eBooks

2,841 Results Found
فقہ الزکوۃ حصہ سوم و چہارم

Authors: ڈاکٹر یوسف القرضاوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ فقہ الزکاۃ‘‘ مسائل زکاۃ کےبہت سے پہلوؤں پر محیط ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر یو سف القرضاوی عالم اسلام کے معروف دینی رہنما اور ہیں ان کی علمی خدمات نے عالمِ اسلام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں ۔ انہو ں نے اپنی اس کتاب میں وقت کے ایک بڑے چیلنج کا مؤثر اور شافی کافی جواب دیا ہے اور اسلام کے مالیاتی نظام کا خاکہ پیش کر کے مسئلہ کا یقینی حل پیش کیا ہے۔یہ کتاب اہل علم کے ہاں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔اصل عربی کتاب دو جلدوں میں ہے۔ جناب ساجد الرحمن صاحب نے اس کتاب کا سادہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا۔ادارہ معارف اسلامی نے 1981ء میں اسے پہلی بار شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

فقہ الزکوۃ حصہ اول دوم

Authors: ڈاکٹر یوسف القرضاوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ فقہ الزکاۃ‘‘ مسائل زکاۃ کےبہت سے پہلوؤں پر محیط ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر یو سف القرضاوی عالم اسلام کے معروف دینی رہنما اور ہیں ان کی علمی خدمات نے عالمِ اسلام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں ۔ انہو ں نے اپنی اس کتاب میں وقت کے ایک بڑے چیلنج کا مؤثر اور شافی کافی جواب دیا ہے اور اسلام کے مالیاتی نظام کا خاکہ پیش کر کے مسئلہ کا یقینی حل پیش کیا ہے۔یہ کتاب اہل علم کے ہاں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔اصل عربی کتاب دو جلدوں میں ہے۔ جناب ساجد الرحمن صاحب نے اس کتاب کا سادہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا۔ادارہ معارف اسلامی نے 1981ء میں اسے پہلی بار شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

راہ سنت

Authors: ابو السلام محمد صدیق

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

ٖ اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول ﷺ کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ماخذوں میں سے کسی ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول ﷺ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول ﷺ کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین، بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "راہ سنت" محترم مولانا ابو السلام محمد صدیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سنت نبوی کی اہمیت و ضرورت اور حجیت پر تفصیلی بحث کی ہے اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا کافی وشافی جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

تعلیم الفرائض

Authors: ابو السلام محمد صدیق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الفرائض‘‘محدث العصر مجتہد وفقیہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کے لائق ترین شاگرد اور روپڑی ﷫ کے فتاوی ٰ جات کو تین مجلدات میں فتاویٰ اہل حدیث کے نام سے مرتب کرنے والے ابوالسلام مولانا محمد صدیق سرگودہوی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ یہ کتاب در اصل محدث روپڑی کے ارشاد پر ’’وارثت اسلامیہ‘‘ کےنام سے مرتب کیے گئے نقشہ کی طبع دوم ہے مولانا صاحب نے جب اس نقشہ کومرتب کیا تو اکابر علماء وقت نے اسے بہت پسند کیا ۔تو پھر مرتب نے اس میں بعض مسائل کا اضافہ کیا اور اسے ’’تعلیم الفرائض ‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔اسلامی وراثت کے موضوع پر یہ کتا ب مختصر ،جامع اور آسان تصنیف ہے ۔ اسی وجہ سے اکثر مدارس سلفیہ میں شامل نصاب ہے۔ (م۔ا)

خیر الکلام فی قراءۃ الفاتحۃ خلف الامام

Authors: ابو السلام محمد صدیق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میںفاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نمازناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "خیر الکلام فی قراءۃ الفاتحۃ خلف الامام" محترم مولانا ابو السلام محمد صدیق﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، ورنہ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہو گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

تعلیم الاحکام من بلوغ المرام کتاب الطہارت

Authors: ابو السلام محمد صدیق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح عصرکے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تعلیم الاحکام من بلوغ المرام کتاب الطہارت ‘‘ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کے شاگرد رشید مولانا ابو السلام محمد صدیق سرگودھوی ﷫ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ الفاظ کا حل راوی کے مختصر حالات اور سوال وجواب کی صورت میں وہ تمام مسائل بیان کیے ہیں جوپیش آمدہ حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔ لیکن یہ صرف کتاب الطہارت کا ترجمہ وتشریح ہے ۔ محدث روپڑی کے تین جلدوں پر مشتمل فتاویٰ جات بھی مولانا صدیق  کے مرتب شدہ ہیں اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

خون صحابہ ؓ

Authors: عبد الرشید حنیف

In Worship and matters

By Al Noor Softs

یہ بات روز اول سے چلی آرہی ہے کہ حق گوئی کرنےوالوں کو کبھی ظالم وجابر معاشرہ برداشت نہیں کرتا ۔اس کام کے لیے وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا ہے اس کے راستے میں روکاوٹیں حائل کی جاتی ہیں ۔طعنہ و تشنیع،گالیاں، برابھلا،موت کی دھمکیاں،جیل ،تختہ دار اور اہل خانہ کو اذیتیں دینا ظالم حکمران کا شیوا رہا ہے ۔صاحب اقتداراپنے تخت وتاج سے ہر سہولت تو خرید سکتے ہیں مگرکلمہ حق کہنے والوں کو نہیں دبا سکتے ۔او ر اسی طرح ہر دور میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے سعادت حاصل کرتے رہے ہیں اور جنتوں کے حق دار ٹھہرے۔آپﷺ نے جب دین حق کا پرچار کیا تو عرب زمانہ جاہلیت میں غوطہ زن تھا۔لوگوں نے مجنوں،دیوانہ،شاعر جیسے الفاظ کسےآپﷺ پر اپنوں نے ساتھ چھوڑ دیا اقتدار والوں نے مال ودولت کی آفر کی، دین حق سے پھسلانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اور آپﷺ کے جانثاروں پر زندگی تنگ کر دی گئی۔گرم صحراء،سولی ،قتل اور طرح طرح کی تکالیف سے دوچار کیاگیا مگروہ استقامت کا پہاڑبن کر امت کے لیے مشعل راہ بن گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب"خون صحابہ" مولانا عبدالرشید حنیف کی کاوش ہے اس میں میں آپﷺ کی دین حق کے لیے قربانیاں دینا طائف میں پتھرکھانا،احد میں اپنے دندان مبارک شہید ہونااو ر صحابہ کرام کا دین حنیف کی خاطر سب کچھ قربان کرتے ہوئے استقامت اختیار کرنے کا ذکر کیاگیاہے۔اللہ تعالی مصنف وناشرین کو اجر عظیم عطا کرے اور تمام داعیان اسلام کو استقامت کی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)(عمیر)

مقبول ربانی کی مقبول نماز

Authors: عبد الرشید حنیف

In Faith and belief

By Al Noor Softs

بلاشبہ نماز ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے اوردین کا ستون ہے۔اور مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے ۔نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔نماز کی اہمیت کے پیش نظر متقدمین ومتأخرين علمائے کرام نےمختلف اسالیب کے ساتھ مختصر ومفصل کتابیں لکھیں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقبول ربانی کی مقبول نماز‘‘جھنگ، پاکستان کے جید سلفی عالم دین کبار علماء اہل حدیث(مولانا محمد اسماعیل سلفی، حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا عبد القادر حصاروی﷭ وغیرہم) کے معاصر مولانا عبد الرشید حنیف کی تصنیف ہے ۔ تھوڑے عرصہ میں اس کتاب کے پانچ ایڈیشن شائع ہوئے پہلا ایڈیشن 1963ء میں شائع ہوا اور چند دنوں میں ختم ہوگیا ۔زنظر اس کتاب کا پانچواں ایڈیشن ہے ۔موصوف نے اس ایڈیشن کو 1973ء میں احباب کے ذوق کےپیش نظر ترمیم واضافہ کے ساتھ جدید تقاضوں کے تحت پیش کیا ۔ا س میں نماز کی ادعیہ واوراد کا مع اشعار ترجمہ کر کےشامل کیا۔اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کی اشاعت پر اس کتاب کے متعلق شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ نے تحریرکیا کہ صاحب کتاب نے نماز کےاوراد اور ادعیہ میں سنت کاتتبع فرمایا ہے ۔اور جرید اہل حدیث سوہدرہ نے یکم اپریل 1963ء کی اشاعت میں لکھا کہ : نوجوان اور بچوں کوسنت کےمطابق نماز سکھانے کےلیے یہ رسالہ بہترین راہبر ہے۔محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ نے اس رسالہ کے متعلق فرمایا :’’اس کتاب میں چار خوبیاں ہیں ۔ مختصر ہے ، عام فہم ہے ، اردو بڑا سلیس ہے ، کوزہ میں دریا بند ہے ۔ مجھے بہت پسند ہے ایسی کتاب دینی مدارس اور سرکاری سکولوں میں ضرور لگنی چاہیں‘‘۔ اگرچہ اب نماز کے موضوع پر بڑی عمدہ اور آسان فہم تحقیق وتخریج سے مزید کتابیں آچکی ہیں جن میں سے اکثر ویب سائٹ پر موجود ہیں لیکن علماء حق کے علمی ذخیرے کو تاریخ میں محفوظ کرنے کی خاطر ان قدیم کتب کو بھی سائٹ پر پبلش کیاجاتا ہے او رجو یقیناً قارئین کے لیے فائدہ سے خالی نہیں ۔(م۔ا)

اولیاء الرحمن کی پہچان

Authors: عبد الرشید حنیف

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

کس قدر عجیب بات ہے کہ آدمی جس عقل اور فہم وبصیرت سے دنیوی امور میں کام لیتا ہے دین کے معاملے میں اس عقل وبصیر ت اور تدبر سے کام نہیں لیتا۔کوئی چیز خرید کرنا ہو گھی، گوشت، دودھ درکار ہو تو کئی دکانیں پھر پھرا کر خالص اور ملاوٹ سے پاک سستی اور اچھی چیز خریدی جاتی ہے۔لیکن کس قدر جہالت، کور چشمی اور نادانی کی بات ہے کہ دین کے معاملے میں ہم بالکل اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔جہاں کہیں کوئی واقعہ عجوبہ روزگار، خارق عادت دیکھ لیا یا کوئی پاگل اور دیوانہ نظر آگیا جھٹ اسے بزرگ اور ولی اللہ سمجھ لیتے ہیں اور اسے مجذوب کا نام دیکر محبوب خدا خیال کرنے لگتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے کہ جو آدمی از خود رفتہ ہوش وحواس باختہ ہے ۔اللہ کے اوامر اور نواہی کی پابندی نہیں کرتابلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ بھلا ولی اللہ یعنی اللہ کا دوست کیسے ہو سکتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب" اولیاء الرحمن کی پہچان"شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ناظم اعلی مدرسہ تدریس القرآن والحدیث سنت نگر لاہور کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اولیاء الرحمن کی پہچان کو بیان کرتے ہوئے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان کا فرق بیان کیا ہے اوراولیاء الشیطان سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)