Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
سفر بہتری کی راہ پر
Authors: نا معلوم
In Knowledge
ہماری ذاتی وپیشہ ورانہ زندگی میں ہمارے رویے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی کے کیا اغراض ومقاصد ہیں؟ اور ان تک کیسے پہنچانا ہے۔ اور اگر کوئی مشکلات آتی ہیں تو ان سے کیسے نبٹنا ہے ان سب باتوں میں ہمارے رویوں کا خاص عمل دخل رہتا ہے اس طرح ہم خود کو کتنا سمجھتے ہیں‘ دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے پاس کتنی معلومات ہیں ان چیزوں کا بھی ہمارے رویوں سے گہرا تعلق ہے۔ویسے تو ہر شخص کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو مؤثر بنانے کے لیے صحت مند اور مثبت رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے افراد اور ادارے جن کے کام سے لاکھوں لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہو ان کے لیے مثبت اور صحت مند رویوں کا حامل ہونا اور بھی اہم ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی حوالے سے ہے جس میں زیادہ تر توجہ پولیس محکمے کی طرف دی گئی ہے اور ماڈیول تین سطح پر ترتیب دیا گیا ہے۔1:کانسٹیبل/ہیڈ کانسٹیبل۔2:اسسٹنٹ سب انسپکٹر/سب انسپکٹر/ سب انسپکٹر/انسپکٹر۔3:اسسٹنٹ سپرنڈنٹ آف پولیس(زیر تربیت) اور پھر ماڈیول ہر سطح کے لیے ایک جیسے موضوع ہی رکھتا ہے جیسے خود آگاہی‘ زندگی کی مہارتیں اور سماجی آگاہی وغیرہ کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب پولیس ٹرینرز کی معاونت کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ ہر حصے کا آغاز اس کی اہمیت اور محکمہ پولیس کے ساتھ اس کے تعلق سے ہوتا ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سفر بہتری کی راہ پر ‘‘نیشنل پولیس اکیڈمی کی مرتب کردہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
انتہا پسندی سے نجات ممکن ہے
Authors: نا معلوم
انتہا پسندی ایک ایسا نفسیاتی رویہ ہے جس کے باعث انسان اپنے روزمرّہ کے معمولات خصوصاَ سیاسی اورعقیدتی معاملات میں برداشت، رواداری اور اعتدال کی حد پار کرجاتا ہے ۔ ایسے میں وہ نہ صرف اپنی سوچ ، نظریے یا عقیدے کو ہی برحق قرار دیتا ہے بلکہ انہیں دوسروں پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے معاشرے میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور معاشرے کا نظم درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ اس نفسیاتی کیفیت کو شدت پسندی اور جنون بھی کہتے ہیں جس میں اگر تشدد اور زور زبردستی کا عنصر بھی شامل ہو تو یہ رویہ دہشت گردی میں بدل جاتا ہے ۔اسلام ایک معتدل و متوازن دین ہے جو میانہ روی کو پسند کرتاجبکہ غلو اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعتدال کسے کہتے ہیں ، اس کی حدود کیا ہیں اوران کا تعیّن کیسے کیا جائے جن کے اس پارانتہا پسندی کی حد شروع ہوتی ہے ؟انتہا پسندی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی عمر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ انتہا پسندی سے نجات ممکن ہے ‘‘ عاصمہ جہانگیر کےادارے ’’پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق‘‘ کی طرف سے شائع کردہ ہے ۔ اس کتاب میں انسانی حقوق اور انتہائی پسندی کے متعلق مختلف لبرل خواتین وحضرات کے تحریر کردہ مضامین کو مرتب کر کے سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔اس کتاب کےمندرجات سے ادارہ کا اتفاق ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب عاصمہ جہانگیر اورحنا جیلانی جیسی لبر ل مغرب زدہ خواتین وحضرات کے مضامین پر مشتمل ہے ۔ محض معلومات اور اس پرنقد،تجزیہ وتبصرہ کی غرض سے قارئین کتاب وسنت کے لیے پبل کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
ہندستانی مسلمان ( وحید الدین خان )
Authors: نا معلوم
ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ بہرحال آج کل یوں تو پورا عالم اسلام استعمار اور دشمنوں کی سازشوں کےچنگل میں نظرآرہاہے لیکن دنیاکی سب سےبڑی جمہوریت کادعوی کرنےوالے ہندوستانی سیاستدان بھی آئے روزمسلمانوں کوہراساں کرنے اور انہیں طرح طرح سے خوف و وحشت میں مبتلا کرنےکی سازشیں رچاتےرہتےہيں۔اوریوں ہندوستان کےعوام اور اس کےاندر پائی جانےوالی سب سےبڑی اقلیت فی الحال بےشمارمسائل کاشکار ہے۔اوراس کاسب سےبڑا ثبوت ہندوستان میں ہرسطح پر مسلمانوں کوہراساں کئےجانےکےلئےکھیلاجانےوالا کھیل اور تمام اہم قومی وسرکاری اداروں سے ان کی بیدخلی ہے۔ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی قوم ہیں۔ یہاں ان کی تعداد تقریبا 30 کروڑ ہے۔پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعداد اگر مندروں سے زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں ہے ۔ ایک سے ایک عالیشان مسجد جن میں دلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے ، اس مسجد کو شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ان تمام مساجد میں پانچوں وقت اذان دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے باوجودمسلمانوں کو ہر میدان سے باہر کیا جارہا ہے اور انہیں غربت،افلاس اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ وہ تعلیم میں، تجارت میں، ملازمت میں، صحت میں غرض زندگی کے ہر شعبے میں ملک کی دوسری برادری سے پیچھے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہندستانی مسلمان‘‘ مولانا وحید الدین خاں کی تصنیف ہے۔مولف نے اس کتاب میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار پر مختلف زاویوں اور پہلوؤں سے گفتگو کی ہے ۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)
اسلامی قانون فوجداری ترجمہ کتاب الاختیار
Authors: نا معلوم
فوجداری ضابطہ یا ضابطہ تعزیرات ایک دستاویز ہے جس میں کسی مقام پر عمل در آمد ہونے والے تمام یا بیشتر جرائم کے قوانین کو یکجا کیا جاتا ہے۔ عموماً ایک ضابطہ تعزیرات جرائم کا احاطہ کرتا ہے جو عمل در آمد علاقے میں تسلیم کیے گئے ہیں، جرمانے جو ان جرائم پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ مخصوص پہلوفوجداری ضابطے عمومًا دیوانی قوانین مشترک ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے قانونی نظاموں کی تشکیل پاتی ہے ان ضابطوں اور اصولوں پر جو نسبتاً مبہم ہیں اور انہیں معاملوں کی اساس پر رو بعمل لایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شاذ و نادر ہی عام قانون عمل درآمد کرنے والے علاقوں میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔انگریزوں کی واپسی کے بعد، تعزیرات ہند پاکستان کو ورثے میں ملا۔ بعد ازاں ان تعزیرات میں اسلامی قوانین فوجداری کی متعدد دفعات بھی شامل کی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی قانون فوجداری ‘‘ مولانا سلامت علی خان المعروف حذاقت خان محمد پوری کی کتاب ’’ الاختیار‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب 1212ھ میں قاضیوں اور عام تعلیم یافتہ حضرات کی رہنمائی کے لیے تیار کی گئی تھی اس کتاب کو اس وقت بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ قانون دان حضرات اسے استفادہ کرتے ہیں حتیٰ بعض مدارس حنفیہ میں یہ داخل نصاب ہے ۔صاحب کتاب محمد آباد میں عدالت مرافعہ میں بطور فیصلہ نویس وریسرچ آفیسر کام کرتے تھے۔انہوں نے اس کتاب میں تمام تعزیرات وجرائم کے متعلق اسلامی قانونِ فوجداری کی تمام دفعات مختلف ابواب وفصول میں فقہ حنفی کی مستند کتابوں کے حوالے سے نہایت جامعیت کے ساتھ جمع کردی ہیں ۔اس کتاب کی افادیت کےپیش نظرمیر احمد شریف وکیل حیدرآباد دکن کی فرمائش 1929ء میں ’’ دار المصنفین اعظم گڑھ‘‘ نے اس کتاب کا ارد وترجمہ کرواکر شائع کیا۔اسی ترجمے کو سنگ میل پبلی کیشنز ،لاہور نے شائع کیا ہے ۔ قانون تعزیرات ، قصاص ودیت سے متعلق اب کئی جدید کتب اردو زبان میں طبع ہوچکی ہیں۔کتاب ہذا کو محض قدیم کتاب ہونے کی وجہ سے قانون دان حضرات کے استفادے کے لیے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔کتاب کے مندرجات سے ادارے کا کلی اتفاق ضروری نہیں ہے ۔(م ۔ا)
نقشہ سیرت
Authors: نا معلوم
نقشہ (Map) ایک علاقے کی بصری نمائندگی کرتا ہے۔ نقشہ جات کی مدد سے کسی بھی چیز کو سمجھنےمیں آسانی ہوتی ہے ۔بہت سے نقشے جامد دو جہتی ہوتے ہیں، تین جہتی جو ہندسی طور پر درست (یا تقریبا درست) نمائندگی کرتے ہیں اور دیگر متحرک یا انٹرایکٹو بھی ہو سکتے ہیں۔نقشے کی مختلف اقسام ہیں ۔ جیسےاٹلس(Atlas)،موضوعی نقشہ (Thematic map)،جغرافیائی مطالعاتی نقشہ (Topographic map)،نقشہ راہ (Street map)،موسمیاتی نقشہ (Weather map)،سیاسی نقشہ (Political map ) وغیرہ زیرنظر’’ نقشہ سیرت ‘‘ سیرت النبی ﷺ کوسمجھنے کے لیے ایک جامع نقشہ ہے ۔اس میں نبی ﷺ کاشجرہ نسب،عربوں کی تاریخ،اسلام سے قبل عرب کے مذاہب،نبیﷺکا پچپن،نبوت سے پہلے اوصاف ،تبلیغ کی حکمتیں،رسول اللہ پر دست درازیاں،قریش کی سختیاں اور لچک،سفر طائف،معجزات النبی ،نبی ﷺ کی ہجرت اورمدد گار لوگ،رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو بڑے آسان فہم انداز میں پیش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)
اسلام میں یزید نام کے اکابرین
Authors: نا معلوم
کسی بھی مسلمان کی عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔یزید بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں اس لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت کی بشارت سنائی گئی ہے ۔روافض کی یزید دشمنی ہی کا نتیجہ ہے یا لا علمی کہ امت کے ایک بڑے طبقہ نے یہ سمجھ لیا کہ یزید چونکہ شرابی، جواری اور نعوذ باﷲ زانی تھا، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اﷲ کے رسول کے نواسے حسین بن علی کا قاتل تھا اس وجہ سے واقعہ کربلا کے بعد امت نے اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑدیا۔ یہ بات اس قدر مشہور ہوئی کہ بر صغیر ہندوپاک میں شاید ہی کوئی یزید نام رکھنے کی ہمت کرے۔جبکہ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے محدثین کے نام یزید تھے جبکہ واقعہ کربلا پیش آچکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کر دیا جائے۔ زیر نظر کتاب’’اسلام میں یزید نام کے اکابرین‘‘ میں مرتب نے کتب اسماء الرجال وتاریخ ، کتب مذہب شیعہ کے حوالہ جات سے یزید نام کے اکابر ین کو پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یزید نام رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ۔آج بھی بچوں کےنام یزید رکھے جاسکتے ہیں۔(م۔ا)
استغفار کی دعائیں
Authors: نا معلوم
استغفار کرنے سے انسان کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں کہ جن کو انسان شمار بھی نہیں کر سکتا،لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس ان گناہوں کا پورا پورا ریکارڈ ہوتا ہے،جبکہ انسان بھول جاتا ہے۔ استغفار کرنا نبی کریمﷺ کی اقتداء اور پیروی کا اظہار ،کیونکہ نبی کریمﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔اور استغفار گناہوں سے بچنے اور اطاعت کرنے میں کوتاہی کا اعتراف ہے،کیونکہ جب انسان اپنی کوتاہی کا اعتراف کر لیتا ہے تب وہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرتا ہے اورنیک اعمال کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کوشش کرتا ہے۔ استغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔استغفار کے متعلق قرآن وسنت میں مختلف ادعیہ اور کلمات استغفار موجود ہیں۔ زیر نظر ’’استغفار کی دعائیں ‘‘ ایک نامعلوم شخص کی کاوش ہےفاضل مرتب نے استغفار سے متعلق 35؍قرآنی ونبوی دعائیں عربی متن ،اردو وانگریزی ترجمہ بمع مکمل حوالہ جات کے اس فائل میں درج کی ہیں افادۂ عام کے لیے اسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔ (م ۔ا)
ڈیجیٹل قرآن
Authors: نا معلوم
مصحف یا صَحِیْفَہ کا زیادہ تر استعمال الہامی کتاب جو اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی رسول پر اتاری گئی پر ہوتا ہے۔اس کی جمع صُحْفٌ اور صحائف ہے۔ عام طور پر قرآن کو مصحف کہا جاتا ہے۔ قرآن ایک مصحف (کتاب) ہے مگر ضروری نہیں ہر مصحف قرآن ہو۔ قرآن مجید اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کی جانے والی کتبِ سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ اشاعت قرآن مجید کی ہوتی ہے ۔ اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں جن ممالک میں جو جو روایت متداول ہے وہاں اسی روایت کے مطابق ہی مصاحف کی طباعت کی جاتی ہے زیر نظر ’’ڈیجیٹل قرآن‘‘سعودی عرب کے قرآن مجید کی طباعت کے معروف طباعتی ادارے مجمع ملک فہد کی طرف سے روایت حفص میں شائع کردہ’’ مصحف مدینہ‘‘ کی لنک شدہ پی ڈی ایف فائل ہے ۔اس میں قرآن کی سورتوں اور پاروں کی لنکنگ کی گئی ہےقاری ایک کلک سے بآسانی مطلوبہ سورت اور پارے تک پہنچ سکتا ہے۔(م۔ا)
صحابہ کرام کی فہرست
Authors: نا معلوم
In Knowledge
صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔ صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایمان ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ صحابہ کی فہرسست ‘‘کسی صاحب کی کمال کاوش ہے مرتب نے اس مختصر کتاب میں الف بائی ترتیب سے صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کو درج کیا ہے اور ہر نام کے ساتھ لنک بھی لگا دیئے ہیں ۔ جس صحابی کے نا م کو ٹچ کریں اس صحابی کےحالات زندگی بحوالہ اردو زبان میں سامنے آجاتے ہیں بشرطیکہ انٹرنیٹ آن ہو ۔ (م۔ا)