خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیما ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیما ن کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عثمان کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں خلیفہ ثالث امیر المومنین سیدناعثمان غنی کی طرف منسوب ستر سے زائد خطوط شامل ہیں۔ فاضل مصنف نے ان خطوط کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں بحوالہ جمع کیا ہے ۔ (م۔ا)