Al Noor Softs

( Joined 1 year ago )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
حیات امام ابن حزم

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Knowledge

By Al Noor Softs

امام ابن حزم کا پورا نام علی بن احمد بن سعید کنیت ابو محمّد ہے اور ابن حزم کے نام سے شہرت پائی. آپ اندلس کے شہر قرطبہ میں پیدا ہونے اور 72 سال کی عمر میں 452 ہجری میں فوت ہوئے۔ فقہ ظاہری سے متعلق ائمہ کرام کے تذکروں میں جب تک امام ابن حزم﷫ کا نام نہ آئے تو تعارف ادھورا رہ جاتا ہےامام ابن حزم بیسیوں کتب کے مصنف ہیں آپ کی وہ کتابیں جنہوں نے فقہ ظاہری کی اشاعت میں شہرت پائی وہ المحلی اور" الاحکام" فی اصول الاحکام ہیں۔ المحلی فقہ ظاہری اور دیگر فقہ میں تقابل کا ایک موسوعہ ہے۔موخرالذکر کتاب کا مو ضو ع اصول فقہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں کتابیں نہ ہوتیں تو اس مسلک کا جاننے والا کوئی نہ ہوتا۔ ظاہری مسلک کے متبعین نہ ہونے کے با وجود یہ مسلک ہم تک جس زریعہ سے پہنچا ہے وہ زریعہ یہ دونوں کتابیں ہی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’حیات امام ابن حزم ‘‘مصری کے مشہور مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابوزہرہ مصری کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے امام ابن حزم کی سیرت وسوانح ، عصر وعہد، گردوپیش، طلب علم ، شیوخ وتلامذہ ،سیاسی کوائف واحوال، طلب علم میں کثرتِ اسفار ، علمی وسعت،معاصرین کی شہادت، افکار وآراء، فقہ ظاہری کی خصوصیات،سیاسی نظریات ، اصول وقواعد، شرعی دلائل وبراہین، فقہ ظاہری کے منفرد مسائل الغرض ہر وہ چیز بیان کردی ہے جو حیات ابن حزم کی ترتیب وتہذیب کے لیے ازبس ناگریز تھی۔وطن عزیز کے نامور مترجم کتب کثیرہ پروفیسر غلام احمد حریری﷫ نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے اور بعض مقامات پر حواشی بھی لگائے ہیں ۔(م۔ا)

امام احمد بن حنبل  عہد و حیات

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Knowledge

By Al Noor Softs

امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔(وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ : ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍343)امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے ۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی ۔ ۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نےاطراف الحدیث کا کام کیا ۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے ۔اور شیخ شعیب الارناؤوط نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’امام احمد بن حنبل عہد وحیات ‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف ’’امام احمد حنبل حياته و عصر ه ‘‘ کا اردو ترجمہ ہےاس کتاب میں فاضل مصنف نے امام احمد بن حنبل کی حیات خدمات، مسلک وعقیدہ ،امام احمد بن حنبل کا منہج،بیان کرنے کے علاوہ فقہ حنبلی کی اہمیت، امام موصوف کا ائمہ ثلاثہ کے نظریات ومسالک سے اختلافات اور اس کے اسباب ، عہد حاضر میں حنبلی مذہب، سعودی حکومت او رحنبلی مذہب جیسے عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی ذمہ داری جناب سید رئیس احمدجعفری اور سید نائب حسن نقوی امروہوی نے انجام دی ہے ۔(م۔ا)

امام مالک

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

امام مالک﷫ کے فقہی مسلک کو مالکی فقہ کہتے ہیں۔ آپ کا نام مالک بن انس ہے۔ آپ امامِ مدینہ، امام اہلِ حجاز اور امام دار الہجرت کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ 93ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار مجتہدین، فقہاء اور عظیم محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ نے حدیث و فقہ کا علم پہلے ربیعہ رائی، پھر ابن ہرمز سے حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں امام ابن شہاب زہری اور دیگر ستر اساتذہ شامل ہیں۔ امام مالک ﷫ نے سترہ برس کی عمر میں مدینے میں درس و تدریس کی مسند سنبھالی۔ آپ حدیث کا درس بڑے ادب و احترام سے دیا کرتے تھے، غسل کرتے، صاف ستھرا لباس پہنتے، خوشبو لگاتے اور پھر درس کی مسند پر تشریف فرما ہوتے۔ امام مالک بیک وقت حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ آپ کے طرزِ فکر میں حدیث اور فقہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔آپ کی تصانیف میں مدونہ الکبریٰ اور موطاء معروف تصانیف ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ امام مالک ﷫ ‘‘ مشہور مصری سوانح نگار پروفیسر محمدابو زہرہ کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں امام دارالہجرت امام مالک بن انس کے سوانح حیات ،امام صاحب کے زمانہ ، ان کی آراء وافکار اور قانوں اسلامی میں مالکی فقہ کیاامتیازی شان کا مفصل بیان ہے ۔کتاب کو عربی اردو قالب میں ڈھالنے اور اس پرحواشی کا کام عبیداللہ قدسی نے انجام دیا ہے۔(م۔ا)

حیات امام احمد بن حنبل

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Knowledge

By Al Noor Softs

امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیثمیں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآنکے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔(وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ : ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍343)امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے ۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی ۔ ۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔ بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نےاطراف الحدیث کا کام کیا ۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے ۔اور شیخ شعیب الارناؤوط نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ حیات امام احمد بن حنبل ‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں فاضل مصنف نے امام احمد بن حنبل کی حیات خدمات، مسلک وعقیدہ ،امام احمد بن حنبل کا منہج، بیان کرنے کے علاوہ فقہ حنبلی کی اہمیت، امام موصوف کا ائمہ ثلاثہ کے نظریات ومسالک سے اختلافات اور اس کے اسباب، عہد حاضر میں حنبلی مذہب، سعودی حکومت او رحنبلی مذہب جیسے عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ’’ مصالح‘‘ کےعنوان پر بحث کرتے ہوئے مصنف نے فقہ حنبلی کی جس وسعت کاذکر کیا ہے ۔ اس کامطلب شریعت اور قانون اسلامی کو کھیل بنانا نہیں بلکہ فقہ حنبلی میں مصالح اور سد ذرائع دونوں اصول ساتھ ساتھ چلتے ہیں اوردرحقیقت دونوں ہی کو ضابطے کےطور پر نافذ کرنے سے اعتدال قائم رہتا اور شریعت کامقصود قیام امن وعدل وانصاف پورا ہوتا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ بہت سے محاسن کی حامل ہے مگر اس میں بعض جگہ مصنف سے فاش غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں او ر امام احمد بن حنبل اور محدثین کے بنیادی مسلک کے خلاف بعض مسائل میں انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے مثلاً مسئلہ خلق قرآن میں۔ لیکن کتاب کے ناشر شیخ الحدیث مولانا محمدعطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ایسے مقامات کی حواشی مین نشان دہی کردی ہے او رمدلل طور پر ثابت کیا ہے کہ اس مذکورہ مسئلہ میں مسلک امام احمد اور محدثین کاہی حق تھا۔ اور معتزلہ کا سراسر باطل تھا۔ ان حواشی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

تاریخ حدیث و محدثین ( جدید ایڈیشن )

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Arguments

By Al Noor Softs

حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ حدیث نبویﷺ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول حدیث میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ محدثین اور اصول حدیث کی مہارت رکھنےوالوں نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ حدیث ومحدثین‘‘ مصرکے عالم دین استاذ محمد ابو زھو کی عربی کتاب ’’ الحدیث والمحدثون‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے ا س کتاب میں حدیث پر قیمتی مباحث ،مقام حدیث، حدیث بحیثیت تفسیر قرآن ، تاریخ تدوین حدیث ، منکرین سنت کےشبہات کا ازالہ اور محدثین کرام کی خدمات کا جلیلہ کا جامع انداز میں تذکرہ کیاہے۔فاضل مصنف نے حدیث نبوی ﷺ کی تائید وحمایت کاحق ادا کردیا ہے۔ آپ نے تاریخی ادوار کےاعتبار سے تدوین حدیث کی جو مفصل تاریخ بیان کی ہے اس سے مستشرقین کے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتاہے۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر محترم جناب پروفیسر غلام احمد حریری ﷫ (مترجم کتب کثیرہ )نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ زیر تبصرہ ایڈیشن اس کتاب کا جدید ایڈیشن ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین)( م۔ا)

اسلامی مذاہب

Authors: محمد ابو زہرہ مصری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں ۔ مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم ہیں۔او راس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیرز نظر کتاب’’اسلامی مذاہب‘‘معروف ادیب ،فقیہ پروفیسر محمدابوزہرہ کی عربی تصنیف’’ المذاہب الاسلامیہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں اسلامی فرق ومذاہب کا ذکر وبیان ہے ۔ شیخ ابوزہر ہ نے یہ کتاب مصری حکومت کی وزارت تعلیم کے ادارہ ثقافت عامہ کے حسب فرمائش مرتب کی ۔مصنف نے اس کتاب میں اسلامی فرقوں کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔اعتقادی فرقے،سیاسی فرقے،فقہی مذاہب ومسالک۔یہ کتاب فرق اسلامیہ سے متعلق معلومات کا گنجینہ ہے اور اپنےدامن میں ان کلامی دلائل وبراہین کو سموئے ہوئے ہیں جویہ فرقے اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔اسلامی فرق کوائف واحوال او رعقائد وافکار معلوم کرنے کے لیے شیخ ابوزہرہ کی یہ کتاب ’’الملل والنحل شہرستانی ،’’الفصل فی الملل والاہواء والنحل ابن حزم،اور کتاب الفرق بین الفرق از عبد القادری بغدادی کانعم البدل ہے ۔(م۔ا)

حقوق ومعاملات

Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

آج ہر شخص پریشان نظر آتاہے،اورکسی کو بھی حقیقی سکون میسر نہیں ہے۔ اس پریشان حالی اور غیر مطمئن حالت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنےکےلیے دین حنیف سے رہنمائی نہیں لیتے۔ بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے پاس جاتےہیں جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔اسلام وہ عظیم دستور زندگی ہے جس نے فرد اورمعاشرے کی اصلاح،فلاح بہبوداورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقررکردیے ہیں، جن پر عمل کر کے ہرانسان اپنےمعاملات کو بطریق احسن حل کرسکتا ہے۔مولانا عبد الروف رحمانی جھنڈانگری  برصغیر کے معروف عالم دین اوربلند پایہ واعظ تھے ۔ آپ کو خطیب الہنداور خطیب الاسلام کے پر فخر القابات سے نوازا گیا تھا۔ آپ نے تصنیف وتالیف کے میدان میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔آپ نےمتعددعلمی واصلاحی موضوعات پر لکھا ہے اورتقریباپچاس سے زیادہ کتب کے مؤلف بھی ہیں۔زیرتبصرہ کتاب ’’ حقوق ومعالات ‘‘ مولانا موصوف کی ہی ایک اہم کتاب ہے ، جس میں انہوں قرآن واحادیث ، وتاریخ اسلام، سیر وسوانح کی کتابوں سے حقوق ومعاملات کے موضوع پر ان نصوص وواقعات کو یکجاکردیا ہے جس سے ہماری زندگی میں روز مرہ کا واسطہ پڑ تا ہے ۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

العلم والعلماء(عبد الرؤف جھنڈانگری)

Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)

ایام خلافت راشدہ

Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ رہا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک بھی معاشی عدم استحکام، عدل و انصاف اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا شکار ہیں۔ اسی کے سبب ہنگاموں، فسادات اور احتجاج کی لہر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں مولانا عبدالرؤف رحمانی نے ایام خلافت راشدہ کا اسی تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ جس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہ زمانہ معاشی و سماجی عد و انصاف اور امن و امان کا بہترین دور تھا۔ (ع۔م)