شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ( 1703 - 1792 م) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ شیخ موصوف کی دعوتی تحریک تاریخ اسلام کی ان تحریکوں میں سے ہے جن کو بہت زیادہ مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی ۔اور یہی وجہ ہےکہ دنیائے اسلام کےہرخطہ میں میں ان کے معاندین ومؤیدین بہت کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ رسالہ’’ شیخ محمد بن عبدالوہاب اوران کی دعوت‘‘ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز کی الجامعۃالاسلامیۃ مدینہ منورہ میں ایک تقریر کا ترجمہ ہے جو انہو ں نےیونیورسٹی کےہال میں علماء وطلبہ کےایک مجمع میں کی تھی اور بعد میں ٹیپ ریکارڈر سے تحریر میں لایاگیا ۔شیخ ابن باز نے اپنی اس تقریر میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی سوانح حیات اور انکی دعوت کو جامع الفاظ میں پیش کیا ہے۔اس رسالہ پر مدینہ یونیورسٹی کے استاد عطیہ محمد سالم نے جامع تقدیم وتعلیق فرمائی اور اس میں شیخ ابن باز کا بھی مختصر تذکرہ وتعارف پیش کیا ہے۔اس اہم رسالہ کاترجمہ مولانا عبد العلیم بستوی نے کیا۔ محدث روپڑی کےتلمیذ رشید جناب ابو السلام محمد صدیق آف سرگودھا کےقائم کردہ ’’ادارہ احیاء السنۃ ‘‘ نے 1973ء میں اسے شائع کیا۔(م۔ا)