اساسی منہاج ‘‘ ڈاکٹر اسرار کے دو مقالات پر مشتمل ہے ۔ان میں سے پہلا مقالہ بعنوان ’’ نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت قرآن حکیم کی روشنی میں ‘‘ ہے یہ مقالہ موصوف نے مرکزی انجمن خدام القرآن کی دوسری سالانہ قرآن کانفرنس کے پانچویں اجلاس میں پیش کیا۔ اور دو سرا مقالہ بعنوان ’’ انقلاب نبوی ﷺ کا اساسی منہاج‘‘ یہ مقالہ ڈاکٹر اسرر نے نے تحریری صورت میں مارچ 1977ء کو شام ہمددر۔ لاہور کی ایک تقریب میں پیش کیا ہے ۔ بعد ازاں 1978ء میں انجمن خدام القرآن نے ان دونوں مقالات کو افادۂ عام کےلیے یکجا کر کے شائع کیا ۔ موجود ایڈیشن اس کتابچہ کا چوتھا ایڈیشن ہے جو جنوری 1989ء میں شائع ہوا۔( م۔ا)

ارکان ایمان ایک تعارف

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عقیدہ توحید اسلام کی اساس ہے اور اس کے بغیر نجات ناممکن ہے اسی لیے شریعت میں عقیدہ توحید کی اصلاح پر بہت زور دیا گیا ہے –بطور مسلمان ہر ایک فرد کو اپنے ایمان کے بارے میں ضروری ضروری باتوں کا علم ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ ایمان اور توحید کے معاملے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو-اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ کتاب ہے جس میں ایمانیات سے متعلقہ ابتدائی چیزوں کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے جو کہ ہر مسلما ن کی ضرورت ہیں اور ان سے آشنائی لازمی ہے-جس میں ایمان کا معنی ومفہوم ،ایمان کی اہمیت اور عقائد سے متعلقہ لازمی امورمثلاً ایمان باللہ،ایمان بالرسل،ایمان بالملائکہ ،ایمان بالکتب اور ایمان بالآخرت کو عام فہم اور مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے-اس کے علاوہ ایمان کے ان ارکان کے بارے میں عوام کے ہاں جو غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ان کو بیان کر کے کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ ان کا کافی وشافی جواب دیا گیا ہے-

اہلحدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دنیا جہان میں مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والوں کی کسی طور بھی کمی نہیں ہے – انسانوں کا باہمی اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کی راہ ہموار کرنا قابل نفرین عمل ہے-زیر نظر کتاب ''اہل حدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے''رنگونی صاحب کی کتاب'' غیر مقلدین سعودی عرب کے آئمہ ومشائخ کے مسلک سے شدید اختلاف ''کا نہایت ہی مدلل اور سنجیدہ جواب ہے-رنگونی صاحب نے جن مسائل کوبنیاد بنا کر غیر مقلدین اور سعودی علماء ومشائخ اور علماء کے مابین شدید اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے مؤلف نے کتاب وسنت اور آئمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ ان موضوعات پر محققانہ بحث کی ہے-اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے خالص علمی اسلوب اختیار کیا ہے اور ز بان انتہائی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے-

خوشگوار زندگی کے اصول

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

In Arguments

By Al Noor Softs

ہر انسان اپنی دنیاوی زندگی کو بہترین اور حسین انداز میں گزارنا چاہتا ہے جس میں نہ معاشی پریشانیاں ہوں اور نہ ہی معاشرتی اور بداخلاقی پر مبنی برائیاں ہوں-ہر طرف سے سکون واطمینان کے ساتھ اس کے شب وروز بسر ہوں-مصنف نے ایسی ہی مطمئن اور باسلیقہ زندگی گزارنے کے لیے ان شرعی اصولوں کا تذکرہ کیا ہے جن کا تعلق انسانی زندگی کی خوشحالی کے ساتھ ہے-مصنف نے جن اصولوں کو بیان کیا ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایمان وعمل ، صبر وشکر،تقوی،نمازکی پابندی،ذکر الہی،قناعت اور توکل جیسی وہ عظیم الشان صفات ہیں کہ جن کو اختیار کرنے کے بعد انسان اپنی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی بہت بڑے اجر کا مستحق بن سکتا ہے-اور اس کے ساتھ ساتھ دعا جیسا ایک ایسا اہم فعل کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ جس سے انسان پر آنے والی مصبیتیں اور پریشانیاں بھی ٹل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے چند ایک انبیاء کی مشکل حالات کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں کو بھی بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی انسان پر کوئی تکلیف ومصیبت آ جاتی ہے تو وہ بھی یہی دعا مانگے اللہ تعالی کے فضل سے انسان پریشانیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا-