یہ بات واضح ہے کہ اعمال کی صحت کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اور ساری اسلایم عبادات جیسے نماز ،روزہ، حج، زکاۃ، اور دیگر سارے کار خیر کی بنیاد اخلاص اوراتباع سنت ہےان دونوں میں سے کسی ایک کا نہ پایا جانا عمل وعبادت کی صحت پر اتنا اثر ڈالتا ہےکہ وہ عمل نہ یہ کہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتا بلکہ الٹا عامل کے لیے بوجھ اور سبب گناہ بن جاتا ہے ۔ کیونکہ اخلاص کافقدان عمل کو نہایت ہی خطرناک راہ یعنی ریاء کاری اور دکھاوے کی راہ پر ڈال دیتا ہے جسے نصوصِ کتاب وسنت میں شرک سے تعبیر کیاگیا ہے ۔کسی شخص کو اخلاص اور للہیت کا مل جانا اس کے کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺنے اپنی احادیث نبویہ میں اعمال میں جا بجا اخلاص کو ختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔خلوص نیت کے ساتھ کیا جانے والا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بارگاہ الٰہی میں بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔جبکہ عدم اخلاص ،شہرت اور ریاکاری پر مبنی بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ریاکاری انسان کے اعمال کو دنیا میں تباہ کر دیتی ہے۔نبی کریم کے فرمان کے مطابق قیامت والے دن سب سے پہلے جن تین لوگوں کو جہنم میں پھینکا جائے گا وہ ریا کار عالم دین ،ریا کار سخی اور ریا کار شہید ہیں،جو اپنے اعمال کی فضیلت اور بلندی کے باوجود ریاکاری کی وجہ سے سب سے پہلے جہنم میں جائیں۔زیر تبصرہ کتاب’’ریا کاری اوراس کے مظاہر‘‘سعودی عرب کےمعروف ادارے مکتب تعاونی وجالیات سے منسلک مولانا عبد العلیم بن عبد الحفیظ سلفی ﷾ کی کاوش ہے ۔ یہ موضوع عوام اورخواص دونوں کےلیے یکساں مفید ہے اوراس کی ضرورت ہر عبادات گزار کواور ہرزمانےمیں ہے اسی اہمیت کے پیش نظر مولانا عبد العلیم صاحب نے یہ کتاب مرتب کی ہے تاکہ اردو داں طبقہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اعمال وعبادات کو برباد ہونے سے بچانے کی پوری سعی وکوشش کرےاور دوران ِعبادت شعوری وغیر شعوری اسباب زیاں کاری سےدورر ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ریا کاری سے بچائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ا)