اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت اللہ کی زیارت اورفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے ۔ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی عطاہ کردہ اور نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ آسانیاں کثرت سے موجود ہیں ۔حج کےآغازہی میں آسانی ہے حتی کہ اس کی فرضیت صرف استطاعت رکھنے والے لوگوں پر ہے۔اس کے اختتام میں بھی سہولت ہے ۔مخصوص ایام والی عورت کی روانگی کا وقت آجائے تو طواف کیے بغیر روانہ ہوجائے۔ایسا کرنے سے نہ اس کے حج میں کچھ خلل ہوگا او رنہ ہی اس پر کوئی فدیہ لازم آئے گا۔اللہ کریم نےاپنے دین کو سراپا آسانی بنانے اور آنحضرت ﷺ کوسہولت کرنے والا بناکر مبعوث کرنے پر ہی اکتفا نہیں ،بلکہ امتِ اسلامیہ کو بھی آسانی کرنے والی امت بناکر بھیجا جیساکہ ارشاد نبوی ہے : فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ (صحیح بخاری :6128)’’ یقیناً تم آسانی کرنے والے نبا کر بھیجے گئے ہو ،تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے‘‘ زیرنظر کتاب ’’ مختصر حج وعمرہ کی آسانیاں ‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر کے برادرگرامی محترم ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾(مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نہایت عمدہ اسلوب کے ساتھ حج وعمرہ کی آسانیوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کتاب دراصل ڈاکٹر صاحب کی اسی موضوع پر مفصل کتاب کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی اس منفرد کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)