شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی مسلک اہل حدیث کے ترجمان ،تقریر وخطابت ،تحریر وانشاء او ردرس وتدریس کے شہسوار تھے او رجماعت اہل حدیث کے متعلق اپنے پہلومیں ایک درمند دل رکھتے تھے ۔پاکستان میں میں جمعیت اہل حدیث کے وہ پہلے ناظم اعلیٰ اور پھر امیر مرکزیہ کی ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآہوئے ۔ اہل حدیث کانفرنس میں ان کی عموماً گفتگو حجیت حدیث ،مقام حدیث ،مسلک اہل حدیث ،تاریخ اہلحدیث کے عنوان پر ہوتی اور اکثر وبیشتر ان کی تحریر کے عنوان بھی یہی ہوتے اور عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔مولانا مرحوم بيک وقت ايک جيد عالمِ دين مجتہد ، مفسر ،محدث ، مؤرخ ، محقق ، خطيب ، معلم ،متکلم ، نقاد ، دانشور ، مبصر تھے ۔ تمام علوم اسلاميہ پر ان کو يکساں قدرت حاصل تھی ۔ تفسیر قرآن ، حديث ، اسماء الرجال ، تاريخ وسير اور فقہ پر ان کو عبور کامل حاصل تھا ۔ حديث اور تعليقات حديث پر ان کا مطالعہ بہت وسيع تھا حديث کے معاملہ ميں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہيں کرتے تھے۔مولانا محمد اسماعيل سلفیايک کامياب مصنف بھی تھے ۔ان کی اکثر تصانيف حديث کی تائيد وحمايت اور نصرت ومدافعت ميں ہيں آپ نے دفاع سنت کابیڑا اٹھایا اور اس کا حق ادا کیا ۔ اپنے مخاطب کا بھر پور تعاقب کرتے مگر اس کے ادب واحترام کے منافی کوئی چیز نوک قلم پر نہیں لاتے ۔زیر نظر کتابچہ’’مسلک اہل حدیث اور تحریکات جدیدہ‘‘ مولانا سلفی کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے نصف صدی پہلے ’’ مسلک ا ہل حدیث او رتحریکات جدیدہ‘‘ کے عنوان سے شیخ الاسلام فاتح قادیان امام المناظرین مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے لیے 1945ء مین لکھے ۔ یہ مضمون تین اقساط میں مذکورہ رسالہ میں شائع ہوا۔مولانا امرتسری نے ان کی قدر افزائی فرمائی اور اس کی پہلی قسط بطور اداریہ شائع کی۔اللہ تعالیٰ مولانا سلفی مرحوم کی مسلک حقہ اہل حدیث کےلیے خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت نوازے (آمین) (م ۔ا)