Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
عقیدہ و منہج
Authors: پروفیسر حافظ محمد سعید
اسلام میں ایمان وعقیدہ کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں۔ اعمالِ صالحہ کی قبولیت ، عقیدہ کی صحت اور درستی ہی پر منحصر ہے۔ عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔ عقیدہ کا سمجھنا دین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انبیاء کرام سب سے پہلے آکر عقیدے کی اصلاح کیا کرتے تھے۔ عقیدے کی اصلاح کے ساتھ ہی عمل کی اصلاح ہوتی ہے اور عمل کی اصلاح سے اخلاق و معاملات کی اصلاح ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا و ہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’عقیدہ ومنہج‘‘ پروفیسر حافظ محمدسعید ﷾ (امیر جماعۃ الدعوہ پاکستان) کے عقیدہ کے موضوع پر متعدد دوروس وخطابات کی کتابی صورت ہے۔ محترم حافظ صاحب کے لیکچرز کو جناب قاضی کاشف نیاز صاحب نے بڑی محنت سے تحریری اسلوب میں منتقل کیا ہے ۔اس کتاب میں انبیاء کے اسلوب دعوت کو معیار بنا کر عقیدہ ومنہج کو پوری وضاحت اور تفصیل کےساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ فلسفیانہ بحثوں اور علم کلام کے گورکھ دھندوں کی بجائے دین کو سمجھنے کے لیے توحید کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ نیز اس کتاب میں باطل فرقوں معتزلہ اور جہمیوں وغیرہ کے نظریات کے رد کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے جدید سیاسی نظاموں میں جس طرح اسلامی نظریات کو شامل کیا گیا ہے ان کو بھی بڑے شرح وبسط کےسا تھ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مجموعہ مضامین دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ (م۔ا)
اصلی اہل سنت
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
In Fiqha
دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کےاعتبار سے اختلافات کاہوناایک فطری امر ہے –یہی وجہ ہے کہ دنيا ميں بہت سارے مذاہب اور مسالک پائے جاتے ہیں – اور ان میں سے ہر مسلک یہ نعرہ بلند کرتاہے کہ وہی حق پر ہے اور باقی تمام مسالک راہ ہدایت سے ہٹے ہوئے ہیں- حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان کےمطابق ایسے لوگ حق پر ہیں جن کا عمل نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے عمل کے عین مطابق ہے-زیر نظر رسالہ میں حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری نےسوال وجواب کی صورت میں ناقابل تردید دلائل کے ساتھ ثابت کیاہے کہ اصلی اہل سنت کون ہے ؟ اور اس کی پہچان کیاہے ؟ موصوف نے باالتفصیل تقلیدشخصی کی خامیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کتاب وسنت کی صریح براہین پر عمل پیراہونے کے فوائد بیان کیے ہیں-تقلید کی بیخ کنی اور اہلحدیث کی دعوت کو عام کرنے کے لیے تحریری مواد کےلحاظ سے یہ ایک انتہائی مؤثر رسالہ ہے-
سماع موتٰی کیا مردے سنتے ہیں؟
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد ﷺ میں سے بہت سے لوگ مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے کا مسئلہ شرک کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے- موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں-زیر نظر کتاب میں سماع موتی سے متعلق تمام اشکالات کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے-کتابچہ سوال وجواب کی صورت میں مرتب کیا گی ہے جو افہام وتفہیم کا آسان ترین ذریعہ ہےمعمولی پڑھا لکھا آدمی بھی باآسانی مستفید ہوسکتا ہے-جس میں لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے مختلف شبہات کو سوال کی صورت میں پیش کر کے قرآن سنت کی راہنمائی کو جواب کی صورت میں پیش کیا ہے-
تقليد کے خوفناک نتائج
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
In Arguments
کتاب کے نام سے اس کی اہمیت عیاں ہے۔ اس لاجواب اور بے نظیر کتاب میں مختلف مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی اور عثمانی توحیدی) کے معترضین کے دلائل کا مکمل و مدلل جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز ان مضامین کے لکھنے کے بعد جو جو اعتراضات ان فرقوں کی جانب سے موصول ہوئے ان سب کا جواب بھی اسی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ مردوں کے سننے یا نہ سننے کا مسئلہ مشہور و معروف ہے، اسی طرح عذاب قبر جس کا انکار کیپٹن عثمانی صاحب (توحیدی گروپ کے بانی) نے کیا، ان کے دلائل کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز ان کے شاگرد کی طرف سے اس مضمون کے جواب کا جواب الجواب بھی لکھا گیا ہے۔ بریلوی علماء کی معنوی تحریفات کو بھی سماع موتٰی بھی خوب واضح کیا گیا ہے اورکتاب و سنت کے شافی دلائل سے اس مسئلہ کے ایک ایک پہلو کو اعتراضات کی گرد و غبار سے پاک کر کے نکھار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ یہ کتاب اپنے قارئین و ناظرین کو تجویز کرتی ہے اور اس کی ہارڈ کاپی خرید کر دوسروں تک پہنچانے کی دعوت دیتی ہے
پیر سید بدیع الدین راشدی کے موقف کے جواب میں،رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" پیر سید بدیع الدین راشدی کے موقف کے جواب میں،رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا" پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔اس سے پہلے محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب کی کتاب " القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " چھپ چکی تھی جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے والے موقف کو اختیار کیا تھا۔چنانچہ حافظ صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ کتاب لکھی ہے اور ان کے موقف کا رد کیا ہے۔ چونکہ دونوں مصنف ہی اہل حدیث ہیں اور یہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ (عبد اللہ بہاولپوری)
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کے اعتبار سے اختلاف کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سارے مسالک و مذاہب پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے اور اس کے مخالفین راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ایسا گروہ حق پر ہے جس کا عمل نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے عمل کے عین مطابق ہے۔ دنیا جہان میں کچھ ایسے بھی فرقے پائے جاتے ہیں جو اللہ رب العزت کی صفات میں افراط و تفریط کا شکار ہونے کی وجہ سے راہ اعتدال سے دور ہو گئے۔ ان میں سے معتزلہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ فرقے اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ،پنڈلی، نزول آسمانِ اول اور وہ تمام صفات الٰہی جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں ان میں تلاویلات و تحریفات اور تعطیلات کے قائل ہیں۔ جبکہ فرقہ ناجیہ طائفہ منصورہ اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ تمام صفات برحق ہیں اور ان پر ہمارا مکمل ایمان و ایقان ہے۔ ہم بغیر کسی تاویل، تعطیل، تکییف، تشبیہ کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "اللہ تعالیٰ کہاں ہیں" حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوریؒ کا خطبہ جمعہ ہے جسے معروف محقق اعجاز احمد تنویر حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔ مولانا بہاولپوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ان کا انداز بیاں سادہ اور قرآن و سنت کے دلائل کے بعد ایسی عقلی توجیہات، سادہ مثالوں سے بات سمجھاتے کہ مخالف کے دل میں اتر جاتی۔ مولانا بہاولپوریؒ نے اپنے اس خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش ہونا، معجزہ کیا ہے، تقلید اور اتباع میں فرق اور دیگر اہم موضوعات پر قرآن و سنت سے دلائل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کہ میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری کا شمار مسلک اہل حدیث کے نامور خطبا اور واعظین میں ہوتا ہے۔ موصوف ایک قناعت پسند ،حق گو، سادگی پسند ، ایک صاحب ورع و تقوی شخصیت اور درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔آپ نے اپنی زندگی کو سلف صالحین کے ساتھ تمسک اور اس کے پرچار کے لیے وقف کر دیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات کی پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی ٰالوسع گریز ہی کیا کرتےتھےمسلک اہل حدیث کی حقانیت ثابت کرنے کے حوالے سے ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ مولانا نے اپنی زندگی میں مختلف رسائل و مضامین لکھے۔ انہی رسائل کو افادہ عام کے لیے یکجا کتابی شکل میں ’’ رسائل بہاولپوری ‘‘ کےنام سے شائع ش کیا گیا ہے۔ جس میں رفع الیدین، قربانی، روزہ اور تراویح کے مسائل کے علاوہ تقلید کے نتائج کے حوالے سے خصوصی مضامین شامل ہیں اس کے علاوہ انہوں نے جمہوریت کے حوالے سے اپنی نگارشات پیش کرتے ہوئے اہل حدیث حضرات کے نام بھی بہت سارے رسائل لکھ کر ان کو دعوت فکر و عمل دی ہے۔حافظ صاحب مرحوم چونکہ ایک مؤثر واعظ و خطیب اور درد دل رکھنے والے مصلح تھے۔ مکتبہ اسلامیہ، فیصل آباد نے ان کے مواعظ ،خطبات و دروس اور محاضرات کو ’’خطبات بہاولپوری‘‘ کےنام سے پانچ جلدوں میں کتابی شکل میں شائع کیا ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’جہاد فرض عین ہے یا کفایہ؟ ‘‘ بھی پروفیسر حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری کے سرزمین افغانسان صوبہ کنٹر مرکز الدعوۃ والارشاد کے معسکر طیبہ میں علماء کی ایک جماعت سے خطاب اور سوال وجواب کی کتابی صورت ہے ۔اس میں حافظ صاحب مرحوم نے جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے متعلق اپنے دو ٹوک موقف کو پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی دعوتی، تدریسی،تحریری خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت جگہ دے ۔ (آمین)
نیکی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داریاں
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو فرض کیا ہے جن باتوں کےساتھ امت کی دنیا وآخرت میں رفعت ومنزلت،شان وعظمت،سعادت اور خوش بختی کو وابسطہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک اہم بات امت کےتمام افراد کااس فریضے کو اپنی استعداد کے بقدر ادا کرناہے۔لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ جو کہ (امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھتے اور مانتے ہیں اس کو فکری اور عملی طور پر ،یاکم ازکم عملی طور پر مردوں میں محدود کردیتے ہیں کہ یہ مردوں کے کرنے کے کام ہیں خواتین کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں اس بھیانک سوچ سے نمٹنے کےلیے (امر بالمعروف او رنہی عن المنکر)کے متعلق خواتین کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے ارادے سے مولائےعلیم وقدیرپر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کتاب وسنت اور مسلمان عورتوں کی سیرت کی روشنی میں (نیکی کاحکم دینے او ربرائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری)کےعنوان سے اس کتاب کی تیاری کا عزم کیا گیاہے ۔
بچوں کا احتساب
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
اولاد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک امانت بھی ہے جس کی کماحقہ حفاظت انسان پر فرض ہے۔اولاد کی تربیت میں اسلامی ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی انسان کی پوری زندگی کے لیے وبال بن جاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے اس موضوع کو کما حقہ ادا کرتے ہوئے بچوں کے احتساب کے نام سے تربیت اولاد کے حوالے سے قیمتی مواد فراہم کیا ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی شخص اپنی اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی باتوں کو موضوع بنایا ہے وہ درج ذیل ہیں:1۔کیا بچوں کو نیکی کا حکم دینا شرعا ثابت ہے؟کیا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ بچوں کو نیکی کا حکم دیا کرتے تھے؟2۔کیا بچوں کو برے کاموں سے روکنا ثابت ہے؟کیا ہمارے نبی محترمﷺاور حضرات صحابہ ؓ بچوں کو غلط کاموں سے روکنے کا اہتمام کیا کرتے تھے؟3۔بچوں کا احتساب کرتے ہوئے کون سے درجات،اسالیب اور وسائل استعمال کیے جائیں؟4۔بچوں کا احتساب کون کرے؟ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بات کی وضاحت کے لیے قرآن وسنت کو بنیاد بنایا گیا ہے،احادیث کو اصلی مراجع ومصادر سے نقل کیا گیا ہے،صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کرتے ہوئے علمائے امت کے اقوال کے ساتھ بات کو مزین کیا گیا ہے،اسی طرح بچوں کے احتساب سے متعلقہ قرون اولیٰ میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے ادوار میں بچوں کے احتساب کے واقعات او راحتساب کے مختلف طریقوں کو بیان کر کے بچوں کے احتساب کے لیے شرعی راہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔