eBooks
2,841 Results Found
انوارِ حدیث
Authors: حافظ عبد الستار حماد
اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات، اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار حدیث ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جید عالم دین مفتی جماعت شارح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے ہفت روزہ اہل حدیث،لاہور کے مدیر مولانا محمدبشیر انصاری﷾ کی کاوش پر بڑے عمدہ انداز سے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے پانچ حصوں (عقائد وعبادات، حقوق ومعامالات، اخلاق وکردار، احکام ومسائل ، دعوات اذکار) میں تقسیم کیا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ ان کی تشریح میں صحیح احادیث کو پیش کیا ہے۔ ابتدائی طلباء وطالبات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور قبول عام کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)
مسئلہ ایمان وکفر
Authors: حافظ عبد الستار حماد
In Knowledge
ایمان کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور دیگر اعضا سے التزام عمل ۔ ان تین چیزوں کے اجتماع کا نام ایمان ہے۔ تصدیق میں کوتاہی کا مرتکب منافق، اقرار سے پہلو تہی باعث کفر اور عملاً کوتاہی کا مرتکب فاسق ہے اگر انکار کی وجہ سے بدعملی کا شکار ہے تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ علمائے سلف مسئلہ ایمان و کفر کو بالبداہت بیان کرتے آئے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی تالیف الجامع الصحیح کے کتاب الایمان میں ایمان کے عملی اور اخلاقی پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مولانا عبدالستار حماد نے بھی ایمان کے فکری اورعملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تالیف دراصل ماہنمامہ شہادت میں ایمان و عقیدہ کے نام سے شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے جسے معمولی حک و اضافہ کے بعد کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مولانا موصوف نے مسئلہ تکفیر، جو موجودہ جہادی تناظر میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، پر بھی شرح و وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے پائے جانے والے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ بحث صرف 35 کے قریب صفحات پر محیط ہے جو دوسری کتاب کے مقابلہ میں کافی کم ہیں، لیکن پھر بھی افادیت کے اعتبار سےبہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں ’امام بخاری اور فتنہ تکفیر‘ کے عنوان سے تکفیر سے متعلق امام بخاری کے موقف کو ان کی تالیف الجامع الصحیح کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)
لعنت کا مستحق ٹھہرانے والے چالیس اعمال
Authors: حافظ عبد الستار حماد
قرآن و سنت میں بہت سے مقامات پر ایسے لوگوں کا تذکرہ موجود ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی۔ مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ ایسا بد نصیب شخص دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوگیا۔ فلہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر ایسے کاموں اور اعمال سے گریز کرے جو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ٹھیراتے ہوں۔ زیر نظر کتابچہ مولانا عبدالستار حماد نے اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کتاب و سنت کی نصوص سے ایسے اعمال کی فہرست مرتب کر دی ہے جن کی وجہ سے کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی لعنت کا سزاوار ہو سکتا ہے۔ تاکہ ایسے اعمال سے کنارہ کیا جائے اور ایسے اعمال اختیار کیے جائیں جو اللہ کی رحمت کا مستحق بناتے ہوں۔ جب انسان اللہ کی لعنت پانے والے اعمال سے اجتناب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ کتابچہ 61 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسلوب نہایت واضح اور سادہ ہے۔ کوئی بھی عام فہم شخص اس کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو ایسے قبیح اعمال سے بچانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ (ع۔م)
فتاوی اصحاب الحدیث جلد1
Authors: حافظ عبد الستار حماد
اللہ رب العزت نے انسانوں اور جنوں کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔عبادت کے معنی محض چیز ظاہری اعمال و مراسم ہی تک محدود نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کو خدا کے احکامات کے مطابق بسر کرنا عبادت ہے۔لہذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں خدا کی مرضی معلوم کریں۔اس سلسلہ میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی یہ نہ جانتا ہو کہ خدا کا حکم کیا ہے تو اسے ’اہل الذکر‘ یعنی علمائے کتاب وسنت سے معلوم کر لینا چاہیے ۔شرعی اصطلاح میں اسی کو استفتاء و افتاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔فی زمانہ جب کہ دین سے لا علمی اور جہالت کا دور دورہ ہے ،یہ ضروری ہو گیا ہے ک علمائے حق سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔زیر نظر فتاویٰ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں زندگی کے مختلف گوشوں سے متعلق مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے ۔اس کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ سوالات کا جواب کسی خاص فقہی مکتب فکر کی روشنی میں نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی روشنی میں دیا گیا ہے ۔نیز جدید مسائل خصوصاً معاشی مسائل پر بھی رہنمائی موجود ہے۔ہر مسلمان کو لازماً اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن وحدیث کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکے۔
اصحاب بدر (قاضی سلیمان)
Authors: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری
غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔جبکہ صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔ صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے اورسوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان کے نامور صاحب قلم اورمورخ محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوریکی تصنیف ہے۔جس میں معروف روایت کے مطابق جمیع اصحاب بدر کا احاطہ کیا ہے آسان فہم انداز میں جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ ہیں ۔ان کے قلم سے متعدد کتب شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین ) طالب دعا: پ،ر،ر
معارف الاسماء شرح اسماء اللہ الحسنی
Authors: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری
In Arguments
اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور اللہ کا ذاتی نام ’’اللہ‘‘ اور اس کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ قرآن پاک کی آیت’’قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى‘‘ اور’’وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ‘‘ ان دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے نام توقیفیہ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے روسول نے بتائے ہیں۔ ان اسماء کے علاوہ اسماء سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز نہیں ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی اللہ رب العزت کے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے اور ان اسماء کی مصنف نے مختصر تشریح بھی کی ہے اور کتاب کو بہت احسن انداز کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے‘ جملوں کی ترتیب اور عبارت کے حسن کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ اسمائے حسنیٰ میں سے انتخاب سب سے پہلے قرآن مجید سے کیا گیا ہے۔اور آیت اور سورۃ کا نمبر بھی دیا گیا ہے اس کے بعد صحاح ستہ کی کتب میں سے جس کتاب میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نام ملا وہ درج کیا گیا ہے او راس کی تشریح کی گئی ہے اور کتاب اور باب کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور جو اسماء غیر ثابت ہیں ان کی بھی وضاحت کی گئی ہے اور ان احادیث پر مدلل جر ح بھی کی گئی ہے۔ مصنف نے چار باب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسماء اللہ الحسنیٰ‘‘ مولانا قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی شاہکار تصنیف ہے‘ آپ1867ءمیں منصور پورہ میں پیدا ہوئے اور 30 مئی 1930ء کو حج بیت اللہ سے واپس آتے ہوئے بحری جہاز میں وفات پائی۔ آپ عاجزی وانکساری کی ایک مثال تھے اور آپ نے بہت سی کتب بھی تصنیف فرمائیں مثلاً الجمال والکمال‘ مہر نبوت‘ رحمۃ للعالمین‘ غایت المرام‘ تائید الاسلام‘ خطبات سلمان‘ تاریخ المشاہیر‘ مسح جراب‘ استقامت‘ مکاتیب سلمان‘ برہان‘ سفر نامہ حجاز‘ الصلاۃ والسلام اور آئینہ تصوف وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )
خطبات سلیمان
Authors: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری
In Knowledge
خطابت اللہ تعالیٖ کی عطا کردہ، خاص استعداد کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے ما فی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار و نظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جو خطیب کتاب و سنت کے دلائل و براہینسے مزین وعظ کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہے جس کا سامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبہ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک اتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔جس کے پیشِ نظر بہت سی کتابیں خطبات کے نام سے لکھی جا چکیں ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’خطبات سلیمان‘‘ عبد المجید خادم عفی عنہ نے مولاناسید قاضی سلیمان رحمۃ اللہ کے علمی و تبلیغی خطبے جمع کئے ہیں ۔ جو کہ ریاست پٹیالہ کے سیشن جج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم سیرت نگار،محدث، مؤرخ ، جلیل القدرعالم اورمنفردادیب تھے۔ان کے قلم گوہر بارسے کتنی شہرہ آفاق کتابیں منصہ مشہودپرآئیں۔ رحمۃ للعالمین بھی سیدصاحب کی ایک بے مثال کتاب ہے ،جس میں موصوف نے سیرت نبوی ہی کو موضوع بنایاہے اوربڑے ہی ادبی وعلمی انداز سے رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگرکیاہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں دس(10) علمی اور تبلیغی خطبے ہیں ،جن میں متعدد اور متنوع جہات پربحث کی گئی ہے ۔اگر اس کتاب کا آپ مطالعہ کریں گے تو معلوم ہو گا کہ ان خطبوں میں کتنا علمی مواد موجود ہےاور یہ کتاب مبلغین، واعظین اور عوام کے لئے بہترین تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صاحب تصنیف کی خدمت کو قبول فرمائے اور قاضی صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین۔ (رفیق)
الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف
Authors: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری
سورۃ یوسف قرآن مجید کی 12 ویں سورت جس میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺکی مکی زندگی کے آخری دور میں یہ سورت نازل ہوئی۔سورہ یوسف قرآن مجید کی وہ واحد سورہ ہے جو اپنے اسلوب بیاں، ترتیب بیاں اور حسن بیاں میں باقی سے منفرد اور نمایاں ہے۔ پوری سورہ مبارکہ کا مضمون سیدنا یوسف کی سیرت کے نہایت اجلے پہلو، عفت و عصمت اور پاکیزہ سیرت و کردار پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری کی تصنیف ہے ۔قاضی صاحب نے جون 1921 ء کو سفر حج کیا اور اگست تک مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیز رہے ۔قاضی صاحب نے وہی سورۂ یوسف کی تفسیر لکھنے کا آغاز کیا 22 اگست 1921ء کو تقریبا دو مہینے میں اس سورہ کی تفسیرمکمل کرلی تھی۔خاتمۂ تفسیر کے دس بارہ صفحے انہوں نے واپسی کے وقت جہازمیں لکھے اور آخر کے بارہ چودہ صفحات ان مشاہیر کے مختصر حالات پر مشتمل ہیں جن کا ذکر تفسیر میں کیاگیا ہے ۔قاضی صاحب نے اس تفسیر میں مصر کی پوری تاریخ، وہاں کے دریاؤں ، نہروں ، تصنیف کے زمانے تک کےاخباروں ،پہاڑوں ، اہرام مصر ، اہم شخصیتوں کا ذکر کیا ہے¬۔ اور وہاں کی مختلف حکومتوں اور حکمرانوں کا تذکرہ بالترتیب کیا ہے ۔تفسیر کی زبان اور انداز بیان نہایت عمدہ ہے ۔ اس تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قاضی صاحب پورے قرآن مجید کی تفسیر لکھتے توایک جید سیر ت نگار ہونے کے ساتھ بہت بڑے مفسربھی ہوتے ۔قاضی صاحب نے دوسرے حج بیت اللہ سے بذریعہ بحری جہاز واپس آتے ہوئے 30 مئی 1930ء کو جہاز میں وفات پائی۔جہاز میں موجود مولانا اسماعیل عزنوی نے ان کی نماز جناز ہ پڑھائی اور میت کو سمندر کی لہروں کے سپرد کردیاگیا۔اللہ تعالیٰ قاضی کو جنت الفردو س میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے ۔(آمین) (م۔ا)
تائید الاسلام
Authors: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری
عقیدۂ حیات مسیح یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور ان کا قرب قیامت اس دنیا میں دوبارہ نازل ہونا مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے جوقرآن اوراحادیث سے منصوص ہے۔ حیات عیسیٰ کا منکر دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ محدثین نے اپنی کتبِ حدیث میں ’’نزولِ عیسیٰ ابن مریم‘‘ کے عنوان سے مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ ہر دور میں اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ 1891ء میں مرزا قادیانی نے حیات مسیح کا انکار کیا اور اپنے نام نہاد الہام کی بنیاد پر وفات مسیح کا عقیدہ گھڑا اور خود مسیح موعود بن بیٹھا حالانکہ مرزا قادیانی نے جو پہلی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے لکھی، اس میں قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے دوبارہ نازل ہونے کا ذکر کیا اور اس عقیدہ پر تقریباً 12 سال تک قائم بھی رہا۔ پھر یکایک اپنے ’’خاص الہام‘‘ کی بنیاد پر وفات مسیح کا اعلان کر دیا۔ اس نے وفات مسیح کے موضوع پر ’’فتح اسلام‘‘، ’’توضیح مرام‘‘ اور ’’ازالہ اوہام‘‘ کے نام سے کتابیں لکھیں جن میں قرآن کریم کی تیس آیات میں معنوی تحریف کر کے تحریر کیا کہ ان آیات سے وفات مسیح کا ثبوت ملتا ہے۔ مرزا قادیانی کے ہمعصر علمائے کرام نے مرزا قادیانی کی مذکورہ کتابوں کا مدلل جواب دیا۔ بعض اہل علم نے مرزا قادیانی کو چیلنج دیا کہ ان کی کتابوں میں دیے گئے دلائل کو توڑنے اور بعض مصنفین نے تو دلائل توڑنے کا جواب دینے والوں کو انعام دینے کا اعلان بھی کیا لیکن نہ تو مرزا قادیانی کو جواب دینے کی ہمت ہوئی اور نہ کسی قادیانی ہی نے انعامی چیلنج کو قبول کیا اور یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے۔مرزا قایانی کے رد میں لکھی جانے والی کتابوں میں’’غایت المرام‘‘ اور ’’تائید الاسلام‘‘ نامی کتابیں قابل ذکر ہیں جو مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی ’’رحمۃ للعالمینﷺ‘‘ کے مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصوریؒ نے رقم فرمائیں اور یہ کتب دراصل مرزا قادیانی کی تصانیف فتح الاسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام کا مدلل جواب تھیں۔ انھوں نے مرزا قادیانی کے پاس اپنی مذکورہ کتابیں اس خلوص نیت سے بھیجیں کہ اس کی اصلاح ہو سکے۔ قاضی صاحب مرحوم نے مناظرہ بازی کے بجائے علمی مکالمہ کا راستہ اپنایا۔ کتاب کے ساتھ ایک پیش گوئی بھی لکھ کر روانہ کی۔ انھوں نے لکھا:’’چونکہ آپ پیش گوئیاں بہت کرتے ہیں اس لیے بہ توفیق الٰہی، میں بھی تین باتیں لکھ دیتا ہوں:(1)آپ کو حج نصیب نہیں ہوگا۔(2) آپ سے اس کتاب کا جواب نہ بن پڑے گا۔(3) آپ کی موت میری موت سے قبل ہوگی۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاضی صاحب کتاب ’’غایت المرام‘‘ کی اشاعت کے بعد مرزا قادیانی پندرہ سال زندہ رہا لیکن جواب لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ حج ہی نصیب ہوا اور مرزا کی موت بھی پہلے واقع ہو گئی۔ زیر تبصرہ ’’ تائید الاسلام‘‘برصغیر نامور مؤرخ وسیرت نگار علامہ قاضی محمد سیلمان منصوپوری کی تصنیف ہے ۔قاضی صاحب کی یہ تصنیف 1998ء میں منصۂ شہود پر آئی تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد باطلہ کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی مسیح موعود اور مہدی کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ ابتدائے کتاب میں ان تیس قرآنی آیات کی صحیح تفسیر پیش کی ہے جن سے استدلال کرتے ہوئے مرزا نے سید نا عیسیٰ کووفات یافتہ ثابت کیا تھا اور یہ لکھا تھاکہ اب وہ دنیامیں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ قاضی صاحب نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک ایک عبارت کو