اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی ﷺ کی ہجرت سے قبل اس کا نام یثرب تھا اور یہ شہر غیر معروف تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہرِ مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے۔اس شہر میں بہت سے تاریخی مقامات اور بکثرت اسلامی آثار و علامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت و رفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس شہر مقدس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن زید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں ’’کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سیدنا ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں اور مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ یہاں کے مُد میں اس کے صاع میں برکت ہو۔‘‘(صحیح بخاری)نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کے چند مقامات کی زیارت کو مشروع قرار کر دیا ہے ان مقامات کی طرف جانا سیدنا حضرت محمد ﷺ کی اقتدا اور آپ کے اسوۂ حسنہ کے پیش نظر موجبِ اطاعت ہے ۔ زیرنظر کتابچہ بعنوان ’’زیارت مدینہ منورہ آحکام و آداب‘‘علامہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی کتاب التحقيق و الايضاح لكثير من مسائل الحج و العمرة و الزيارة على ضوء الكتاب و السنة کی آخر فصل کا اردو ترجمہ ہے۔ مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ نے اسے الگ ایک کتابچہ کی صورت میں تیار کر کے شائع کیا ہے۔(م۔ا)