پانی کے کسی برتن ،تالاب یا حوض سے کوئی انسان ،حیوان یا درندہ پانی پی لے اور کچھ باقی بھی بچ جائے تو اس بچے ہوئے پانی کو جوٹھا پانی کہا جاتا ہے جسے عربی میں سؤر كہا جاتا ہے۔ ایسا پانی کے پینے والوں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے کئی نوعیتوں کاہوتا ہےاورجوٹھ کی الگ الگ نوعیتیں واقسام ہیں مثلاً انسان کا جوٹھا، اور پھر ان میں سے مسلمان کا جوٹھا،او ر کافر ومشرک کا جوٹھا، حیوان کا جوٹھا، اور پھر ان میں سے ایسے جانوروں کا جوٹھا جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اور جن کا گو شت نہیں کھایا جاتا اور جود ردندے ہیں اور جو محض جانور تو ہیں مگر درندے نہیں ۔ زیر نظر کتاب’’غیر مسلموں اور جانوروں کا جوٹھا اور کفّار ومسلمین کے تعلقات ‘‘ میں محترم جناب مولانا محمدمنیر قمر حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) نے انہی احکام کو قرآن وسنت ، فقہی اقوال کی روشنی میں بیان کیا ہے۔(م۔ا)