Al Noor Softs

( Joined 1 year ago )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
التحفۃ الجمیلۃ شرح قصیدۃ العقیلۃ

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف وقیاسی عربی رسم میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " التحفۃ الجمیلۃ شرح قصیدۃ العقیلۃ "استاذ القراءقاری ابو الحسن علی اعظمی ﷫ کی تصنیف ہے ،جو علم قراءات کے امام علامہ شاطبی﷫ کی علم الرسم پر لکھے منظوم قصیدے "عقیلۃ اتراب القصائد فی اسنی المقاصد"کی عظیم الشان اردو شرح ہے۔امام شاطبی ﷫کی اس کتاب کے دو سو اٹھانوے اشعار ہیں جن میں انہوں نے امام دانی﷫ کی کتاب" المقنع "کے مضامین کو نظم کر دیا ہے۔اس میں انہوں نے رسم عثمانی کے قواعد وضوابط کو بیان کیا ہے۔یہ کلمات قرآنیہ کے رسم الخط پر مبنی ایک منفرد کتاب ہے۔ جس میں حذف، زیادت، ہمزہ، بدل اور قطع ووصل وغیرہ جیسی مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ طلباءکے لیے لکھی گئی ہے ،لیکن اپنی سہولت اور سلیس عبارت کے پیش نظر طلباء اور عوام الناس سب کے لیے یکساں مفید ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

رسائل اربعہ

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر اب تک عربی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے۔ پیشِ نظر کتاب بھی انہی کتب میں ایک اضافہ ہے۔اصلاح تلفظ کے انہی مقاصد کو سامنے رکھ کر استاذ القراء قاری ابو الحسن علی اعظمی صدر مدرس تجوید وقراءات دار العلوم دیو بند نے زیر تبصرہ یہ کتاب "رسائل اربعہ" تصنیف فرمائی ہے۔یہ کتاب بنیادی طور پر چار رسائل یعنی خلاصۃ الترتیل،قواعد التجوید،الفوائد الدریہ ترجمہ المقدمۃ الجزریۃ اور آداب تلاوت القرآن پر مشتمل ہے،جس میں ان چاروں موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔اور اس کانام رسائل اربعہ رکھ دیا گیا ہے۔شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

الفوائد البهية شرح الدرة المضيئة

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔الدرۃ المضیئہ علامہ ابن الجزری ﷫کی قراءات سبعہ کے بعد والی قراءات ثلاثہ پر اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بھی شاطبیہ کی مانند بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے،جو قراءات ثلاثہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کے حیثیت رکھتی ہے۔متعدد علماء اور قراءنے اس کی شروحات لکھی ہیں، جنہیں یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب '' الفوائد البھیۃ شرح الدرۃ المضیئہ"شیخ القراءقاری ابو الحسن علی اعظمی صدر شعبہ تجوید دار العلوم دیو بندکی تالیف ہے۔جس میں مولف نے الدرۃ کے اشعارکو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

قرآنی املاء اور رسم الخط

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ منزل من اللہ کتاب ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی سیدنا محمد رسول اللہﷺ پر نازل کیا اور قرآن مجید کے متعلق ’’إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ (الحجر:۹) فرما کر اس کی حفاظت کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز ہے کہ دیگر کتب سماوی کے مقابلے میں صدیاں بیت جانے کے باوجود محفوظ و مامون ہے اور اس کے چشمہ فیض سے اُمت سیراب ہورہی ہے۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز اور اعجاز دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کاٹنے کی طرح کھٹک رہا ہے اور ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب لاریب کی جمع و کتابت میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے جائیں، جن کی بنیاد پریہ دعویٰ کیا جاسکے کہ معاذ اللہ گذشتہ کتابوں کی مانند قرآن مجید بھی تحریف و تصحیف سے محفوظ نہیں رہا ،لیکن چونکہ حفاظت قرآن کا فریضہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاہے، چنانچہ تاریخ اسلام کے ہر دور میں مشیت الٰہی سے حفاظت قرآن کے لیے ایسے اقدامات اور ذرائع استعمال کئے گئے جو اپنے زمانے کے بہترین اور موثر ترین تھے۔ حفاظت قرآن کے دو بنیادی ذرائع حفظ اور کتابت ہیں، جوعہد نبوی سے لے کر آج تک مسلسل جاری و ساری ہیں۔عہد نبوی میں حفاظت ِقرآن کا بنیادی ذریعہ حفظ و ضبط تھا۔ متعدد صحابہ کرام قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتابت وحی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جیسے ہی کوئی آیت مبارکہ نازل ہوتی نبی کریم ﷺ کاتبینِ وحی کوبلوا کر لکھوا دیا کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ فلاں فلاں آیت کوفلاں فلاں سورت میں لکھو۔ عہد نبوی میں قرآن مجید مکمل لکھا ہوا موجود تھا مگر ایک جگہ جمع نہیں تھا،بلکہ مختلف اشیاء میں متفرق طور پر موجود تھا۔ عہد صدیقی میں واقعہ یمامہ کے بعد قرآن مجید کے صحف کو ایک جگہ جمع کردیا گیا اور عہد عثمانی میں واقعہ آرمینیہ و آذربائیجان کے بعد قرآن مجید کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف اَمصار میں روانہ کردیئے گئے۔اور اس وقت کتابت قرآن کا ایسارسم اختیار کیا گیا، جو تمام قراء ت متواترہ کا احتمال رکھتا تھااور جو درحقیقت عہد نبوی اورعہد صدیقی میں لکھے گئے صحف کے رسم سے ماخوذ تھا ۔رسم عثمانی سے مراد وہ رسم الخط ہے، جوسیدنا عثمان ﷜ کے حکم پر سیدنا زید بن ثابت ﷜ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کتابت ِمصاحف میں اختیار کیا۔قرآن مجید کی معروف کتابت کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف وقیاسی عربی رسم میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ قرآنی املاء اور رسم الخط‘‘ابو الحسن اعظمی کے 17؍18 مارچ کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام دو روزہ’’ کل ہند قراءات کانفرس ‘‘میں پیش کیے گئے علمی وتحقیقی مقالے کی کتابی صورت ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں فن کتابت کی تاریخ ، خطوط کی اقسام، ان اقسام کے موجدین، کتابتِ قرآن کے ادوار ، قرآن کریم کے رسم الخط کے توقیفی ہونے پر اجماع اور اس کے فوائد ، مصاحف عثمانی کی تعداد اور ان میں محفوظ نسخوں کی موجودہ نوعیّت ،قرآن کریم کےمختلف کلمات کےرسم الخط کی وضاحت،قرآن کریم کی تعریب وتنقیط کی تاریخ اور دیگر کئی اہم عنوانات پر مقالہ میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔(م۔ا)

مجموعہ رسائل ( حسن الاقتداء ، اظہار النعم ، نثر المرجان )

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنیٰ ہیں کہ’’کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو۔ معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر نظر ’’مجموعہ رسائل‘‘استاذ القراء قاری ابو الحسن اعظمی صاحب کی تصنیف کردہ تین کتب کا مجموعہ ہے ۔اول رسالہ’’ حسن الاقتداء فی الوقف والابتداء ‘‘ علم وقف سے متعلق ہے ۔ دوسرا رسالہ تین کلمات کلا۔ بلی اورنعم پر وقف سے متعلق امام مکی بن طالب قیسی کے رسالے ’’ اظہار النعم فی الوقف کلا وبلی ونعم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اور تیسرا رسالہ ’’نثر المرجان فی تعداد آیات القرآن‘‘عدد آیات قرآنیہ سے متعلق ہے ۔(م۔ا)

علم قراءت اور قراء سبعہ

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے ۔زیر نظر کتاب’’علم قراءات قرّاء سبعہ‘‘قاری ابوالحسن اعظمی صاحب کی تصنیف ہے ۔فاضل مصف نے اس کتاب میں علمِ قراءات کی تاریخ ومبادی ، نامور قرّاء سبعہ اور ان کے چودہ جلیل القدر راویوں کے حالات وکمالات اوراختلاف قراءات کے اصول وقواعد قلم بند کیے ہیں ۔(م۔ا)

قراءات شاذہ

Authors: قاری ابو الحسن اعظمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرآن مجید نبی کریمﷺ پر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتب ِاحادیث میں احادیث کی طرح مختلف کی قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ علماء نے عموماً قراءا ت کی دو مشہور قسمیں ذکر کی ہیں: (۱) قراء اتِ متواترہ (۲) قراء اتِ شاذہ قراء اتِ متواترہ سے مراد وہ صحیح اور مقبول قراء ات مراد لی جاتی ہیں جو نبی کریم ﷺ سے بطریق ِتواتر مروی ہوں۔قراء اتِ شاذہ سے مراد ضعیف سند والی قراء ات ہیں ۔ قراءات قرآنیہ کے میدان میں جہاں قراءات متواترہ پر کتب لکھی گئی ہیں وہیں قراءات شاذہ پر بھی کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ قراءات شاذہ‘‘ استاذ القرّاءقاری ابوالحسن علی اعظمی صاحب کی تصنیف ہے ۔فاضل مصف نے کتاب آغازمیں قراءات صحیحہ مقبولہ اور قراءات شاذہ مردودہ کا معیار کیا ہے؟ اس کےاصول وضوابط کیا ہیں؟اس پر مختصر کلام کرنے کے بعد قرّاء اربعہ ، ان کےرواۃ اور طرق کے حالات کامختصر تذکرہ کیا ہے۔اس کےبعد قراءاتِ شاذہ کے اصول فروش کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

آ داب تلاوت مع طریقہ حفظ قرآن وحفظ قرا آت

Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی

In Knowledge

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس اور محترم کتاب ہے۔ جو جن وانس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے نازل کی گئی ہے ۔ اس کا پڑھنا باعث اجراوثواب ہے اوراس پر عمل کرنا تقرب الی اللہ او رنجاتِ اخروی کا ذریعہ ہے ۔ یہ قرآن باعث اجروثواب اسی وقت ہوگا کہ جب اس کی تلاوت آدابِ تلاوت کو ملحوظ ِخاطر رکھ کر کی جائے ۔آداب تلاوِت میں سے یہ ہے کہ قرآ ن مجید کی تعلیم اور تلاوت خالصۃً اللہ کی رضا کیلئے ہو جس میں ریا کاری کا دخل نہ ہو ۔تلاوت قرآن مجیدکی تلاوت پر مداومت (ہمیشگی) کی جائے تا کہ بھولنے نہ پائے ۔تلاوت کئے ہوئے حصہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔قرآن مجید طہارت کی حالت میں با وضوء ہو کر پڑھا جائے ۔تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور بسملہ پڑھنا واجب ہے ۔ دورانِ تلاوت اللہ کے عذاب سے ڈر کر رونا مستحب عمل ہے ۔ ۔اونگھ آجانے پر تلاوت بند کر دینا مستحب ہے ۔عذاب والی آیا ت پر اللہ کی پناہ مانگنا اور رحمت والی آیات پر اللہ سے دعاء کرنا مستحب ہے ۔سجدہ والی آیات کی تلات کرتے وقت سجدہ تلاوت کر نا مسنون ہے ۔جب کوئی تلاوت کررہا ہو تو کامل خاموشی او رغور سے سننا چاہیے۔اور جب خود تلاوت کریں تودل میں خیال ہوکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہیں ۔ اس لیے نہایت ادب ،سلیقے اور ترتیل سے ٹھر ٹھر کر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تلاوت کرنے والے پر خوش ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب’’آداب ِتلاوت مع طریقۂ حفظ قرآن وحفظ قراءات‘‘پاک وہند میں تجوید وقراءات کو فروغ دینے والی معروف شخصیت قاری المقری قاری رحیم بخش پانی پتی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے فضائل قرآن ،آداب تلاوت، قرآن مجید اور قراءات کو حفظ کرنے کےطریقہ کو بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نہایت مقبولیت ونافعیت سے نوازا۔ ہزاروں طالبانِ قرآن کے علاوہ بےشمار عامۃ المسلمین بھی اس سے مستفید ہوئے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اسے پڑھنے ،سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)(م۔ا)

قراۃ حضرت امام کسائی بروایتین سیدنا ابو الحارث و سیدنا دوری

Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام کسائی ﷫ بروایتین سیدنا ابو الحارث وسیدنا دوری " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی﷫ کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام کسائی کوفی کے دونوں راویوں امام ابو الحارث اور امام دوری کی روایتوں کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔امام کسائی کے دونوں رواۃ میں چونکہ اختلاف بہت کم ہے لہذا مولف نے دونوں رواۃ کے اختلافات کو اکٹھا ہی بیا ن کر دیا ہے،اور جہاں ان دونوں کا آپس میں اختلاف ہوتا ہے وہاں ان کا نام لکھ دیتے ہیں۔ ۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف﷫ علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)