تحريش ایک شیطانی عمل ہے جس كا معنى بهڑکانے ، ورغلانے کے ہیں۔رسول الله ﷺ نے فرمايا کہ شيطان اس سے مايوس ہوچکا ہے کہ جزيره عرب ميں نمازى اس كى عبادت كريں ليكن انكے درميان " تحريش " (لڑائی جھگڑا)سے کام لے۔ (صحیح مسلم:2812) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو شیطان کے حملوں اور اس کی دوشمنی سے محفوظ رکھے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’شیطان کی ریشہ دوانیاں حدیث نبوی ’’ولکن فی التحریش بینہم کے تناظر میں ‘‘ جناب فضیلۃ الشیخ مقصود الحسن فیضی﷾ کے 10؍مارچ2017ء کو ریاض میں پیش کیےگئے ایک خطاب کی تحریری صورت ہے۔ محترم جناب محمد وقاص نے اسے افادۂ عام کے لیے مرتب کیا ہے۔شیخ فیضی ﷾ نے اس ميں حديث كا مفہوم بيان كيا اور پھر شيطانى تحريش كے مختلف ميدان ذكر كيے جن ميں : دو مسلمان جماعتوں ، دو دوستوں ، مياں بيوى، دو بهائيوں، باپ اور بيٹے، امير اور مامور میں تحريش كا ذكر كيا. اس كے بعد شيطانى تحريش كى مختلف صورتوں کو ذكر كيا جن ميں : قومى يا نسلى عصبيت كا نعره لگانا ، جاہلی تہذيب پر فخر كرنا ، حسد كى آگ ، غصہ کرنا ، سردارى و منصب كا لالچ ، عجب اور خود بينى ، كبر و غرور ، تعصب ، بنيادى اور غير بنيادى باتوں میں فرق نہ کرنا ، گناہ کا ارتكاب.۔اللہ تعالیٰ شیخ مقصود الحسن فیضی اورمرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ان کے میزان ِحسنات اضافے کا ذریعہ بنائے ۔(آمین)(م۔ا)