عشق یا محبت ؟


By Al Noor Softs
Posted on Nov 12, 2024
In Category Faith and belief
Authors مختلف اہل علم
Published By ناشر : مرکز الدعوۃ الاسلامیہ لاہور
In Year 2016
Key Word علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی...الشیخ محمد حسین ظاہری
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 152
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
عشق کی بیماری میں شیطان دو طرح کے لوگوں کو مبتلاء کرتا ہے، ایک بے دین طبقہ اور دوسرا دین دار طبقہ۔بے دین طبقے میں لیلی مجنوں، شیریں فرہاد وغیرہ کے نام سننے کو ملتے ہیں۔اور دین دار طبقے میں اس بیماری کا شکار صوفیاء ہوتے ہیں۔کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف ؑ سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" عشق یا محبت؟"مرکز الدعوۃ الاسلامیۃ کی طرف سے شائع کی گئی ہے جس میں اس موضوع پر علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی صاحب، مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی صاحب، مولانا محمد حسین ظاہری صاحب، مولانا محمد امجد سلفی سندھی صاحب، محترم ریحان معظم قریشی ہاشمی صاحب،حافظ مقصود احمد صاحب اور مولانا رفیق طاہر صاحب تحریریں شامل اشاعت ہیں۔مذکورہ تمام اہل علم نے لفظ عشق کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ تمام اہل علم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
Ratings Read Downloads
(0)   112   32
 
 

عشق کی بیماری میں شیطان دو طرح کے لوگوں کو مبتلاء کرتا ہے، ایک بے دین طبقہ اور دوسرا دین دار طبقہ۔بے دین طبقے میں لیلی مجنوں، شیریں فرہاد وغیرہ کے نام سننے کو ملتے ہیں۔اور دین دار طبقے میں اس بیماری کا شکار صوفیاء ہوتے ہیں۔کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف ؑ سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" عشق یا محبت؟"مرکز الدعوۃ الاسلامیۃ کی طرف سے  شائع کی گئی ہے جس میں  اس موضوع پر علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی صاحب، مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی صاحب، مولانا محمد حسین ظاہری صاحب، مولانا محمد امجد سلفی سندھی صاحب، محترم ریحان معظم قریشی ہاشمی صاحب،حافظ مقصود احمد صاحب اور مولانا رفیق طاہر صاحب تحریریں شامل اشاعت ہیں۔مذکورہ تمام اہل علم نے لفظ عشق کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ تمام اہل علم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks