حضرت عمر ؓکے سرکاری خطوط


By Al Noor Softs
Posted on Jan 16, 2025
In Category Faith and belief
Authors خورشید احمد فاروق
Published By ناشر : پرنٹ لائن پبلشرز لاہور
In Year 2018
Key Word اختلاف مضمون اختلاف حجم اورمتعدد واشکال والے خط مضمونی تنائض والے خط
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 322
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین﷢ اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمرفاروق ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق﷜کے 454 خطوط ہیں۔ فاضل مصنف نے ان خطوط کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں بحوالہ جمع کیا ہے ۔ سیدنا عمر کے ان خطوط کی ثقاہت جاننے کے لیے فاضل مصنف کا تمہیدی مقدمہ پڑھنا ضروری ہے ۔ جو کتاب کے صفحہ نمبر 42 سے شروع ہوتا ہے ۔ ۔نیٹ پر ان کو محفوظ کرنے کی خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1959ء میں شائع ہوا تھا۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ہے۔اس ایڈیشن میں خطوط اور ان کے مقدموں پر نظر ثانی کی ہے اور ان کو ادبی وتحقیقی اور معنوی اعتبار سے پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور کچھ مزید خطوط اورسیدنا عمر فاروق﷜ کے تعارف کا اضافہ کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   84   16
 
 

خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢  اور اموی  وعباسی  خلفاء نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے  جو مختلف  کتب سیر میں  موجود ہیں ان میں  سے کچھ مکاتیب تو  کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع  ہیں  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط  میں سے کسی ایک  کے بارے میں   یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ  و ہ اپنی  لفظی ومعنوی شکل میں ویسا  ہی ہے  کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں  کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے  ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے  ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمرفاروق ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘  ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں  خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق﷜کے 454 خطوط  ہیں۔ فاضل مصنف  نے ان خطوط  کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں   بحوالہ جمع کیا ہے ۔ سیدنا  عمر کے ان  خطوط کی ثقاہت  جاننے کے لیے  فاضل مصنف کا تمہیدی مقدمہ پڑھنا ضروری ہے ۔ جو کتاب کے صفحہ نمبر 42 سے شروع ہوتا ہے ۔ ۔نیٹ پر ان   کو محفوظ  کرنے کی  خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1959ء میں شائع ہوا تھا۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ہے۔اس ایڈیشن میں   خطوط  اور ان کے مقدموں پر نظر ثانی  کی  ہے  اور ان کو ادبی وتحقیقی اور معنوی اعتبار سے پہلے  سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور کچھ مزید خطوط  اورسیدنا عمر فاروق﷜ کے تعارف کا اضافہ کیا  گیا ہے ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks