نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا آپ ﷺ سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔ درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘( مسلم : ۴۰۸)ایک دوسری روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کر دیتا ہے۔‘‘(صحیح الجامع : ۶۳۵۹) اور بعض روایات میں ہے کہ ’’کثرت سے درود پڑھنے سے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اور آپ ﷺ نے وہ صحابہ کرام کو سکھلایا ہو۔درود لکھی ،درود تنجینا،درود ہزاری اور درود تاج جیسے آج کل کے من گھڑت درودوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ یہ اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’درود شریف فضائل و برکات اور احکام و مسائل ‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمرحفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں درود شریف کے فضائل و برکات ،درود شریف پڑھنے کے مقامات و مواقع،نبی اقدسﷺ کے سوا دوسرے لوگوں پر درود و سلام کا حکم اور درود کے دیگر احکام و مسائل کو وضاحت سے پیش کیا ہے ۔(م۔ا)