Al Noor Softs

( Joined 1 year ago )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
ساقی کوثر ﷺ

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

حوض کوثر جنت میں شفاف پانی کا ایک چشمہ ہے جو نہایت وسیع ہے ۔ جنتی افراد قیامت اور محشر کے مراحل کو طے کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے ۔ وہ بلافاصلہ حوض کوثر پر پہنچ کر اپنی پیاس بجھا ئیں گے اور بے حد لطف اندوز ہوں گے۔اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، گلاب اور مشک سے زیادہ خوشبودار، سورج سے زیادہ روشن اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کے پینے کے برتن ستاروں کی مانند چمکدار اور بکثرت ہیں، آنحضورﷺاپنے دستِ مبارک سے جام بھر بھر کر پلائیں گے جو ایک بار پی لے گا پھر میدانِ حشر میں پیاسا نہ ہو گا مرتد و کافر و مشرک حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک گمراہ فرقے بھی اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ جب نبی ﷺ کے پیارے بیٹے عبد اللہ فوت ہوئے تو مشرکین مکہ نے کہا اب محمد ﷺ ابتر ہوگیا ہے ۔تواللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مغموم پاکر تسلی کےلیے سورۃ کوثر نازل کر کے بیٹے کی جدائی کے زخم کو کوثر کے آب حیات سے مندمل کیا ۔علامہ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ کوثر کثرت سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی خیر اور بہتری بکثرت حضورﷺ کو عطا کی ہے ۔ اور نہرکوثر بھی اسی خیر کثیر میں داخل ہے۔ اللہ تعالی ٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس قدر خیر کثیر عطا کی ہے کہ کو ئی اس شمار نہیں کرسکتا ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’ساقی کوثر‘‘ معروف عالم دین مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی کاوش ہے جس میں انہوں نبی اکرم ﷺ کے مرتبہ ومقام کو بیان کرتے ہوئے دلائل سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سید البشر حضرت محمد ﷺ کو حوضِ کوثر کی دولت عطا کرنے کے علاوہ ہر قسم کی خیر وخوبی ، نیکی اور بھلائی کی وہ کثرت اوربرکت بھی بخشی ہے جو دوسرے انبیاء کو عطاء نہیں کی گئی۔ اللہ تعالیٰ روزِ محشرتمام موحدین اہل ایمان کو حوضِ کوثر کا جام نصیب فرمائے فرمائے (آمین) ( راسخ )

نماز جنازہ

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

موت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ موت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء ؑ مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔اسلام نے جہاں زندگی کے بارے میں احکام ومسائل بیان کئے ہیں وہیں موت کے احکام بھی بیان کر دئیے ہیں۔موت کے احکام میں سے کفن ودفن اور نماز جنازہ وغیرہ کے احکام ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "نماز جنازہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور بے شمار کتابوں کے مصنف محترم مولانا محمد صادق سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے موت اور اس کے متعلقات نیز موت کے بعد پیش آنے والے حقائق کو نبی کریم ﷺ اور خدائے قدوس کے فرامین کی روشنی میں پیش کیا ہے۔اس کتاب کی خوبی یہی ہے کہ جس منزل سے ہر انسان نے گزرنا ہے اسے مجمل مگر مدلل طور پر پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

نماز مقبول مع نورانی نماز

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے ۔نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نمازمقبول مع نورانی نماز‘‘نماز کےموضوع پر معروف اورمقبول عام کتاب ’’ صلاۃ الرسول‘‘ کےمصنف مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کے نماز کے متعلق دو چھوٹے چھوٹے کتابچے ہیں جنہیں یکجا کر کےشائع کیا گیا ہے۔نماز مقبول نامی کتابچہ مولانا موصوف نے صلاۃ الرسول کے بعد چھوٹے بچے اور بچیوں کے لیے لکھا اور اس میں آسان فہم انداز میں نبی ﷺ کی مسنون نما ز کو اختصار کے ساتھ پیش کیا ۔اور نورانی نماز میں نماز میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا صرف لفظی ترجمہ تحریرکیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولاناکی تمام خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

انوار الزکوٰۃ

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے۔ جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے۔ یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی زکوۃ کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےتمام مسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

حزب الرسول

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔دعاؤں کے احکام وآداب کے حوالے سے کئی جید علماء کرام نے کتب مرتب کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ حزب الرسول ‘‘از مولانا محمد صادق سیالکوٹی﷫ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے مسلمان بھائیوں اوربہنوں کی خیر خواہی کےلیے رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں وردوں اوروظیفوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیا ہے اور اس کا مجموعہ کانام حزب الرسول ہے رکھا ہے۔ مرتب نے اس میں سب سے پہلے قرآنی دعائیں اور پھر رحمت عالم ﷺ کی فرمودہ دعائیں جمع کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین)

قرآنی شمعیں

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

قرآن مجید عالم انسانیت کی رشد و ہدایت کے لئے نازل کی جانے والی ایک عظیم ترین کتاب ہے، جو اللہ تعالی کا کلام ہے۔ یہ کتاب تئیس برس کے عرصے میں آخری نبی جناب محمد رسول اللہﷺپر نازل ہوئی۔ قرآن مجید کے نازل ہونے کے عمل کو وحی نازل ہونا بھی کہا جاتا ہے اور یہ کتاب اللہ کے فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی۔ قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے جس کا مواد تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے۔ اس کی ترتیب نزولی نہیں بلکہ نبی کریمﷺ کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق سیدنا ابو بکر ؓکے دورِ خلافت میں اسے یکجا کیا گیا۔ اس کام کی قیادت سیدنا زید بن ثابت انصاری ؓنے کی۔قرآن کو دنیا کی ایسی واحد کتاب کی بھی حیثیت حاصل ہے جو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو زبانی یاد ہے ۔قرآن سابقہ الہامی کتابوں مثلاً انجیل، تورات اور زبور وغیرہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان الہامی کتابوں میں بےشمار تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"قرآنی شمعیں"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مصنف محترم مولانا صادق سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن مجید کی رشد وہدایت پر مبنی بے شمارشمعوں کو جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

شان رب العالمین

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اللہ تعالی کے نیک بندوں، ولیوں، بزرگوں، صدیقوں، اور نبیوں کی اپنی اپنی شان اور بزرگی ہے، لیکن ان بزرگ ہستیوں کو مرتبے اور شانیں عطا کرنےوالے اللہ رب العزت کی بھی ضروری شان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں۔ اس کی صفات اور کمالات نہ تو ہمارے شمار میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ صفات ہو سکتی ہیں جن کو ہم بیان کر سکیں۔اللہ کا وجود اس کائنات کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ آپ سے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہر شے کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " شان رب العالمین "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مصنف محترم مولانا صادق سیالکوٹی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اللہ تعالی کی شان اور مقام کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

مسئلہ وسیلہ کی شرعی حیثیت

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔ 1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔ 2۔اللہ کی صفات کے ساتھ وسیلہ حدیث میں ہے: ’’اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي‘‘(سنن النسائی :1306)’’اے اللہ میں تیرے علم غیب او رمخلوق پر قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہے مجھے حیات رکھا او رجب تیرے علم کے مطابق میرا مرنا بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفات، علم او رقدرت کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔3۔ نیک آدمی کا وسیلہ ایسے آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا کہ جس کی دعا کی قبولیت کی امید ہو۔احادیث میں ہےکہ صحابہ کرام بارش وغیرہ کی دعا آپؐ سے کرواتے۔(صحيح بخاری :847)۔حضرت عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ حضرت عمر اس موقع پر فرماتے ہیں: ’’اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‘‘ (صحيح بخاری:1010)۔ ’’اے اللہ! پہلے ہم نبیﷺ کووسیلہ بناتے (بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبیﷺ ہم میں موجود نہیں) تیرے نبیﷺ کے چچا کو ہم (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔اس کے بعد حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔مذکورہ صورتوں کے علاوہ ہر قسم کاوسیلہ مثلاً کسی مخلوق کی ذات یافوت شدگان کا وسیلہ ناجائز وحرام ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’مسئلہ وسیلہ کی شرعی حیثیت‘‘پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی کاوش ہے۔اس رسالہ میں انہو ں نے وسیلہ کامعنیٰ ومفہوم، جائز وناجائز وسیلہ اور وسیلہ کی شرعی حیثیت کو عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس اس کتابچہ کو عامۃ المسلمین کے عقیدہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

مراۃ الزکوۃ

Authors: محمد صادق سیالکوٹی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مرآۃ الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی زکوۃ کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےجملہ مسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور زکاۃ کےبارے میں منکرین حدیث کے باطل افکارو نظریات کا رد کیا ہے ۔یہ کتاب دراصل ہفت روزہ ’’ ایشیاء ‘‘ لاہور جلد 8 شمارہ 21 میں مولانا جعفر پھلواری کی طرف سے ایک مضمون ’’ کیا انکم ٹیکس زکوٰۃ ہے‘‘ کےشائع ہونےپر مولانا سیالکوٹی نے تحریر کی ۔جعفر پھلواری نے اپنے اس مضمون میں واضح کیا کہ حکومت جو انکم ٹیکس وصول کرتی ہے اسےزکوٰۃ مان لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔موجود ہ انکم ٹیکس زکوٰۃ ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ جولوگ انکم ٹیکس حکومت کوادا کرتےہیں وہ قرآن کےفریضہ زکوٰۃ سےعہدہ برا ہوجاتے ہیں انہیں علیحدہ زکاۃ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تو مولانا محمد صادق ﷫ نے پھلواری صاحب کے انکارحدیث پر مبنی باطل نظریات کا خوب جواب دیا اور ثابت کیا ہے انکم ٹیکس کی ادائیگی سے زکاۃ کافریضہ ادا نہیں ہوتا اور پھلواری صاحب بھی برصغیر کے منکر حدیث غلام احمد پرویز کی صف میں شامل ہیں اور ان ہی افکار ونظریات کے حامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)