eBooks
2,841 Results Found
مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے
Authors: قاضی مجاہد الاسلام قاسمی
In Fiqha
اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اب یہ ایک لازمی بات ہے کہ شرعی نصوص محدود جبکہ انسانی مسائل لامحدود ہیں۔انہیں حل کرنے کے لئے اجتہاد و تفقہ کا راستہ اپنانا ضروری ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور حدیث نبوی میں زندگی کے بعض مسائل کے بارے میں جزوی تفصیلات بھی موجود ہیں اور بعض مسائل خاص کر معاملات کے بارے میں زیادہ تر اصول و قواعد کی رہنمائی پر اکتفاء کیا گیا ہے تاکہ ہر عہد کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ان کی تطبیق میں سہولت ہو، اسی لئے ہر دور میں ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جن کے بارے میں صریح حکم قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں، معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجات کا ہے، اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتے ہیں، چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا، نئے مسائل کو حل کرنے میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اور قابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) بھی ہے۔زیرنظر کتاب اکیڈمی کے تحت منعقدہ مختلف سمینارز میں کئے گئے جدید فقہی فیصلے ہیں۔(ع۔ح)
غیرت کا فقدان اور اس کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں
Authors: رضوان اللہ ریاضی
In Arguments
غیر ت آدمی کا اندرونی ڈر اور خوف ہے جو اس لیے رونما ہوتا ہےکہ وہ سمجھتا ہےکہ اس کے بالمقابل ایک مزاحم پید ہوا ہے عربی لغت کے مطابق غیرت خوداری اور بڑائی کا وہ جذبہ ہے جو غیر کی شرکت کو لمحہ بھر کے لیے برداشت نہیں کرتا ۔ غیرت کا تعلق فطرت سے ہے فطری طور پر تخلیق میں غیرت ودیعت کی گئی ہے غیرت سے محروم شخص پاکیزہ زندگی سے محروم ہے او رجس کے اندر پاکیزہ زندگی معدوم ہو تو پھر اس کی زندگی جانوروں کی زندگی سے بھی گئی گزری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی ذات کے سلسلہ میں غیرت مند او رمنفعل بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی مجبور ولاچار کیوں نہ ہو لیکن آخری دم تک اپنی عزت وآبرو کی حفاظت وصیانت میں جان کی بازی لگائے رکھتا ہے ۔جس قوم کے اندر غیرت وحمیت کا جذبہ موجود ہوگا اس کی نسل اور تعمیری زندگی گزار سکے گی اور وہی معاشرہ حسنِ اخلاق کا پیکر بن کر اعلیٰ اقدار کا مستحق بھی ہوگا۔حدیث کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک غیرت دو طرح کی ہے غیر ت مبغوض اور غیر محبوب۔محبوب غیر ت وہ ہے جو شک کی بنیاد پر ہو اورجوبغیر شک کے ہو وہ غیرت اللہ کےنزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ ہے۔ سب سے محبوب اور قابل ستائش غیرت وہ ہے جو خالق ومخلوق کے درمیان ہوتی ہے ۔ یہی وہ غیرت ہےکہ ایک بندۂ مومن اللہ کی محرمات وحدود کو پامال ہوتے دیکھ کر طیش میں آجاتا ہےاور اس کی غیرت اس کو للکارتی ہے ۔ایک مرد مومن اپنے تیئں سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن محرمات کی پامالی کو لمحہ بھر کے لیے بھی روا نہیں رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت میں غیرت مند مومن کے جذبات کا برانگیختہ ہوجانا اور اس کے تن من میں شعلوں کا بھڑک اٹھنا ایک بدیہی امر ہے ۔دینی اعتبار سے سب سے زیاہ قوی وہی شخص ہوگا جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی محرمات وحدود پر سب سے زیادہ غیرت وحمیت ہوگی ۔حدیث میں غیرت ایمانی اور غیرت زن کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ غیرت کا فقدان اوراس کا علاج قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ جناب رضوان ریاضی صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے عورت کی عزت وآبرو پر غیرت وحمیت کے ایجابی وسلبیاتی پہلو پر واقعات ودلائل کی روشنی میں حقائق بیان کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔نیز مصنف نے ضمناً اسلامی غیرت وحمیت کےگوشوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔(م۔ا)
علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں
Authors: رضوان اللہ ریاضی
In Arguments
مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک علامہ ابن باز بھی ہیں، علامہ ابن باز بصارت سے اگرچہ محروم تھے لیکن بصیرت سے مالا مال تھے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص علامہ ابن باز کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی علمی خدمات کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ ایسی شخصیت کا عوام الناس میں تعارف بہت ضروری ہے کیونکہ ایسی شخصیات نسل در نسل میں روح اور اسپرٹ پیدا کرتی ہیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگیوں میں بہت سارے لوگوں کی زندگیاں اور تجربات سے گزرے ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اردو زبان میں علامہ ابن باز کی سیرت وتعارف پر پہلی اور عمدہ ترین کتاب ہے اس کتاب سے قبل علامہ ابن باز کی زندگی پر کوئی کتاب مارکیٹ میں کتب خانہ کی زینت نہیں بن سکی۔اور مؤلف نہایت معتدل اور میانہ روی سے کام لیتے ہوئے اور تعصب اور اندھی عقیدت سے بچتے ہوئے علامہ ابن باز کی سیرت کو پیش کرتے ہیں۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مو علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں ‘‘ رضوان اللہ ریاضی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں جن میں سے سفارش کرو،اجر وثواب پاؤ‘ اور رسول اکرمﷺ کا طرز عمل، کس کے ساتھ کیسا؟ عمدہ ترین کتب ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
رسول اکرمﷺ کی ہنسی خوشی اور مذاق
Authors: رضوان اللہ ریاضی
سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔ اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اکرمﷺ کی ہنسی خوشی اور مذاق‘‘ رضوان ریاضی صاحب کی ہے۔ جس میں ہنسنے ، خوشی منانے اور مذاق کے طریقوں کو نبیﷺ کے کی سیرت کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ امید ہے اس کتاب کے مطالعے سے ہنسنے، خوشی اور مذاق کے حوالے غیر اخلاقیات سے نجات ممکن ہو گی۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،ناشر کی خدمات کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےنفع بخش بنائے ۔آمین۔ (رفیق الرحمن)
رسول اکرم ﷺ کا طرز عمل کس کے ساتھ کیسا؟
Authors: رضوان اللہ ریاضی
رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے۔نبی کریم ﷺ سارے جہاں کےلیے رحمت ہیں اور آپ کی زندگی انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔سیرت ایک بڑا وسیع موضوع ہے اور محدثین عظام نے رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے تشریعی اور غیر تشریعی پہلوؤں پر بے شمار کتب تصنیف کی ہیں ۔احادیث نبویہ کے مختلف اور متنوع مجموعوں میں ہر گوشہ پر مواد موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نبوت ورسالت کے تئیس سال انسانی معاشرہ میں ایک عام انسان کی طرح گزارے اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے آپ نے اپنی زندگی کا جو نمونہ پیش کیا اس میں ہر سطح کے لوگوں کے لیے رشد وہدایت کا سامان موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’رسول اکرم ﷺکا طرزِعمل کس کے ساتھ کیسا؟ ‘‘ جناب رضوا ن اللہ ریاضی صاحب کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں اکتالیس عنوانات کے تحت رسول اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ یا آپ کے اسوۂ حسنہ کو اس انداز سے مرتب کیا ہے کہ معاشرے کےہرطبقہ کے استفادہ کےلیے اور اس سے عبرت وموعظمت حاصل کرنے کےلیے اس کا ہر عنوان اپنے اندر جاذبیت رکھتا ہے ۔انسانی زندگی میں کس کےساتھ کیسا سلوک اورطرز عمل ہونا چاہیے فاضل مصنف نے اس سلسلے میں سیرت النبیﷺ کی روشنی میں کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا۔ جہاں تک ممکن ہوسکا ہے ہر موضوع کو خوب اچھی طرح نکھارا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کےلیےنفع بخش بنائے ۔(آمین)
علامہ صفی الرحمن مبارکپوری یادوں کے سفر میں
Authors: رضوان اللہ ریاضی
مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں سیرت سرور عالم پر لکھنے کی سعادت ملی ہے۔آپ کا اسم گرامی جیسے زبان پر آتا ہے ویسے ہی آپ کی عظیم ترین کاوش الرحیق المختوم یاد آجاتی ہے۔آپ عصر حاضر کے ان علماء میں سے تھے جو رسوخ فی العلم رکھتے تھے۔آپ اعظم گڑھ، مبارکپور کی سرزمین پرچھے جون انیس سو بیالیس میں پیدا ہوئے تھے۔بستی کا نام حسین آباد جو قصبہ مبارکپور کے شمال میں تقریبا دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی طرح مولانا کی تعلیم ، تدریس اور دیگر کار ہائےنمایاں کے بارےمیں یہ کتاب رقم کی گئی ہے۔جسے موصوف مرتب انتہائی زیادہ کاوشوں کے ساتھ منصہ شہود پر لے کر آئے ہیں۔ساتھ ان کی طرف سے یہ شکوہ کیا گیا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ ایک اتنی بڑی شخصیت کے آنکھوں سے اوجل ہونے کے باوجود بھی سلفی حضرات کی طرف سے کسی معروف جریدے میں کوئی کلمہء تاسف نہ لکھا گیا۔ اللہ تعالی محتر م مؤلف کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے۔(ع۔ح)
ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری جلد اول
Authors: سید صباح الدین عبد الرحمن
In Knowledge
ہندوستان میں مسلمان آباد ہوئے تو شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ان کے پڑوسی غیر مسلم نہ ہوں۔ روز مرہ زندگی میں ان سے برابر سابقہ رہا اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بڑی اہمیت ہے۔ ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کے عہد میں صرف لڑائیاں ہی نہیں ہوتی رہیں بلکہ ان کے یہاں روادای ، فراخ دلی اور انسان دوستی بھی ر ہی ۔ او رمسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ رہا ہے کہ حکومت الحاد ، بے دینی کفر اور شرک کے ساتھ تو عرصۂ دراز تک قائم رہ سکتی ہے مگر جبر،ظلم اور چیرہ دستی سے قرار نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔ اسی لیے ہندوستان کے مسلمان فرمان رواؤں نےاپنے دورِ حکومت میں عدل وانصاف پر ہرزمانہ میں زور دیا ۔ یہ عدل پسندی اور انصاف پروری رواداری اور فراخ دلی کے بغیر عمل میں نہیں آسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہندوستان کےعہد ماضی میں مسلمانوں حکمرانوں کی مذہبی رواداری ‘‘ سید صباح الدین عبد الرحمٰن(مصنف کتب کثیرہ کی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف ہے۔بنیادی طور پر اس کتاب کو دلوں کوجوڑنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ جلد اول میں عہد مغلیہ سے پہلے کے ہندوستان کے مسلمان حکم رانوں اور جلد دوم میں مغل فرمانرواؤں کے دور کی مذہبی رواداری ، فراخ دلی اورانسان دوستی کی تفصیلات مستند ماخذوں کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔(م۔ا)
ظہیر الدین محمد بابر مسلمان و ہندو مورخین کی نظر میں
Authors: سید صباح الدین عبد الرحمن
In Knowledge
مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواس کی رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے جو انسان کے لیے ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک ظہیر الدین محمد بابر بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں ظہیر الدین محمد بابر سے متعلق تزک بابری کے علاوہ اس دور سے اب تک مسلمان اور ہندو مؤرخین نے فارسی‘ اردو اور انگریزی میں جو لکھا گیا ہے ان کے اقتباسات کو پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی رائے خود قائم کر سکیں۔ اور ان کے حالات‘کارکردگی اور کارناموں کا تذکرہ اصلی ماخذان کی خود نوشت سوانح عمری ہے‘ اردو میں اس کا صحیح اور درست ترجمہ نصیر الدین حیدر گورگانی نے ترکی‘فارسی اور انگریزی نسخوں سے موازنہ کر کے کیا ہے اس لیے معلومات کا سرچشمہ یہی ہے۔ اور لفظی اقتباسات سے بچتے ہوئے مفہوم پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ ظہیر الدین محمد بابر مسلمان وہندو مؤرخین کی نظر میں ‘‘ سید صباح الدین عبد الرحمان کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
مسلمان حکمرانوں کے تمدنی جلوے
Authors: سید صباح الدین عبد الرحمن
ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی جلوے‘‘ دار المصنفین کے رفیق سید صباح الدین عبد الرحمٰن کی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے دربار،محلات، حرم، لباس، پارچہ بافی، زیورات، جوہرات، خوشبوئیات، خورد و نوش، ساز وسامان، تہوار، تقریبات، موسیقی، اور مصوری وغیرہ کی مکمل تفصیل بیان کی ہے۔ (م۔ا)