Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث
Authors: عبد الرشید عراقی
In History
برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہوا اور دوسری صدی ہجری میں حضرت ربیع بن صبیح بصری(م160ھ) برصغیر میں وارد ہوئے اور اس کے بعد ہرصدی میں کوئی نہ کوئی محدث برصغیر میں تشریف لاتے رہے ۔برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیاعلمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث ‘‘ وطن عزیز کے معروف قلمکاروسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر پاک وہند کے علمائے اہل حدیث کی حدیثی خدمات کاتذکرہ کیا ہے ۔نیز علماء اہل حدیث نے خدمت حدیث کے سلسلے میں جو کتابیں تصنیف کیں کی ان کا اس کتاب میں ذکر کیا ہے بقول مصنف اس کتاب میں 436 کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس کے علاوہ چند مشہور علمائے کرام کے مختصر حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی صاحب نےان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو حدیث کی حمایت وتائید اورنصرت ومدافعت میں لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کی تمام تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)
تاریخ نزول قرآن
Authors: عبد الرشید عراقی
قرآن یا قرآن مجید (عربی میں القرآن الكريم) اسلام کی بنیادی کتاب ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق قرآن عربی زبان میں تقریباً 23 برس کے عرصے میں محمدﷺ پر نازل ہوا۔ قرآن کے نازل ہونے کے عمل کو وحی کہا جاتا ہے۔ اور یہ کتاب مشہور فرشتے حضرت جبرائیل کے ذریعےامام الانبیاء سیدنا محمدﷺ پر نازل ہوئی۔ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے با وجود اس کا متن ایک جیسا ہے۔ اس کی ترتیب نزولی نہیں بلکہ محمدﷺ کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ نزول قرآن‘‘ وطن عزیز پاکستان کے معروف سیرت نگار و مؤرخ، کالم نگار مصنف کتب کثیرہ جناب مولانا عبد الرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن مجید کے نزول کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے اور نزول قرآن کے متعلق تمام معلومات کو یکجا کردیا ہے۔ یہ کتاب سکول اور مدارس کے طلبہ و طالبات اور عام قارئین کے لیے بڑی اہم اور مفید ہے۔ (م۔ا)
مولانا ابو الکلام آزاد بحیثیت صحافی و مفسر
Authors: عبد الرشید عراقی
In History
مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے ۔مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مولانا ابو الکلام آزاد بحیثیت صحافی ومفسر ‘‘ وطن عزیز کے معروف سوانح نگار ومؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں مولانا آزاد کی صحافت اور ان کی تصانیف اور تحریک آزادئ ہند پر ان کی سعی وکوشش اور خدمات کا جلیلہ کا تذکرہ کیاہے اور باب دوم میں مولانا کی قرآنی بصیرت سے متعلق ہے اس سلسلے میں آپ نے اپنی بےنظیر تفسیر ’ترجمان القرآن‘ میں جو رموز ونکات بیان فرمائے ہیں اس کا کچھ انتخاب باب دوم میں ترجمان القرآن سے پیش کیا ہے ۔ (م۔ا)
غزنوی خاندان
Authors: عبد الرشید عراقی
In History
برصغیر پاک وہند کے علمی ودینی خاندانوں میں خاندان غزنویہ (امرتسر) ایک عظیم الشان خاندان ہے اس خاندان کی علمی ودینی اور سیاسی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس خاندان کی علمی ودینی خدمات کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا۔اور سیاسی خدمات بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔تحریک آزادئ وطن میں اس خاندان کے افراد نے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔مختلف اہل قلم نے خاندان غزنویہ کی مختلف شخصیات کے تعارف تدریسی وتبلیغی خدمات کےمتعلق مضامین لکھے اور کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ غزنوی خاندان ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتا ب میں غزنوی خاندان کے جد امجد مولانا سید عبد اللہ غزنوی (م 1298ھ) کے حالات کے علاوہ ان کےصاحبزاد گان مولانا محمد غزنوی ، مولانا عبد الجبار غزنوی ، مولاناسید عبد اللہ غزنوی ، مولانا عبد الرحیم غزنوی اور پوتوں میں سے مولانا سید محمد داؤد غزنوی ، مولانا عبد الاول غزنوی ، مولانا عبد الغفور غزنوی ، مولاناسید اسماعیل غزنوی ، مولانا حافظ محمد زکریا غزنوی ، اور پڑپوتوں میں مولانا سید ابوبکر غزنوی کا تذکرہ کیا ہے اوران حضرات کی علمی ودینی وسیاسی خدمات کا بھی تذکرہ سپرد قلم کیا ہے ۔(م۔ا)
سیرت امام احمد بن حنبل
Authors: عبد الرشید عراقی
In History
امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن حنبل ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں امام احمد بن حنبل کے حالات زندگی ، اساتذہ، وتلامذہ کا تذکرہ ،ان کے دو رابتلاء کی تفصیل ، تصانیف اور ان کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل کا تعارف اور فقہ حنبلی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اً اظہار کیا ہے ۔(م۔ا)
اہل حدیث کے چار مراکز
Authors: عبد الرشید عراقی
In Fiqha
مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔ جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔ مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ "اہل" ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔ قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔ ”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اھل حدیث کے چار مراکز"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مورخ مولانا عبد الرشید عراقی صاحب﷾ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل حدیث کے چار معروف مراکز: سیاسی مرکز(پٹنہ)، علمی مرکز(بھوپال)، تدریسی مرکز(دہلی) اور روحانی مرکز (امرتسر) کا تعارف بیان فرمایا ہے اور ان مراکز کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
عمر بن عبد العزیز منہج خلافت راشدہ کا یک روشن باب
Authors: عبد الرشید عراقی
امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز کوپانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز عمرثانی کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم نےاپنے 10 سالہ عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےگو اڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حضرت عمر بن عبدالعزیز عہد ولید بن عبد الملک میں مدینہ کے گورنر رہے تھے جب آپ بحیثیت گورنر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو 30 خچروں پر آپ کا ذاتی سامان لدا ہوا تھا لیکن جب مسند خلافت پر متمکن ہوئے توسارا سامان فروخت کر کے اس کی رقم بیت المال میں جمع کرادی خلافت کابار سر پر آتے ہی ان کی زندگی بدل گئی۔حدیث وسیراور تاریخ ورجال کی کتب میں ان کے عدل انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا وسیاست کے بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر عربی اردو زبان میں متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’عمر بن عبد العزیز منہج خلافت راشدہ کا یک روشن باب ‘‘ وطن عزیز کے معروف سوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے ۔ عراقی صاحب نے اس کتاب میں عمر بن عبد العزیز کی سوانح حیات اور ان کے علمی ودینی ، قومی، ملی اور سیاسی کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں بیان کردی ہے ۔(م۔ا)
عظمت و رفعت کے مینار
Authors: عبد الرشید عراقی
استقامت فی الدین بڑا اہم موضوع ہے بلکہ دین اسلام کی ابتدائی تاریخ اسی استقامت فی الدین سے ہی تعبیر ہے۔استقامت سے مراد اسلام کو عقیدہ ،عمل اورمنہج قرار دے کر مضبوطی سے تھام لینا ہے۔اور استقامت اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم پکڑنے اوراس پر دوام اختیار کرنے کا نام ہے۔اہل علم نے استقامت کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔ سیدنا حضرت عمرفاروق ر فرماتےہیں کہ استقامت کامطلب احکامات اور منہیات پر ثابت قدم رہنا اور لومڑی کی طرح مکر وفریب سے کام نہ لینا یعنی اوامر کےبجالانے اور نواہی کے ترک پراستمرار بجالانا ہے۔امام ابن قیم استقامت کے متعلق تمام اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ استقامت ایک ایسا جامع کلمہ ہے جو توحید اور اوامر ونواہی پر استقامت ،اسی طرح فرائض کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی اطاعت وفرماں برداری لازم پکڑنے ،معصیت کوچھوڑدینے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی اختیار کرنے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو استقامت اختیار کرنے کاحکم بھی دیا ہے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے : فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(11؍112)اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبیﷺ اور ان کے ساتھیوں کویہ حکم دیا ہےکہ وہ ویسی ہی استقامت اختیار کریں جیسی استقامت کا انہیں حکم دیاگیا ہے اور اس سے دائیں بائیں نہ ہٹیں اور نہ ہی اللہ کی شریعت سے تجاوز کریں۔استقامت فی الدین کی ضرورت مسلمان کوزندگی کے ہر موقع پر پڑتی ہے ۔ خصوصاً غمی، خوشی کے موقع پر جب کہ دین کومحفوظ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔بالخصوص زندگی کے مختلف نامساعد حالات میں استقامت ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ان حالات میں دین پر قائم رہنا او رصبر وسکون سے رضائے الٰہی کےمطابق زندگی بسر کرنا ہی استقامت ہے ۔انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور مصلحین امت کےمحمدیہ کےجلیل القدر افراد نےبڑی جانقشانی ، ہمت ، جرأت سے یہ فریضہ سرانجام دیا۔اس سلسلہ میں ان کوقید وبند کی سزائیں بھی ہوئیں، کوڑے بھی مارے گئے، ذلیل ورسوا بھی کیاگیا، شہروں میں تشہیر بھی کی گئی مگر انہوں نے کلمہ حق بلند رکھا اور صبر کو اپنے دامن سے علیحدہ نہ کیا۔ یہ لوگ عزم واستقلال کا کوہ گراں تھے ۔ اور ان کے اس عزم واستقلال نےان کو فتح وکامرانی سےہمکنار کیا اور انہوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے ۔ان کی وجہ سے ان کا نام ان شاء اللہ رہتی دنیا تک تابندہ ودرخشندہ رہےگا۔اور جن لوگوں نے ان حضرات کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا ان کو تاریخ نے حرف غلط کی طرح مٹادیا آج ان کو کوئی بھی یاد نہیں کرتا۔ زیر نظر کتاب’’عظمت ورفعت کےمینار ‘‘ وطن کے عزیز کے نامور مؤرخ وسوانح نگار محتر م جناب عبد الرشید عراقی ﷾کی کاوش ہے یہ ان کے 1957ء میں جرید ہ اہلحدیث سوہدرہ میں ’’ استقامت فی الدین ‘‘ کےعنوان سے چودہ اقساط میں شائع ہونے والے مضمون اور ہفت روزہ اہل حدیث ،لاہور میں جولائی 1974ء تا مئی 1975ء کو ’’ مصلحین امت محمدیہ کی حق گوئی وبیباکی ‘‘ کے عنوان سے 21 قسطوں میں شائع ہونے والے مضمون کی کتابی صورت ہے ۔جس میں مصائب وآلام استقامت دکھانے والے انبیاء کرام ، صحابہ کرام ، تابعین عظام ، تبع تابعین ، آئمہ اربعہ ، محدثین، اور عزم واستقلال کے پیکر علماء وخادمین دین کےدلآویز اور دلکش تذکروں کو بیان کیاگیا ہے ۔(م۔ا)
کاروان حدیث
Authors: عبد الرشید عراقی
احادیث کی جانچ پڑتال اور ترتیب دینے والے عالم کو محدث کہا جاتا ہے۔ محدثین کی تعداد تو بلا مبالغہ لاکھوں میں ہے لیکن ان میں سے بعض حضرات ایسے ہیں جنہوں نے اس فن میں اہم ترین کارنامے سر انجام دیے ہیں۔لاکھوں محدثین عظام کے سوانح ؍تذکرے اسماء الرجال کی کتب میں موجود ہیں جو کہ زیادہ عربی زبان میں ہیں ۔بعض اہل قلم نے اسماء الرجال کی امہات الکتب سے استفادہ کے منتخب محدثین کے سوانح کو اردو زبان میں قلمبند کیا ہے۔ معروف مؤرخ وسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی حفظہ اللہ کی زیر نظر کتاب’’ کاروان حدیث ‘‘بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مولانا عراقی صاحب نےاس کتاب میں بیالیس (42) نامور محدثین عظام کے حالات او ران کی علمی خدمات کا تذکرہ پیش کیا ہے ۔شروع میں ایک جامع علمی مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں حجیت حدیث، تدوین حدیث، اور کتابت حدیث پر مختصر روشنی ڈالی ہے ۔نیز ستاون(57) جامعین حدیث کی فہرست دی ہےجنہوں نے احادیث کےمجموعے مرتب فرمائے ہیں ۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کو ایمان وسلامتی اور صحت وتندرستی والی زندگی دے اور ان کی تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ا)