Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
مسئلہ حیات النبی ﷺ

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

انبیاء ﷩کی حیات پر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ، جیسا کہ شہداء کی حیات پر قرآن کریم نے صراحت کی ہے لیکن یہ برزخی حیات ہے جس کی کیفیت و ماہیت کو ماسوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ۔ اور برزخی زندگی کا دنیاوی زندگی پر قیاس کرنا جائز نہیں ہے ۔ انبیاء کرام اور آپ ﷺ کی یہ حیات وفات سے پہلے والی حیات سے مختلف ہے اور یہ برزخی حیات ہے اور یہ ایک پوشیدہ راز ہے جس کی حقیقت کو ما سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا لیکن یہ واضح اور ثابت شدہ امر ہے کہ برزخی حیات دنیاوی حیات کے بالکل مختلف ہے اور برزخی حیات کو دنیاوی حیات کے قوانین کے تابع نہیں کیا جائے گا اس لئے کہ دنیا میں انسان کھاتا ہے ، پیتا ہے ، سانس لیتا ہے ، نکاح و شادی کرتا ہے ، حرکت کرتا ہے اور اپنی دوسری ضروریات پوری کرتا ہے ، بیمار ہوتا ہے اور گفتگو وغیرہ کرتا ہے ۔ کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعداس کو یہ تمام امور پیش آتے ہوں حتی کہ انبیاء ﷩کے لئے بھی ان میں سے کوئی ایک چیز ثابت نہیں ہو سکتی ۔زیر نظر کتابچہ’’مسئلہ حیات النبی ﷺ‘‘ جید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل﷫کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو دیوبندی حلقوں میں باہمی دوفریقوں کے مسئلہ حیات النبیﷺ کے بارے میں اختلاف کی وجہ سے مولانا سلفی نے 1958ء اور 1959ء میں تحریر کیے۔جن میں مولانا سلفی مرحوم نے مسئلہ حیات النبیﷺ کو ادلہ شرعیۃ کی روشنی میں واضح کیا ۔یہ اُس وقت ماہنامہ ’’ر حیق اور ہفت روزہ الاعتصام میں قسط وار شائع ہوئے ۔ پھر 1960 ء میں انہیں کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔ موجودہ ایڈیشن کو دوبارہ مکتبہ سلفیہ نے 2004ء میں شائع اور حافظ شاہد محمود ﷾ نے اس کی تحقیق وتخریج کرکے مجموعہ رسائل سلفی میں بھی بڑے عمدہ طریقہ سے شائع کیا ہے جسے عنقریب ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیا جائے گا ۔(ا ن شاء اللہ ) اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

مسلک اہل حدیث اور تحریکات جدیدہ

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Fiqha

By Al Noor Softs

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ مسلک اہل حدیث کے ترجمان ،تقریر وخطابت ،تحریر وانشاء او ردرس وتدریس کے شہسوار تھے او رجماعت اہل حدیث کے متعلق اپنے پہلومیں ایک درمند دل رکھتے تھے ۔پاکستان میں میں جمعیت اہل حدیث کے وہ پہلے ناظم اعلیٰ اور پھر امیر مرکزیہ کی ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآہوئے ۔ اہل حدیث کانفرنس میں ان کی عموماً گفتگو حجیت حدیث ،مقام حدیث ،مسلک اہل حدیث ،تاریخ اہلحدیث کے عنوان پر ہوتی اور اکثر وبیشتر ان کی تحریر کے عنوان بھی یہی ہوتے اور عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔مولانا مرحوم بيک وقت ايک جيد عالمِ دين مجتہد ، مفسر ،محدث ، مؤرخ ، محقق ، خطيب ، معلم ،متکلم ، نقاد ، دانشور ، مبصر تھے ۔ تمام علوم اسلاميہ پر ان کو يکساں قدرت حاصل تھی ۔ تفسیر قرآن ، حديث ، اسماء الرجال ، تاريخ وسير اور فقہ پر ان کو عبور کامل حاصل تھا ۔ حديث اور تعليقات حديث پر ان کا مطالعہ بہت وسيع تھا حديث کے معاملہ ميں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہيں کرتے تھے۔مولانا محمد اسماعيل سلفیايک کامياب مصنف بھی تھے ۔ان کی اکثر تصانيف حديث کی تائيد وحمايت اور نصرت ومدافعت ميں ہيں آپ نے دفاع سنت کابیڑا اٹھایا اور اس کا حق ادا کیا ۔ اپنے مخاطب کا بھر پور تعاقب کرتے مگر اس کے ادب واحترام کے منافی کوئی چیز نوک قلم پر نہیں لاتے ۔زیر نظر کتابچہ’’مسلک اہل حدیث اور تحریکات جدیدہ‘‘ مولانا سلفی کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے نصف صدی پہلے ’’ مسلک ا ہل حدیث او رتحریکات جدیدہ‘‘ کے عنوان سے شیخ الاسلام فاتح قادیان امام المناظرین مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے لیے 1945ء مین لکھے ۔ یہ مضمون تین اقساط میں مذکورہ رسالہ میں شائع ہوا۔مولانا امرتسری نے ان کی قدر افزائی فرمائی اور اس کی پہلی قسط بطور اداریہ شائع کی۔اللہ تعالیٰ مولانا سلفی مرحوم کی مسلک حقہ اہل حدیث کےلیے خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت نوازے (آمین) (م ۔ا)

واقعہ افک

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

واقعہ افک سیرت نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے خانوادہ نبوی کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کوشش تھی جس میں سیدہ عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی۔اس الزام کی بنا پر سیدہ اور ان کے گھر والے خصوصاً ان کے والد حضرت ابو بکر ؓاور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر رسول خدا نبی کریم ﷺ سخت ذہنی اذیت سے دوچارہوگئے ۔ اس دوران میں تمام مسلمان بھی گومگو اور باہمی اختلاف و انتشار کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ایک مہینے تک بہتان تراشی اور ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد کہیں جاکر سورہ نور کی ابتدائی آیات میں حضرت عائشہ کی براء ت اللہ تعالیٰ نے خود نازل کی اور یہ طوفان تھما۔اس کے بعد تہمت لگانے والے مسلمانوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے ،جو تہمت لگانے کی شرعی سزا ہے۔یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید اور متعدد احادیث صحیحہ کے اندر موجود ہے۔مگر بعض عقل پرستوں کو یہ واقعہ سمجھ نہیں آتا ،وہ اس کے راویوں پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے ان احادیث کو سرے سے ہی اڑا دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"واقعہ افک"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی گرانقدر تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ادارہ طلوع اسلام کی جانب سے اس واقعہ اور اس واقعہ کے راویوں پراٹھائے گئے اعتراضات کا مدلل اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان جلیل القدر خدمات کو قبول فرمائے ،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

حجیت حدیث ( اسماعیل سلفی)

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)زیر نظر کتاب ’’ حجیت حدیث ‘‘شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی ﷫ کی حجیت حدیث کے سلسلے میں بڑی اہم کتاب ہے جوکہ مولاناکے چار مقالات (حدیث کی تشریعی حیثیت،جماعت اسلامی کانظریہ حدیث،سنت قرآن کے آئینے میں ،حجیت حدیث آنحضرت کی سیرت کی روشنی میں ) پر مشمتل ہے ۔ان مقالات کو حافظ شاہد محمود ﷾ نے مولانا اسماعیل سلفی﷫ کے مجموعہ مقالات حدیث میں بھی بڑے عمدہ طریقے کے ساتھ شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی دفاع حدیث کےسلسلے میں کی گئی کوششوں کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر کتاب’’ حجیت حدیث‘‘ علامہ محمد ناصر الدین البانی﷫ ، شیخ الحدیث محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی دفاع وحجیت حدیث کے موضوع پر اہم مقالات کا مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے حصہ اول میں علامہ ناصر الدین البانی ﷫کے تین رسالوں کا اردو ترجمہ شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ کے حجیت حدیث کے موضوع پر پانچ مقالات پر مشتمل ہے ۔اس میں مولانا سلفی کا ’’حسن البیان فیما سیرۃ نعمان ‘‘کے لیے لکھا گیا وقیع مقدمہ بعنوان ’’ درایت اور فقہ راوی‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ البانی  اور مولانا سلفی  کی دفاع حدیث کےسلسلے میں کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس مجموعہ کو مفید ومقبول بنائے (آمین) (م۔ا)

رسول اکرم ﷺ کی نماز

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اکرم کی نماز ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی زندگی کے آخری ایام میں تحریری کی گئی کتب میں سے ہے اس کتاب کو آپ کی وفات کے بعد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف ﷫ نے ایڈٹ کر کے شائع کیا۔اس کتاب میں نماز کے احکام ومسائل بیان کرتے ہوئے مولانا سلفی نے فقہی مذاہب ومسالک سے قطع نظر براہِ رست تعلق ادلۂ شرعیہ سےرکھا ہے او رموافق ومخالف دلائل کی جانچ پڑتا کے بعد جو رائے قائم ہوئی ا سے بغیر کسی جانبداری کے لکھ دیا ہے ۔ جیساکہ فقہائے محدثین کا طریق کار تھا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نافع بنائے اور مولانا سلفی کی قبر پر اپنی رحمت کا نزول فرمائے (آمین) (م۔ا)

نصیحت

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث "ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے،بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔"امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔اہل حدیث ہی وہ فرقہ ہے جو خالص کتاب وسنت کا داعی ہے۔ زیر نظر کتاب "نصیحت" حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کی ایک جماعتی تصنیف ہے۔ اور کتاب ہذا میں وہ ارشادات کو جمع کیا گیا ہے جو مولانا سلفیؒ نے جماعت اہل حدیث کے سربراہ اور منتظم ہونے کی حیثیت سے ارشاد کیے تھے اس میں جماعت کے مقاصد، تعلیمی امور، تنظیمی مشکلات، جماعت کے تبلیغی پروگرام اور مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل وغیرہ کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت اہلحدیث سے اپنے دین حنیف کی سر بلندی کا کام لے اور اس کے بانی و معاونین کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث تنقیدی جائزہ

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Knowledge

By Al Noor Softs

اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول ﷺ کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ماخذوں میں سے کسی ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول ﷺ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول ﷺ کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث، تنقیدی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب ﷫کی مایہ ناز تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی صاحب﷫ اور ان کی قائم کردہ جماعت اسلام کا نظریہ حدیث بیان کیا ہے۔اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

تحریک آزادی فکر اور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مسائل

Authors: محمد اسماعیل سلفی

In Knowledge

By Al Noor Softs

قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔ ان محققین میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب تحریکِ اہلحدیث کے موضوع پر لکھی گئی ہے‘ جس میں ان مختلف مراحل کا ذکر ہے جن سے یہ تحریک ہندوستان میں گزرتی رہی اور دیگر مذاہب کے پَیروکاروں کا اس کے متعلق کیا مؤقف رہا؟تقلید اور جمود کے خلاف شاہ ولی اللہ کی کوششوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور انہوں نے تقلید اور جمود کی بیریوں سے آزاد ہونے اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی دعوت دی؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بحث وتحقیق کا پرچم اٹھایا اور اس کے بعد اعتقادی اور عملی بدعتوں کی مزاحمت کرتے رہے؟یہ کتاب مصنف نے مقلدین اور اہل حدیث لوگوں کے درمیان اختلافی مسائل کو مناظرانہ انداز سے رد کرنے اور دفاع کی غرض سے لکھی گئی ہے جس میں انہوں نے رد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی دین حالت‘ گروہ بندی‘ فرقے سازی اور ان ارتقائی منازل پر بڑی دقیق اور علمی اسلوب میں بحث کی ہے‘ جن سے کتاب وسنت کی تحریک کو رسولِ کریمﷺ کے زمانے سے لے کڑ آج تک گزرنا پڑا‘ پھر انہوں نے اس اختلاف کی اصل اور بنیاد کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اور مکمل تفصیل کی ساتھ تعصب سے ہٹ کر گفتگو کی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں گیارہ عنوانات درج کیے ہیں۔تحریک اہل حدیث کے مد و جزر سے متعلق ہے‘ دوسرا تحریک کے تاریخی موقف اور خدمات سے‘ تیسرا برصغیر میں اہل توحید کی سرگرمیوں کے حوالے سے‘ چوتھا اور پانچواں مسئلہ تقلید سے متعلق ہے‘ چھٹا اہل حدیث کی اقتداء سے ‘ ساتواں تحریک ہی سے ‘ نواں زیارت قبور سے‘ دسواں مسلک اہل کے بارے میں سوالات وجوابات سے اور گیارہواں ایک استفسار کے جواب سے متعلق ہے۔یہ کتاب مولانا محمد اسماعیل سلفی﷾ کی عمدہ تحقیق پر مشتمل کتاب ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )