Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
کالمیات شفیق پسروری
Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری
In Knowledge
رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد چینیانوالی رنگ محل میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی سید داؤد غزنوی اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔زیرتبصرہ کتاب ’’ کالمیات شفیق پسروری ‘‘ جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف رسائل وجرائد میں مختلف واقعات ، مختلف بیانات اور مختلف موضوعات پر لکھے۔رانا صاحب کےاس مجموعہ میں شامل اکثر کالم 1987ء-1986ء کے تحریر کردہ ہیں اور ان میں کئی کالم ایسے بھی جن پر شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر نے پسروری صاحب کو انعام سے نوازا تھا اللہ تعالیٰ رانا صاحب کی جہود کو قبول فرمائے ۔ رانا صاحب کے ان کالموں کو جناب احمد ساقی چھتوی صاحب نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)
چاند پر اختلاف کیوں ؟ ( مسئلہ رویت ہلال ، تحقیقی و تنقیدی جائزہ )
Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری
In Knowledge
اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔روزہ شروع کرنےاور عید منانے کے مسئلے میں شریعت مطہرہ نے جو معیار مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ چاند دیکھ کرعید منائی جائے او رچاند دیکھ کر ہی روزہ کی ابتداء کی جائے ۔اور اگر گرد وغبار اور ابر باراں کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو رواں مہینے کےتیس دن مکمل کر لیے جائیں بالخصوص شعبان اوررمضان المبارک کے ۔ مذکورہ قاعدہ کلیہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے خو اہ وہ عربی ہو یا عجمی ۔دور حاضر ہو یا دور ماضی ۔ایک وقت تک مسلمان اس اصول وقاعدہ کے پابند رہےمگر پھر آہستہ آہستہ فقہائے دین و ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کی دینی خدمات کے نتیجے میں امت مسلمہ مختلف آراء میں بٹ گئی ۔اس سلسلے میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک نقطۂ نظر کےمطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں ہے اور ایک جگہ کی رؤیت پوری دنیا کے لیے ہے۔اور دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر ہے لہٰذا ہر علاقہ کی رؤیت اس علاقہ کے لیے معتبر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر ہونے کی رائے راجح ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان میں سال کےبارہ مہینوں میں زیادہ اختلاف شوال یا عید الفطرکےچاند پر ہوتا ہے۔باقی دس ماہ کے چاند ہمارے ملک میں تقریبا متفقہ ہوتے ہیں ۔اس مسئلے کے متعلق پاک وہند میں مختلف سیمینار بھی منعقد ہوئے ہیں اور مختلف اہل علم نے اس موضوع پر کتب بھی تصنیف کی ہیں یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ا یک اہم کاوش ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’ چاند پر اختلاف کیوں؟ مسئلہ رؤیت ہلال تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘وطن عزیز کی معروف شخصیت کہنہ مشق صحافی رانا محمد شفیق خاں پسروی﷾(مرکزی رہنمامرکزی جمعیت اہلحدث ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان) کی کاوش ہے ۔موصوف نے کتاب کے آغاز میں خلاصۃً بات کو خوب واضح کردینے کے بعد روزنامہ پاکستان فورم میں اس موضوع پر منعقد ہونے والے ایک علمی سیمینار میں علماء کرام اور ماہرین کے بیانات کے خلاصہ کو درج کیا ہے ۔مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کاایک عمدہ مضمون اور چند مفتیان کرام کے فتاویٰ جات بھی اس کتاب کا حصہ ہیں ۔رانا صاحب نےاس موضوع سے متعلقہ مضامین کاتجزیہ کر کے بات کو خوب سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے پشاور سے اس موضوع پر اختلاف کرنےوالے احباب کے نقطۂ نظر پر نقد بھی کیا ہے ۔دوران تحریر اس ارشاد نبوی ﷺ ’’چاند دیکھ کرروزےرکھو اور چانددیکھ ہی روزے چھوڑو۔‘‘کی روشنی میں اس موقف کاجواب بھی آگیا ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی رؤیت ممکن نہیں ہے اور چاند پر موقوف معاملات اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔اللہ تعالیٰ راناصاحب کی جماعتی ، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی جہود کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔(آمین)(م۔ا)
ناموس رسالت ﷺ کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی
Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری
سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں پاتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے:’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔‘‘یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ دورِ نبوی ﷺ میں صحابہ کرام اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بدبخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔برصغیر پاک وہند میں بہت سے شاتمینِ رسولﷺ مسلمانوں کے ہاتھوں جہنم کا ایدھن بنے ۔عصر حاضر میں بھی بہت سے شاتمین رسول شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخیاں کررہے ہیں اور مغرب انہیں آغوش میں لیے ہوئے ہے۔اہل مغرب کو اس قبیح حرکت سے بعض رکھنے اور شاتمین رسولﷺ کو عبرتناک سزا دینے کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔اور اہل علم نے تحریر وتقریر کے ذریعے بھی ناموس ِرسالت کا حق اداکیا ہے شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ نے اس موضوع پر ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے نام سے مستقل کتاب تصنیف فرمائی۔ اوائل اسلام سے ہی ہر دور کی باطل قوتوں نے آپ ﷺکی بڑھتی ہوئی دعوت کو روکنے کے لیے ہزار جتن کیے لیکن ہر محاذ پر دشمنان ِرسول کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ماضی قریب میں سلمان رشدی ،تسلیمہ نسرین جیسے ملعون بد باطنوں کی نبی رحمت ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی اسی مکروہ سلسلہ کی کڑی ہے ۔ 30 ستمبر 2005ء کوڈنمارک، ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے آپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم ِاسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہوا ۔تونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے ۔ علماء ،خطباء حضرات اور قلمکاروں نے بھر انداز میں اپنی تقریروں اور تحریروں کےذریعے نبی کریمﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کا اظہار کیا ۔اور بعض رسائل وجرائد کے حرمت ِرسول کے حوالے سے خاص نمبر ز اور کئی نئی کتب بھی شائع ہوکر عوام کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں یہ کتاب بھی اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت اور مستشرقین کے اعتراضات کے جواب میں بے شمار کتابیں اور مضامین لکھے جاچکے ہیں جن میں ناموس رسالت اور قانون توہینِ رسالت کے موضوع پر خوب کام ہوا ہے۔لیکن آزادئ اظہار رائے کے بہانے توہین رسالت کی ناپاک جسارت پر کتابی صورت میں کوئی خاص تفصیلی کام نہیں ہواکہ جس میں آزادئ اظہار رائے کی وضاحت ، اس کےحدود کا تعین، مختلف ممالک میں اس کی تعریف اور غلط استعمال پر سزائیں، آزادئ اظہاررائے کے بہانے ،گستاخی کی مختلف صورتوں او ران کےتدارک کے قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھ کا م ہوا ہو۔ زیر نظر کتاب ’’ ناموس رسالتﷺ کا قانون اور اظہارِ رائے کی آزادی‘‘وطنِ عزیز کی معروف شخصیت کہنہ مشق صحافی رانا محمد شفیق خاں پسروی﷾(مرکزی رہنمامرکزی جمعیت اہلحدث ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان) کے ایم فل کے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں آزادئ اظہار کے بہانے گستاخی کرنے والوں کے جال اور سازشوں کے تدارک وسدباب کے لیے ایک مؤثر علمی وتحقیقی کام پیش کیا ہے۔یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔باب اول ناموس رسالت ، تعارف وجائزہ کے عنوان پر مشتمل ہے۔ باب دوم توہین رسالت وقانون توہین ماموس رسالت اور بین الاقوامی قوانین (آزادی اظہار رائے کے تناظر میں )کے متعلق ہے۔ اور باب سوم آزادئ اظہار رائے حدود وضوابط۔ باب چہارم آزادئ اظہار رائے کے نام پر گستاخی۔باب پنجم آزادئ اظہار کے نام پر توہین کا تدارک اور عملی اقدامات کے متعلق ہے۔یہ کتاب ناموس رسالت کے معانی ومفاہیم، تاریخ وشواہد ، اس کی نزاکت ،حساسیت اور ایمان کی بنیادوں پر دلائل سے بھر پور ہے۔اسی طرح اظہارِ رائے کیا ہے ؟،اس کا دائرہ کار کہاں تک ہے،یورپ وامریکہ میں اس کی ازادی کی حدود کیا ہیں ؟ان تمام سوالات او ردیگر اہم اشکلات پر علمی وتحقیقی ابحاث اس کتاب میں موجود ہیں ۔الغرض یہ کتاب اپنے موضوع میں انتہائی جامع کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ راناصاحب کی جماعتی ، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی جہود کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔(آمین)(م۔ا)
اسلام اور عالمگیریت
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
مسلمانوں کو عالمی سطح پر جو چیلنج درپیش ہے اس کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔عالمی ساہوکاروں اور گلوبل کیپیٹلزم کے منتظمین نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔دنیا کے معاشی وسائل پر کنٹرول اور انسانی معاشروں کو مغربی معاشرت واخلاق کے نمونہ پر ڈھالنا ان کا ہدف ہے۔عالمی میڈیا عالمگیریت کو خوبصورت بنا کر پیش کر رہا ہےاور انسانیت کو یہ یقین دلایا جا رہا ہےکہ اس کی فلاح وبہبود اسی میں مضمر ہے،حالانکہ یہ عالمی استعمار کا دوسرا نام ہے۔چہرے کو روشن کر کے پیش کیا جارہا ہے اور اندرونی تاریکی کو چھپایا جا رہا ہے۔مسلمان اہل علم اور اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمگیریت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کریں۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام اور عالمگیریت)ڈاکٹر خالد علوی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ عالمگیریت کی حقیقت کو منکشف کیا جائے اور اس کے اسلامی معاشرے پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو سامنے لایا جائے۔انہوں نے داعیان اسلام کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ کفر کے دام ہمرنگ زمیں کا ادراک کریں اور نئی نئی اصطلاحات اور جدید اظہارات کی تہہ میں پوشیدہ مسلم مخالفت کو سمجھیں۔اللہ تعالی مولف کی اس گرانقدر خدمت کو قبول ومنظور فرمائے،اور اس کے ذریعے امت کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)
اسلام اور دہشت گردی
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی اطاعت اور امن وسلامتی کے ہیں ۔یعنی مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی ہے ۔ اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے ۔دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اس مہم کا جواب ضروی ہے ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے اورعملی بھی۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ محترم ڈاکٹر خالد علوی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی ہے ۔اللہ تعالی عالم ِاسلام اور مسلمانوں کو کفار کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)
تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
In Knowledge
تعلیم حیات انسانی کا وہ تجربہ ہے جس پر اس کے وجود اور بقاء کا انحصار ہے۔تعلیم ہی وہ عمل ہے جو حیات انسانی کے قافلے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔تعلیم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل تک پہنچتے ہیں اور تعلیم ہی وہ اساس ہے جس پر حیات انسانی کی عمارت قائم ہے۔اسلامی تہذیب کی اساس اگرچہ ایمان پر قائم ہے مگر وہ تعقل سے صرف نظر نہیں کرتی ہے۔اسلامی تہذیب نے محسوسات کا ادراک کیا ہے اور اس کی حقیقت کو تسلیم کیا ہےلیکن اسے ما بعد الطبیعات سے منسلک کیا ہے۔انسان اور کائنات کے بارے میں اسلامی تہذیب کا اساسی نقطہ یہ ہے کہ ان دونوں کی تخلیق میں ایک مقصدیت پائی جاتی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے انسان کا وجود بے مقصد ہے اور نہ ہی کائنات کی تخلیق وتنظیم بے سبب۔ارشاد باری تعالی ہے۔ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ * فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ) (المؤمنون 115-116)"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پید اکیا ہےاور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے۔پس بالا وبرتر ہے باشاہ حقیقی۔کوئی اس کے سوا معبود نہیں ،مالک ہے عرش عظیم کا۔جبکہ جدید تہذیب مادہ پرست،قوم پرسی اور خود غرضی کے اصولوں پر استوار ہے۔اس تہذیب کے متعدد ایسے پہلو ہیں جن کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج " دعوہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائرکٹر جنرل محترم ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے تعلیم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے تہذیب مگرب کے نقائص کو عیاں کیا ہے۔(راسخ)
اسلام کا معاشرتی نظام
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
In Knowledge
اسلام دینِ فطرت ہے ۔ اس نے انسان کےاجتماعی شعور کوملحوظ رکھا ہے ۔ اسلام انسانوں کے باہمی میل جول سے پیدا ہونے والی اجتماعیت کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے ۔ بلکہ اس اجتماعیت کی نشو ونما میں معاونت کرتا ہے اوراسے ایسے فطری اصول دیتا ہے جن سے اجتماعیت کو تقو یت ملے۔ اوروہ اس کےلیے صالح بنیادیں فراہم کرت ہے اور ایسے عوامل کا قلع قمع کرتاہے جو اسے بگاڑ دیں یا محدود اور غیر مفید بنادیں ۔اور اسلام فرد کی انفرادیت کو بنیاد قرار دیتا ہے۔فرد اجتماعی زندگی کےلیے جو جمعیتیں بناتا ہے ۔اسلام اس کی حوصلہ افزائی اور ان کےلیے اصول وقوانین فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی پہلی اجتماعی اکائی اس کا خاندان ہےاس میں میاں بیوی، والدین،رشتہ دار ، ہمسائے اور پھر عام انسانی برادر شامل ہے ۔اسلام نے ان میں سے ہرایک کے متعلق تفصیلی احکام دئیے ہیں ۔اسلام کےمعاشرتی نظام کے کچھ بنیادی اصول اور خصوصیات ہیں جن پرسارا معاشرتی ڈھانچہ استوار ہے ۔اوراسلام کا دعویٰ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کےلیے جن اصولوں کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نے انسان کوسمجھائے اسے جس بنیادی فکر اور جس رہنمائی کی ضرورت تھی وہ رب العالمین نے مہیا کردی۔ انسانوں کا باہمی فکری اختلاف ان کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں فکری تشت نہیں دیا بلکہ فکری وحدت عطا کی تھی قرآن نے بڑے جامع الفاظ میں اسے بیان کیا ہے ۔كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِين(البقرۃ:213)’’سب آدمی ایک ہی طریقے پر تھے ۔پھر اللہ تعالیٰ نےپیغمبروں کوبھیجا جو انہیں خوشخبری سناتےاور ڈراتے تھے ۔‘‘ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتاہے جس میں خیر وشر کےپیمانے متعین ہوں۔کیوں کہ جس معاشرےمیں باہمی خیر کے قیام اور شر کےمٹانے کی سعی نہیں ہوتی وہ بالآخر ہلاک ہوجاتا ہے ۔ لہذا اسلام نے سب سے پہلے ان امور کی نشاندہی کی جو معاشرے کےلیے مہلک ثابت ہوتے ہیں ۔ اور وہ گناہ بھی بتائے جو فرد اور جماعت کے ایمان کو ضائع کردیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اسلام کا معاشرتی نظام‘‘ڈاکٹر خالد علوی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام اور جدید معاشرتی نظریات کو بیان کرتے ہوئے اسلام کےان اصولوں کوبیان کیا ہے کہ جن اصولوں پر اسلام کامعاشرتی نظام قائم ہے۔ اور اپنی خصوصیات کی بدولت دنیا کے تمام معاشرتی نظاموں سےمختلف اور منفرد ہے ۔اسلام کامعاشرتی نظام خیر واصلاح ،طہارت وتقدس، ہمدردی وخیرخواہی اوراعتدال وتوازن پر قائم ہے ۔ اس نظام میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی بہبود کاپورا انتطام موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی معاشرت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تو فیق عطافرمائے۔آمین (م۔ا)
سانس کی بیماریاں اور علاج نبویﷺ
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
In Knowledge
انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے کیا کرتے تھے یاجن مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور ان کے فوائد ونقصان کو بیان کیا ان کا ذکر بھی حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے ۔ کئی اہل علم نے ان چیزوں ک یکجا کر کے ان کو طب ِنبوی کا نام دیا ہے ۔ان میں امام ابن قیم کی کتاب طب نبوی قابل ذکر ہے او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بھی لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اس کو بطور علم پڑھا جاتارہا ہے اور کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو باقاعدہ مدارس ِ اسلامیہ میں پڑھایا جاتا رہا ہے اور الگ سے طبیہ کالج میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی نے طبیہ کالج دہلی سے علم طب پڑھا اور کالج میں اول پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء کرام نے علم طب حاصل کر کے اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے اور دین کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سانس کی بیماریاں اور ان کا علاج نبوی ﷺ‘‘ غزنوی خاندان کے معروف ڈاکٹر خالد غزنوی کی تصنیف ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں آیات قرآنی اور ارشادات نبویؐ کی روشنی میں سانس کی بیماریوں کا علاج بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن میں کی اس آیت مبارکہقَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينکی رو سے قرآن مجید کو سینے کے تمام مسائل (خواہ وہ عضوی ہوں یا نفسیاتی) کےلیے شفا کا مظہر قرار دیتے ہوئے کتاب میں اسی آیت مبارکہ کی طبی تفسیر بیان کی ہے ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب اس کتاب کے علاوہ طب کے سلسلے میں تقریبا چھ کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کی کتب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا) طب نبوی و حکمت
حفاظت حدیث
Authors: ڈاکٹر خالد علوی
رسول اکرم ﷺ کے قووعمل اور تقریر کوحدیث کہتے ہیں ۔ یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اور راست دینی نظریات عنقا ہوجاتے ہیں۔یہ اس شخصیات کے کلماتِ خیر ہیں جنہیں مان کر ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور رب ذوالجلال نے اسے کے خطاب سے نوازا۔ یہ وہ علم ہےجس کاصحیح فہم حاصل کرکے ایک عام مسلمان ،امامت کےدرجے پر فائز ہوجاتاہے ۔ جس طرح کہ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نےحدیث نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ حدیث نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک انسان ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا ابوهریرہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول اللہ ﷺکے انتقال کے بعد قرآن جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار احادیث پر مشتمل عبداللہ بن عمرو بن عاص عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب ‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صحابہ کرام مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی جس سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے علم کے ختم ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی ائمہ اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں احادیث جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں صحابہ کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اسی طرح مسانيد بھی لکھی گئیں ۔امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل البخاری نے فقہی ترتيب کے مطابق محض صحیح احادیث کا مجموعہ تیار کیا جسے دنیا آج صحیح بخاری کے نام سے جانتی ہے جو حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے، پھر ان کے بعد ان کے ہی شاگرد امام مسلم بن حجاج نے صحیح حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جو آج صحیح مسلم کے نام سے مقبول ہے. اور صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے.امام بخاری اور امام مسلم کے طریقے پر ان کے دور میں اور ان کے بعد بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، آج حدیث کی بڑی کتابوں میں جو حدیثیں محفوظ ملتی ہیں انہیں جمع کرنے والے محدثین نے راویوں کے حوالے سے روایتیں بیان کی ہیں، صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺکو جو کچھ کہتے سنا تھا یا کرتے دیکھا تھا اسے انہوں نے حفظ کیا اور کچھ لوگوں نے اسے لکھا پھر بعد کی نسل تک اسے پہنچایا، جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے جمع کر دیا گیا. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے. آ ج صرف مسلمانوں کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کی ایک ایک بات کو مکمل طور پر محفوظ کیا، اس کے لئے مسلمانوں نے اسماء الرجال کاعلم ایجاد کیا، جس کی گواہی ایک جرمن مستشرق ڈاکٹر اے سپرگر (Dr A. Springer) نےدی اور حافظ ابن حجر کی کتاب الإصابہ (مطبوعہ کلکتہ )کے مقدمہ میں لکھا ہے:’’دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو یہ شرف حاصل ہوا نہ جدید مہذب دنیا میں کسی کو یہ فخر حاصل ہوا کہ اسماء الرجال کے تیکنک کو مسلمانوں کے انداز پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں. مسلمانوں نے اس علم سے دنیا کو آگاہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس ہمہ گیر اور عظیم علم کے ذریعہ 5 لاکھ لوگوں کی زندگیاں انتہائی باریکی سے محفوظ ہو گئیں ‘‘۔ حفاظت حدیث کےسلسلے میں تفصیلی مواد متعدد اصول حدیث ودفاع کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں موجود ہے اورنامور اہل علم کے مضامین ومقالات بھی علمی رسائل وجرائد میں طبع ہوچکے ہیں۔ اوراسی اس طرح اس موضوع پر مستقل کتب لکھی گئی ہیں زیرتبصرہ کتاب’’ حفاظت حدیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1971ء میں شائع شائع ہوا پھر اس کے بعد مصنف کی طرف سے اس کی تصحیح وتنقیح اور اضافوں کے ساتھ کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔مذکورہ کتاب ڈاکٹر خالد صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے اردو عربی کتابوں سے استفادہ کر کے عہد نبویﷺ سے عہد تدوین تک کی تمام مساعی کا مختصر جائزہ لیا ہےاور حفاظت حدیث کے مسلسل عمل کو مربوط طریق پر پیش کرکی سعی جمیل کی ہے ۔ مصنف موصوف نے اس کتاب میں کتابت حدیث اور حجیت حدیث پر کافی شافی بحث کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوران کے میزانِ حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)